اولاد کے لیے عظیم تحفہ

اولاد کے لیے عظیم تحفہ

  

مولانا حافظ فضل الرحیم اشرفی

مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور

”حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کسی باپ نے اپنی اولاد کو کوئی عطیہ اور تحفہ حسن ادب اور اچھی تربیت سے بہتر نہیں دیا۔“(ترمذی شریف)

یہ حقیقت ہے کہ نیک اولاد دُنیا میں بہت بڑی نعمت، آنکھوں کی ٹھنڈک اور آخرت کے لیے صدقہ جاریہ ہے لیکن یہی اولاد اگر دینی اور اخلاقی قدروں سے بیگانہ ہو تو ماں باپ کو اس کے لیے ابتداء ہی سے تدابیر اختیار کرنی پڑتی ہیں یہ بات علم نفسیات اور اخلاقیات کے ماہر تسلیم کر چکے ہیں۔ اسلام نے اس طریقے کی مکمل تعلیم دی کہ بچے کو ابتداء ہی سے دینی قدروں سے کیسے روشناس کرایا جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر صاحب اولاد پر اس کی اولاد کا یہ حق واضح فرمایا ہے کہ وہ بالکل ابتداء ہی سے اولاد کی دینی تعلیم اور تربیت کی فکر کرے۔ ابتداء سے مراد یہ نہیں کہ جب وہ چلنا شروع کرے اور باتیں کرنا اور سمجھنا شروع کرے تب دینی تعلیم کی فکر کی جائے۔ بلکہ پیدا ہونے کے فوراً بعد دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہنے کی تعلیم دی۔ جدید سائنسی تجربات اور تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پیدائش کے وقت ہی سے بچہ کے ذہن میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ جو آوازیں وہ کان سے سنے اور جو آنکھوں سے دیکھے اس کا اثر قبول کرتا ہے۔ پھر اس کے بعد نام رکھنے کا مرحلہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 

 یعنی آدمی اپنے بچے کو سب سے پہلا تحفہ اس کا نام دیتا ہے اس لیے اسے چاہیے کہ وہ اس کا اچھا نام رکھے۔ 

اچھا نام وہ ہے جس کا مطلب اچھا ہو غیر اسلامی اور غیر شرعی مفہوم نہ ہو۔ پھر جب بچہ بولنا شروع کرے تو فرمایا

 یعنی جب بچہ بولنے لگے تو اس کی زبان کا افتتاح کلمہ طیبہ لاالہ الا اللہ سے کراؤ۔

معاشرہ میں اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بچہ کو اچھی خاصی نظمیں، کہانیاں، اپنی زبان اور دوسری زبانوں میں یاد ہوتی ہیں لیکن کلمہ نہیں سنا سکتے۔ اس میں ماں باپ کی بڑی ذمہ داری ہے جب بچہ اور ذرا بڑا ہو تو ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:

”فرمایا کہ کسی باپ نے اچھی تربیت سے زیادہ اچھا تحفہ اپنی اولاد کو نہیں دیا۔“

بچوں کو مہنگے سے مہنگے، خوبصورت ترین کپڑے اور جوتے پہنائے جائیں اچھے سے اچھے کھلونے لا کر دیں لیکن اگر ان میں ادب و احترام نہیں سلیقہ، تمیز نہیں‘ اس کے اخلاق بہتر نہیں تو یقین جانیں محض پیسہ خرچ کر دینے سے اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں بنتی۔ سادہ سا بچہ ہو سادے سے کپڑے پہنے ہوں، اچھے اخلاق اور اسلامی قدروں سے آراستہ ہو تو وہ اپنے ماں باپ کی تربیت کا چلتا پھرتا اشتہار ہوتا ہے۔

ایک صاحب اپنے بچے کے بارے میں شکایت لے کر آئے کہ اس کی زبان پاکیزہ نہیں اور بات کرنے کی تمیز تو بالکل نہیں۔ میں نے گذارش کی کہ میں انشاء اللہ سمجھا دوں گا آئندہ نہیں کرے گا تو بچہ کے والد نے خوب بڑی سی گالی نکال کر بڑے عجیب انداز میں کہا، جناب میں نے اسے خوب سمجھایا ہے یہ اس طرح ٹھیک نہیں ہو گا اس کی ہڈیاں توڑ دیں، میں نے اسی وقت بچے کو باہر بھیج دیا اور اس کے والد سے کہا، جناب بیماری کی تشخیص تو ہو چکی ہے پہلے آپ اپنی زبان پاکیزہ بنائیں، اپنے اخلاق بہتر بنائیں پھربچہ بھی ٹھیک ہو جائے گا۔

ہر بچہ وہی کرتا ہے جو اس کے ذہن میں نقش ہوتا ہے اور نقش وہی کچھ ہوتا ہے جو وہ کانوں سے سنتا ہے، آنکھوں سے دیکھتا ہے، گھر میں آئے دن میاں بیوی کے جھگڑے آپس کی بدزبانی، ماں باپ کا بچوں سے منفی انداز میں گفتگو کرنا، یہ سب کچھ اس کے ذہن میں ریکارڈ ہو جاتا ہے۔ پھر ذہن میں جب وہ کیسٹ چلتی ہے تو منہ سے وہی کچھ سننے کو ملتا ہے۔ کیسٹ میں ریکارڈ کچھ اور کیا جائے، سنا کچھ اور جائے یہ کیسے ممکن ہے۔

اس لیے اولاد کو دینی قدروں سے آگاہی کی پہل تدبیر، تدبیر منزل ہے۔ اپنے گھروں کو انہی قدروں سے بچانے کے بعد اولاد پر اس کے نقش یقینا آئیں گے۔ ایک ماں اپنے بچے کو استاد کے پاس لے گئی استاد صاحب نے قاعدہ شروع کرایا۔ بچے کو الف ب بھی نہیں آتی تھی لیکن بچے نے بتایا کہ اسے قرآن حکیم کے پندرہ پارے زبانی یاد ہیں اور پھر سنائے بھی۔ استاد بہت حیران ہوئے۔ ماں کو بلایا تو اس نے بتایا کہ دراصل بات یہ ہے کہ میں جب اسے سلاتی تھی تو لوری سناتے وقت قرآن مجید پڑھتی تھی۔ اس نے بار بار سنا اور سن کر یاد کر لیا۔ لیکن مجھے صرف پندرہ پارے یاد تھے اس لیے باقی قرآن حکیم اسے یاد نہ ہوا یہ بچے کا بچپن تھا بڑے ہو کر ان کا نام خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمہ اللہ علیہ ہوا۔ یہی تشریح ہے اس جملہ کی کہ اولاد کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں باپ کو اولاد کی تربیت کے بارے میں کسی قدر حساس رہنے کی تعلیم دی۔ اس کا اندازہ حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہوتا ہے فرمایا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف فرما تھے تو میری والدہ نے مجھے پکارا اور کہا، ادھر آؤ میں کوئی چیز دوں گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اس بچے کو کیا چیز دینے کا ارادہ کیا تھا؟ والدہ نے کہا ایک کھجور دینے کا ارادہ کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کہنے کے بعد اگر تم کوئی چیز بچہ کو نہ دیتیں تو تمہارے نامہ اعمال میں ایک جھوٹ لکھا جاتا۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ بچوں کو بہلانے کے لیے بھی جھوٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اسے نماز پڑھنے کی پابندی کرانی چاہیے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جب بچہ دس سال کا ہو جائے تو نماز کے بارے میں سختی بھی کریں۔ اس طرح جب بچہ باشعور ہو گا تو اس کو عبادت کی عادت ہو گی۔ جب سکول، مدرسہ میں تعلیم کا وقت آئے تو اس کی عادات پر والدین کی گہری نظر ہونی چاہیے۔ اس کے اٹھنے بیٹھنے پر بھی نگاہ رکھنی چاہیے تاکہ خراب ماحول سے آلودہ نہ ہو جائے۔ قرآن حکیم کی تلاوت اور مختلف گناہوں سے پرہیز کی تلقین کے ساتھ ساتھ گھر کے ماحول کو مکمل طور پر دینی اور اخلاقی قدروں سے آراستہ رکھنا چاہیے۔ جس میں صبر و شکر، قناعت، ہمدردی جیسی صفات ہوں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کی اولاد کو نیک، فرمانبردار اور دیندار بنائے۔

 جب بچہ سات سال کا ہو جائے تو اسے نماز پڑھنے کی پابندی کرانی چاہیے 

اسلام نے تعلیم دی کہ بچے کو ابتداء ہی سے دینی قدروں سے کیسے روشناس کرایا جائے

مزید :

ایڈیشن 1 -