چینی بینک سی پیک پروجیکٹس میں پیسہ لگانے سے کترانے لگے، تہلکہ خیز دعویٰ، انتہائی پریشان کن دعویٰ سامنے آگیا

چینی بینک سی پیک پروجیکٹس میں پیسہ لگانے سے کترانے لگے، تہلکہ خیز دعویٰ، ...
چینی بینک سی پیک پروجیکٹس میں پیسہ لگانے سے کترانے لگے، تہلکہ خیز دعویٰ، انتہائی پریشان کن دعویٰ سامنے آگیا

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چین سی پیک کے منصوبے میں بھاری سرمایہ کاری کر رہا تھا اور کئی چینی بینک سی پیک کے تحت بننے والے منصوبوں میں پیسہ لگا رہے تھے۔ اس منصوبے کو پاکستان کا مستقبل قرار دیا جا رہا تھا لیکن اب بزنس ریکارڈر نے اس حوالے سے تشویشناک دعویٰ کر دیا ہے۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال میں چینی بینک اور مالیاتی ادارے سی پیک کے تحت بننے والے منصوبوں میں پیسہ لگانے سے کترانے لگے ہیں۔ جس کی وجہ سے جاری منصوبوں تعطل کا شکار ہو رہے ہیں اور ان پر کام کی رفتار سست ہو رہی ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت کے وزراءکی طرف سے گزشتہ حکومت، بالخصوص سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال پر کڑی تنقید کی جاتی رہی ہے کہ انہوں نے سی پیک کے منصوبوں میں کرپشن کی اور کک بیکس لیے۔ حتیٰ کہ نیب نے بھی اس معاملے پر تفتیش شروع کر دی جو بعد میں ختم یا ملتوی کر دی گئی۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے چینی بینک اور مالیاتی اداروں نے منصوبوں میں پیسہ لگانے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ ہفتے اپنے دورہ چین کے دوران چینی حکام کے ساتھ یہ معاملہ بھی اٹھایا کہ چینی بینک سرمایہ کاری سے کترا رہے ہیں۔ 

رپورٹ کے مطابق ذرائع نے مزید بتایا کہ 13اگست 2020ءکو چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ نے سی پیک کے منصوبوں پر تعمیراتی کام کے حوالے سے ایک تفصیلی بریفنگ بھی دی ہے۔ اس بریفنگ میں انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2019-20ءمیں سی پیک کے تحت بننے والے توانائی کے منصوبوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ سی پیک کے تحت کل 22پاور پراجیکٹ بن رہے ہیں۔ ان میں سے 9کی منظوری دی جا چکی ہے۔ 8زیرتعمیر ہیں اور 5پائپ لائن میں ہیں۔ 

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -