مہنگائی:گڈ گورننس اور ایک ریلی کی مار ہے!

مہنگائی:گڈ گورننس اور ایک ریلی کی مار ہے!

ہمیں مہنگائی کی صحیح تاریخ پیدائش تو یاد نہیں، لیکن بزرگوں سے یہی سنا کہ موصوفہ ہماری پیدائش سے قبل وارد ہو چکی تھیں۔ اتنا ضرور یاد ہے کہ بچپن اور جوانی میں اپنے اشغال کے سبب جو لعن طعن ہمارے حصے میں آئی۔ اس سے سوا اس حرافہ مہنگائی کے حصے میں آئی۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے بزرگ ہمارے طور اطوار کی درستگی کے بارے میں کچھ زیادہ پُرامید نہ رہے، بلکہ ایسی ہی کچھ امیدیں انہیں مہنگائی کے ”سدھرنے“ کے بارے میں لاحق ہو گئیں۔ عمر کا بیشتر حصہ آٹے دال کا بھاﺅ تاﺅ کرتے اور بھگتتے گزرا تو آہستہ آہستہ ہم بھی بزرگوں کی رائے سے متفق ہو گئے۔ اپنے بارے میں بھی اور مہنگائی کے بارے میں بھی۔ گزشتہ چند مہینوں سے البتہ کچھ ڈھارس سی بندھی ہے کہ کم از کم مہنگائی کا سدباب اب ہوا کہ ہوا، بلکہ سدباب بھی کیا، مکمل قلع قمع ہی سمجھیں۔ عین ممکن ہے کہ آنے والی نسلیں چراخِ رخِ زیبا لے کر بھی ڈھونڈیں گی تو مہنگائی تبرکا ً بھی نہیں ملے گی۔

سال ہا سال سے میاں محمد شہباز شریف کی گڈگورننس سے آنکھ بچا کر پوشیدہ مہنگائی اب ان کی عقابی نگاہوں میں آ گئی ہے۔ انہوں نے حسب معمول اور بلا تاخیر گڈ گورننس کا آہنی پنجہ مہنگائی کے گلے پر گاڑ دیا ہے۔ سپیشل مجسٹریٹ اور ضلعی انتظامیہ کے ذمہ داران بازاروں اور مارکیٹوں میں چھاپے پر چھاپے مار رہے ہیں۔ ”کچھ حسینوں کے خطوط اور کچھ تصاویر بتاں“ پرائس لسٹوں کی صورت میں برآمد ہوتے ہیں۔ جرمانے اور زنداں کی موقع پر ہی سزا سنا دی گئی.... خس کم جہاں پاک.... مہنگائی اب بازاروں کا رخ کرنے کی دوبارہ ہمت کرے بھی تو گڈ گورننس کو سامنے چوکس پائے گی۔

مہنگائی کی کمر توڑ نے میں سہواً اگر کچھ کسر صوبائی حکومت سے رہ گئی تھی تو اس کو پورا کرنے کے لئے گزشتہ ہفتے تحریک انصاف نے لاہور میں زبردست ریلی نکالی۔ لاہور بھر سے، بلکہ دیگر شہروں سے بھی قافلہ در قافلہ لوگ مہنگائی کو ہانک کر ناصر باغ مال روڈ پر گھیر لائے۔ سرِ شام عمران خان، شیخ رشید، شاہ محمود قریشی و دیگر رہنماﺅں کی تقریروں کے سونامی کے سامنے مہنگائی کو ایڑیاں رگڑتے دیکھا گیا۔ سردی اور شام جلد اتر آئی، قائدین اور شرکاءکو گھر جلدی لوٹنا پڑا، ورنہ وہ سب ایڑیاں رگڑتی مہنگائی کو لوٹ پوٹ ہو کر ”ٹھنڈا“ ہوتے ضرور دیکھتے۔ تحریک انصاف نے کچی گولیاں نہیں کھیلیں۔ اس یقین کے ساتھ ہی پنڈال چھوڑا ہو گا کہ مہنگائی کا دم واپسیں اب یقینا عدم کی حدود میں داخل ہو چکا ہو گا۔

کالج اور یونیورسٹی کے دوران پڑھی ہوئی معاشیات کی کتابوں کو ہم نے ابھی تک سینت کر رکھا ہوا ہے۔ پیشہ ورانہ ملازمتیں اور ذاتی دلچسپی کچھ اس نوعیت کی رہی کہ اکنامکس، بین الاقوامی تجارت اور بزنس سٹڈیز پر کتابیں، رسالے اور مضامین پڑھنے اور جمع کرنے کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔ اپنے آس پاس مہنگائی کو ہر آن پاﺅں پسارتے دیکھ کر اکثر اوقات ہم ان کتابوں میں اس بلا کا توڑ ڈھونڈنے کی کوشش بھی کرتے رہے۔ معاشیات، یعنی اکنامکس ایک مربوط شعبے کے طور پر ڈھائی تین سو سال قبل سامنے آئی۔ عام زندگی، کاروبار اور کاروبارِ حکومت کے ساتھ اس کے گہرے تعلق سے آنے والے برسوں میں اس مضمون میں متنوع اور دقیق موضوعات کا انبار جمع ہو گیا۔ طلب اور رسد جیسے بنیادی ستونوں پر کھڑی اس عمارت میں وقت کے ساتھ ساتھ توسیع ہوتی گئی۔ بیسویں صدی میں مارکیٹ کی تجسیم، 1930ءکی کساد بازاری، دو عالمی جنگوں، اس کے بعد متحارب ملکوں کی معاشی تشکیل ِ نو، گلوبلائزیشن اور انفرمیشن ٹیکنالوجی نے اکنامک کا احاطہ اور اثر پذیری ہر گھر تک پھیلا دیا ہے۔

طلب اور رسد کے آسان معاشی نظریات سے شروع ہونے والا مضمون اب Econometrics کے طویل اور پیچیدہ حسابی فارمولوں اور اکنامک ماڈلز کے انتہائی نفیس نظریات کے سہارے ستاروں سے آگے نئے جہانوں کو چھو رہا ہے۔ نوبل انعامات کا سلسلہ بنیادی طور پرسائنس کے لئے مختص تھا، لیکن اس مضمون کی اہمیت کے پیش نظر1969ءسے اکنامکس میں خصوصی نوبل انعام کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ حالیہ برسوں میں مارکیٹ کے پیچیدہ نظام کے مختلف پہلوﺅں پر تحقیق، فرم اور روزگار کے تعلق سمیت کئی دیگر دقیق علمی موضوعات میں تحقیق پر نوبل انعام دیئے گئے۔ پسماندہ اور ترقی یافتہ ملکوں کے مابین خلیج عملاً اکنامکس کی شدھ بد اور عمل داری پر پھیلی ہوئی ہے۔ اکنامکس کی اہمیت اور اس کے ذریعے مہنگائی کے خاتمے کے لئے ہم نے ہمیشہ اکنامکس کو مسیحا کی طرح جانا اور مدد کی امید رکھی، لیکن اب یقین ہو چلا ہے کہ اکنامکس پڑھ کر اس سے امیدیں باندھ کر وقت کا زیاں کیا۔

 میاں محمد شہباز شریف کی گڈ گورننس کے ہاتھوں مہنگائی کے ”رنگے ہاتھوں“ پکڑے جانے اور بعد ازاں تحریک انصاف کی ریلی کے سامنے مہنگائی کو ایڑیاں رگڑائے جانے کے بعد ہمیں یقین ہو چلا ہے کہ اب مہنگائی کا دیس نکالا یقینی ہو چکا ہے۔ اسی ادھیڑ بن میں سوچا کہ اکنامکس پر جمع کی ہوئی کتابوں کی اب کیا حاجت ہے۔ خاصی موٹی، ضخیم کتابیں ہیں۔ اکثر ہارڈ کور میں شائع شدہ ہیں۔ کاغذ کی کوالٹی بھی عمدہ ہے۔ سوچا کہ اب ان ”بے فائدہ“ کتابوں کو ردی والا اونے پونے بھی لے جائے گا تو ”چار پیسے“ دے کر ہی جائے گا۔

یارِ دیرینہ کو آخری بار خدا حافظ کہنے سے پہلے اسے ایک بار جی بھر کر دیکھنے کے طور پر ہم نے ان کتابوں کی سر سری ورق گردانی شروع کر دی۔ جوں جوں ورق پلٹتے گئے، کم بخت ذہن پلٹتا گیا۔ ذہن الجھ کر رہ گیا۔ گزشتہ اڑھائی تین برسوں میں کسی افلاطون کو یہ کیوں نہ سوجھی کہ مہنگائی دقیق معاشی نظریات اور حکومتی پالیسیوں کی طویل ریاضت کی نہیں، بلکہ چند سپیشل مجسٹریٹوں کے چھاپوں کی مار ہے۔ ادھر پرائس لسٹوں سے مہنگا بیچنے والوں کو جرمانے اور سزا کے تازیانے پڑے، ادھر مہنگائی اور مہنگا بیچنے والوں کو چھٹی کا دودھ یاد آیا۔ اِدھر مارکیٹ کمیٹیوں کے چند اجلاس ہوئے اور ضلعی انتظامیہ کی ”آنیاں جانیاں“ شروع ہوئیں۔ اُدھر مہنگائی کو سینگ سمانے کی جگہ نہ ملی۔ حکومت ِ وقت کی کوششوں میں اگر کوئی ممکنہ سقم رہ جائے تو سونامی اپوزیشن کی ایک آدھ ریلی مہنگائی کے بچے کھچے ”بیج“ کا ناس مارنے کے لئے کافی ہے۔

ذہن الجھ کر رہ گیا ہے کہ درجنوں نوبل انعام یافتہ معیشت دانوں، سینکڑوں جغادری پروفیسروں، ماہرین اور ترقی یافتہ ملکوں کی حکومتوں کو اتنے دقیق معاشی تصورات میں جان کھپانے اور معاشی پالیسیوں کی بھٹی میں خود کو جلانے کا کشٹ کیوں اٹھانا پڑا؟ انہیں اس قدر سادہ نسخہ کیوں سمجھ نہیں آیا کہ مہنگائی کے خاتمے کے لئے فقط گڈ گورننس سے لیس چند سپیشل مجسٹریٹ، متحرک ضلعی انتظامیہ اور ایک چوکس سونامی اپوزیشن ہی کافی ہوتی ہے۔ بے چارے معیشت دان، پھوہڑ ماہرین معیشت، ترقی یافتہ ملکوں کے کوڑھ مغز حکمران اور ان کے سادہ لوح عوام، اللہ ان پر رحم کرے!!!

مزید : کالم