اصلاحات کی طرف پیش قدمی، اطلاعات تک رسائی کا قانون

اصلاحات کی طرف پیش قدمی، اطلاعات تک رسائی کا قانون

  

تمام پسماندہ معاشروں کی طرح ہمارا بھی یہ المیہ ہے کہ ارباب اختیار و اقتدار کی طرف سے ہماری قسمت سے متعلق ہونے والے فیصلوں سے ہم بے خبر رہتے ہیں یا رکھے جاتے ہیں۔ اپنی تاریخ کے المناک ترین و اقعات آج تک تاریخ کی بند کتابوں میں دفن پڑے ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ سانحہ اوجڑی کیمپ کس کی کارستانی تھی؟ سید اکبر نام کے قاتل نے لیاقت علی خان کو کس کے کہنے پر قتل کیا تھا؟ڈھاکہ کے ڈوبنے کی کیا وجوہات تھیں؟ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں کیا لکھا ہے؟ سانحہ بہالپور کے درپردہ مقاصد اور کارگل جنگ شروع کرنے اور ختم کرنے کے محرکات کیا تھے؟ ....یہ سب سرکار کی دبیز فائلوں میں، سات پردوں کے پیچھے عوام الناس کی نگاہ سے ہمیشہ کے لئے اوجھل پڑاہے۔ شاید کبھی ہمارے وطن میں بھی کوئی جولین اسانج پید ہو اور وکی لیکس کی صورت میں یہ سب منظر عام پر لے آئے یا پھر انڈیا کی تہلکہ ڈاٹ کام جیسی کوئی چیز عوام کو ان کی قسمت کے حوالے سے ہونے والے اہم ترین واقعات سے روشناس کرے، مگر فی الحال ایسا کچھ نظر نہیں آرہا اور یوں لگ رہا ہے کہ ان واقعات کے حوالے سے ہونے والی چہ مگوئیاں ہی ہمارے لئے کل معلومات رہیں گی۔

کیا یہ ایک حیرتناک امر نہیں کہ عوام کے ووٹوں سے بننے والی حکومت، عوام کی رقم سے چلنے والا حکومتی نظام، اسی پبلک منی سے تنخواہیں لینے والے افسران عوام کی قسمت سے متعلق فیصلے کرتے ہیں، مگر عوام ان سے مکمل طور پر بے خبر ہوتے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان کا پیسہ کب، کہاں اور کیسے خرچ کیا گیا؟عوام کے خون پسینے سے قائم ہونے والے ادارے عوام کو کسی بھی اہم معاملے کی ہوا تک نہیں لگنے دیتے.... عوام کی یہی بے خبری اس فرسودہ نظام کو قائم و دائم رکھنے میںممد ہوتی ہے، جہاں میرٹ کا کھلم کھلا قتل عام ہوتاہے، قانون پا مال ہوتا ہے، طاقتور کمزور کی گردن پر سوار رہتا ہے اور عوام اپنی قسمت کو کوسنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ اسی بے خبری کی وجہ سے عوام کا پیسہ اشرافیہ کے اللّوں تلوں پر خرچ ہوتا اور سات پردوں کی وجہ سے کوئی احتساب بھی ممکن نہیں ہوپاتا۔سیاسی اشرافیہ، ملٹری وسول افسر شاہی اورسرکار کے مختار ومقتدر ارباب سب اسی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں اور عوام ان کے کرتوتوں سے لاعلم رہتے ہیں۔یہی مقتدر لوگ ©"بابربہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست " کے مصداق بن کر ریاست اور اس کے عوام کی ناﺅ ڈبو دیتے ہیں، مگر عوام بے خبر ہی رہتے ہیں۔

اس صورت حال میں خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت کی طرف سے نافذ کیا جانے والا اطلاعات تک رسائی کا عمومی قانون....Right to Information Law....بہار کے تازہ جھونکے کی مانند ہے، جس کے تحت ایک عام شہری کو بھی اس بات کا حق حاصل ہو گا کہ وہ سرکار کی ہر فائل، ہر فیصلے اور الماری کی ہر دراز تک رسائی حاصل کر سکے۔اس قسم کا قانون دنیا کے چند ہی گنے چنے ممالک میںموجود ہے، جنہیںویلفیئر سٹیٹ کا درجہ حاصل ہے ۔ ہم بھی اسلامی شریعت کی روشنی میں جمہوریت، مشاورت اور ترقی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں صوبائی حکومت کے محدود دائرہ کا ر میں ایک ایسا انقلابی قدم اُٹھایا گیا ہے جو ہمارے ملک کے مستقبل کا نقشہ تبدیل کر دے گا۔ اگرچہ یہاں ترکی و ایران جیسا کوئی ہمہ گیر انقلاب تو نہیں آیا، تاہم اصلاحات کی طرف ایک سفر ضرور شروع ہوا ہے۔

عوام کو اطلاعات تک رسائی کاحق دینا بھی تبدیلی کے اسی ہمہ گیر ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کے تحت خیبر پختونخوا کی موجودہ مخلوط حکومت قائم ہے۔ خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت کا یہ اولین فرض ہے کہ مثبت تبدیلی عوام کو نظرآئے۔ اطلاعات تک رسائی کا قانون اسی تبدیلی کی سمت میں سفر کا پہلا قدم ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد اب ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مقدر اور قسمت کے حوالے سے ہونے والے ہر فیصلے اور امر سے باخبر ہو سکے۔ اس قانون کے تحت سرکار کا تمام ریکارڈ پبلک ہو گا، جس تک ہر عام و خاص کو رسائی حاصل ہو گی۔ کوئی بھی ادارہ کسی بھی فرد کو کوئی بھی مطلوبہ معلومات دینے سے ہرگز انکار نہیں کر سکے گا۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد ہر سرکاری ادارہ اس امر کا پابند ہو گا کہ وہ تمام بنائے جانے والے قوانین، قواعد، ضوابط، احکامات، نوٹیفیکیشن ،سرکاری اداروں کے حوالے سے معلومات، بشمول ادارے کی ساخت، تنظیم، کام، افراد کار اور ان کے لئے مخصوص شدہ مراعات وغیرہ کو عوام کی معلومات کے لئے شائع کرے۔ نہ صرف یہ ،بلکہ فیصلہ سازی و قانونی سازی کے لئے اختیار کئے گئے طریقہ کار، اس کے اہم نکات، متعلقہ قوانین و ضوابط اور معلومات کو بھی عوام کی اطلاع کے لئے شائع کرے گا۔

اس کے علاوہ ہر ادارہ اپنا مالیاتی حساب کتاب، مستفید ہونے والے افراد کی فہرستیں، اختیار کردہ طریقہ کار اور ہر اس امر کو بھی شائع کرنے کا پابند ہو گا جو عوام کی دلچسپی کا باعث ہو ۔اسی قانون کے تحت سرکاری ادارے سالانہ بنیادوں پر اپنی کارکردگی رپورٹیں بھی شائع کریں گے ۔ تمام اداروں کو اس امر کا بھی پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ ایک افسر نامزد کرے جو درخواست دہندہ کو مطلوبہ معلومات فراہم کرنے میں سہولت مہیا کرے۔ ایسا نامزدافسر اس امر کا پابند ہو گا، وہ اس قانون کے تحت دی گئی درخواستوں کو مناسب طریقے سے نمٹائے اوردرکار معلومات درخواست دہندہ کو فراہم کرنے کا انتظام کرے ،جس کا حق ریاست کے ہر شہری کو حاصل ہے۔اگر کسی ادارے کے پاس مطلوبہ معلومات موجود نہیں ہوں گی اور اس ادارے کے علم میں یہ ہو کہ وہ معلومات کسی دوسرے ادارے کے پاس موجود ہیں تو وہ درخواست دہندہ کی اس ادارے کی طرف راہنمائی بھی کرے گا۔

Justice delayed is Justice deniedکے مصداق اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ کسی بھی درخواست پر کارروائی میں وقت کا اتنا ضیاع نہ ہو کہ اس کی افادیت ہی ختم ہو جائے۔ درخواست کے وصول ہونے کے صرف دس دن کے اندر اندر اس کے مطابق معلومات فراہم کرنا لازمی ہو گا، تاہم ناگزیر حالات میں مزید دس دن کا اضافی وقت دیا جائے گا ،جبکہ کسی فرد کی زندگی سے وابستہ ضروری معلومات صرف دو دن میں ہی مہیا کرنا ضروری ہوگا ۔اس قانون میں اس امر کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ صرف ان ناگزیر معلومات کوہی خفیہ رکھا جا سکے جو بین الاقوامی معاملات یاسیکیورٹی سے متعلق ہوں یا پھر ان کو ظاہر کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے لئے نقصان کا باعث بن سکے۔ متعلقہ ادارے اس امر کے پابند ہوں گے کہ وہ ان معلومات کو خفیہ رکھ سکیں ،جن کو فراہم کرنے سے پالیسی سازی میں رُکاوٹ کا اندیشہ ہو، کسی کی شخصی معلومات ہوں یا پھر کسی عدالتی حکم کے تحت خفیہ قرار دے دی گئی ہوں۔ان چند درجوں کے علاوہ اگر کوئی ادارہ کسی بھی قسم کی معلومات کی فراہمی میں لیت و لعل سے کام لے یا پھر درخواست گزار یہ سمجھے کہ اسے مطلوبہ معلومات مہیا نہیں کی جا رہیں تو اسے اس بات کا حق حاصل ہو گا کہ وہ اس قانون کے تحت قائم ہونے والے انفارمیشن کمیشن کے پاس اپنی شکایت درج کروا سکے گا۔ انفارمیشن کمیشن اس امر کا پابند ہو گا کہ وہ شکایت پر 60دن کے اندر اندر کارروائی کرے۔ اسی قانون کے تحت خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن قائم کیا جارہا ہے۔

ایک مکمل طور پر آزاد اور خود مختار کمیشن، جس کا سربراہ چیف انفارمیشن کمشنر ہو گا اور اس کے تین ارکان ہوں گے ،جنہیں انفارمیشن کمشنر کہا جائے گا۔ چیف انفارمیشن کمشنرایک ریٹائرڈ حکومتی افسر ہو گا، جبکہ اس کے ارکان میں ایک ہائیکورٹ کا ریٹائرڈ جج ، ایک سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کا وکیل اور ایک سول سوسائٹی کا نمائند ہ ہو گا۔ چیف کمشنر اور کمشنرز کی زیادہ سے زیادہ عمر 66سال ہو گی اور وہ صرف ایک مرتبہ ہی اس عہدے پر فائز رہ سکیں گے۔ ان کی مدت معاہدہ چار سال ہو گی۔انفارمیشن کمیشن نہ صرف اپنے روزمرہ کے امور انجام دے گا، بلکہ وہ سرکاری اداروں کے لئے وہ صورت بھی بنائے گا جس میںسرکاری ادارے اپنا ریکارڈ مرتب کریں گے۔ اگر کسی موقع پر درخواست دہندہ کی مطلوبہ معلومات بیس صفحات سے زائد ہوں گی تو ان کی فوٹوکاپی ، پرنٹنگ وغیرہ کا خرچ درخواست دہندہ کو ہی ادا کر نا ہوگا، تاہم کمیشن کو اس فیس میں ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا۔

کمیشن ضروری کارروائی کے لئے کیس متعلقہ اداروں کو بھجوائے گا۔ کمیشن ایک ایسی ہینڈ بُک بھی ترتیب دے گا جو عام فہم ہو اور اسے عوام کی معلومات کے لئے شائع بھی کرے گا۔ انفارمیشن کمیشن کو ہی اس امر کا اختیار ہو گا کہ وہ معلومات خفیہ رکھنے کے وقت میں کمی یا بیشی کر سکے ۔ کمیشن مزید اصلاحات کے لئے حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گا اور حکومتی کاغذات پر اپنے خیالات بھی دے گا۔انفارمیشن کمیشن کو اس امر کا اختےار ہو گا کہ وہ اپنے کام سرانجام دینے کے لئے تمام اختیارات استعمال میں لا سکے۔ مختلف شکایات کے حوالے سے انکوائری کرنا، متعلقہ اداروں سے ضروری کاغذات طلب کرنا، دفاتر کی انسپکشن کرنا ، اس قانون کے نفاذ میں رکاوٹ بننے والے سرکاری اہلکاروں پر 250روپے سے لے کر 25000روپے تک جرمانہ کرنا بھی کمیشن کے اختیار ات میں شامل ہوگا۔حکومت اس کمیشن کی مکمل مالی ضروریات پوری کرے گی اور بجٹ میں اس کے لئے باقاعدہ حصہ مختص کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا میں اس قانون کے نفاذ کے بعد اب یہ جرم ہے کہ کوئی بھی سرکاری ادارہ کسی بھی فر د کو ان معلومات تک رسائی دینے میں رکاوٹ بنے جو وہ جاننا چاہتا ہے۔ تما م سرکاری اداروں نے اپنے اپنے محکمہ جات کے لئے افسر(Focal Person) نامزد کر دیئے ہیں، تاکہ وہ محکمے سے متعلق معلومات عوام کودینے میں تعاون کر سکیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت کا یہ انقلابی قدم نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا میں حالات کی بہتری کا باعث بنے گا، بلکہ مرکز اور باقی صوبوں کو بھی اسی طرح کے اقدامات کرنے کی شہ ملے گی اورپورے ملک میں ایک عام آدمی کو بھی اس امر کا حق حاصل ہو جائے گا کہ اب تک مقدس سمجھی جانے والی ان خفیہ فائلوں اور کاغذات تک رسائی حاصل کر سکے، جن کے ساتھ اس کی قسمت اور اس کا مستقبل وابستہ ہے۔ کم از کم خیبر پختونخوا کی حد تک یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اب کوئی بھی مسودہ مقدس نہیں اور کوئی بھی فائل خفیہ راز نہیں ۔

تمام پسماندہ معاشروں کی طرح ہمارا بھی یہ المیہ ہے کہ ارباب اختیار و اقتدار کی طرف سے ہماری قسمت سے متعلق ہونے والے فیصلوں سے ہم بے خبر رہتے ہیں یا رکھے جاتے ہیں۔ اپنی تاریخ کے المناک ترین و اقعات آج تک تاریخ کی بند کتابوں میں دفن پڑے ہیں اور ہم نہیں جانتے کہ سانحہ اوجڑی کیمپ کس کی کارستانی تھی؟ سید اکبر نام کے قاتل نے لیاقت علی خان کو کس کے کہنے پر قتل کیا تھا؟ڈھاکہ کے ڈوبنے کی کیا وجوہات تھیں؟ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں کیا لکھا ہے؟ سانحہ بہالپور کے درپردہ مقاصد اور کارگل جنگ شروع کرنے اور ختم کرنے کے محرکات کیا تھے؟ ....یہ سب سرکار کی دبیز فائلوں میں، سات پردوں کے پیچھے عوام الناس کی نگاہ سے ہمیشہ کے لئے اوجھل پڑاہے۔ شاید کبھی ہمارے وطن میں بھی کوئی جولین اسانج پید ہو اور وکی لیکس کی صورت میں یہ سب منظر عام پر لے آئے یا پھر انڈیا کی تہلکہ ڈاٹ کام جیسی کوئی چیز عوام کو ان کی قسمت کے حوالے سے ہونے والے اہم ترین واقعات سے روشناس کرے، مگر فی الحال ایسا کچھ نظر نہیں آرہا اور یوں لگ رہا ہے کہ ان واقعات کے حوالے سے ہونے والی چہ مگوئیاں ہی ہمارے لئے کل معلومات رہیں گی۔

کیا یہ ایک حیرتناک امر نہیں کہ عوام کے ووٹوں سے بننے والی حکومت، عوام کی رقم سے چلنے والا حکومتی نظام، اسی پبلک منی سے تنخواہیں لینے والے افسران عوام کی قسمت سے متعلق فیصلے کرتے ہیں، مگر عوام ان سے مکمل طور پر بے خبر ہوتے ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان کا پیسہ کب، کہاں اور کیسے خرچ کیا گیا؟عوام کے خون پسینے سے قائم ہونے والے ادارے عوام کو کسی بھی اہم معاملے کی ہوا تک نہیں لگنے دیتے.... عوام کی یہی بے خبری اس فرسودہ نظام کو قائم و دائم رکھنے میںممد ہوتی ہے، جہاں میرٹ کا کھلم کھلا قتل عام ہوتاہے، قانون پا مال ہوتا ہے، طاقتور کمزور کی گردن پر سوار رہتا ہے اور عوام اپنی قسمت کو کوسنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ اسی بے خبری کی وجہ سے عوام کا پیسہ اشرافیہ کے اللّوں تلوں پر خرچ ہوتا اور سات پردوں کی وجہ سے کوئی احتساب بھی ممکن نہیں ہوپاتا۔سیاسی اشرافیہ، ملٹری وسول افسر شاہی اورسرکار کے مختار ومقتدر ارباب سب اسی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں اور عوام ان کے کرتوتوں سے لاعلم رہتے ہیں۔یہی مقتدر لوگ ©"بابربہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست " کے مصداق بن کر ریاست اور اس کے عوام کی ناﺅ ڈبو دیتے ہیں، مگر عوام بے خبر ہی رہتے ہیں۔

اس صورت حال میں خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت کی طرف سے نافذ کیا جانے والا اطلاعات تک رسائی کا عمومی قانون....Right to Information Law....بہار کے تازہ جھونکے کی مانند ہے، جس کے تحت ایک عام شہری کو بھی اس بات کا حق حاصل ہو گا کہ وہ سرکار کی ہر فائل، ہر فیصلے اور الماری کی ہر دراز تک رسائی حاصل کر سکے۔اس قسم کا قانون دنیا کے چند ہی گنے چنے ممالک میںموجود ہے، جنہیںویلفیئر سٹیٹ کا درجہ حاصل ہے ۔ ہم بھی اسلامی شریعت کی روشنی میں جمہوریت، مشاورت اور ترقی پر یقین رکھتے ہیں۔ یہاں صوبائی حکومت کے محدود دائرہ کا ر میں ایک ایسا انقلابی قدم اُٹھایا گیا ہے جو ہمارے ملک کے مستقبل کا نقشہ تبدیل کر دے گا۔ اگرچہ یہاں ترکی و ایران جیسا کوئی ہمہ گیر انقلاب تو نہیں آیا، تاہم اصلاحات کی طرف ایک سفر ضرور شروع ہوا ہے۔

عوام کو اطلاعات تک رسائی کاحق دینا بھی تبدیلی کے اسی ہمہ گیر ایجنڈے کا حصہ ہے، جس کے تحت خیبر پختونخوا کی موجودہ مخلوط حکومت قائم ہے۔ خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت کا یہ اولین فرض ہے کہ مثبت تبدیلی عوام کو نظرآئے۔ اطلاعات تک رسائی کا قانون اسی تبدیلی کی سمت میں سفر کا پہلا قدم ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد اب ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مقدر اور قسمت کے حوالے سے ہونے والے ہر فیصلے اور امر سے باخبر ہو سکے۔ اس قانون کے تحت سرکار کا تمام ریکارڈ پبلک ہو گا، جس تک ہر عام و خاص کو رسائی حاصل ہو گی۔ کوئی بھی ادارہ کسی بھی فرد کو کوئی بھی مطلوبہ معلومات دینے سے ہرگز انکار نہیں کر سکے گا۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد ہر سرکاری ادارہ اس امر کا پابند ہو گا کہ وہ تمام بنائے جانے والے قوانین، قواعد، ضوابط، احکامات، نوٹیفیکیشن ،سرکاری اداروں کے حوالے سے معلومات، بشمول ادارے کی ساخت، تنظیم، کام، افراد کار اور ان کے لئے مخصوص شدہ مراعات وغیرہ کو عوام کی معلومات کے لئے شائع کرے۔ نہ صرف یہ ،بلکہ فیصلہ سازی و قانونی سازی کے لئے اختیار کئے گئے طریقہ کار، اس کے اہم نکات، متعلقہ قوانین و ضوابط اور معلومات کو بھی عوام کی اطلاع کے لئے شائع کرے گا۔

اس کے علاوہ ہر ادارہ اپنا مالیاتی حساب کتاب، مستفید ہونے والے افراد کی فہرستیں، اختیار کردہ طریقہ کار اور ہر اس امر کو بھی شائع کرنے کا پابند ہو گا جو عوام کی دلچسپی کا باعث ہو ۔اسی قانون کے تحت سرکاری ادارے سالانہ بنیادوں پر اپنی کارکردگی رپورٹیں بھی شائع کریں گے ۔ تمام اداروں کو اس امر کا بھی پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ ایک افسر نامزد کرے جو درخواست دہندہ کو مطلوبہ معلومات فراہم کرنے میں سہولت مہیا کرے۔ ایسا نامزدافسر اس امر کا پابند ہو گا، وہ اس قانون کے تحت دی گئی درخواستوں کو مناسب طریقے سے نمٹائے اوردرکار معلومات درخواست دہندہ کو فراہم کرنے کا انتظام کرے ،جس کا حق ریاست کے ہر شہری کو حاصل ہے۔اگر کسی ادارے کے پاس مطلوبہ معلومات موجود نہیں ہوں گی اور اس ادارے کے علم میں یہ ہو کہ وہ معلومات کسی دوسرے ادارے کے پاس موجود ہیں تو وہ درخواست دہندہ کی اس ادارے کی طرف راہنمائی بھی کرے گا۔

Justice delayed is Justice deniedکے مصداق اس امر کو بھی یقینی بنایا جائے گا کہ کسی بھی درخواست پر کارروائی میں وقت کا اتنا ضیاع نہ ہو کہ اس کی افادیت ہی ختم ہو جائے۔ درخواست کے وصول ہونے کے صرف دس دن کے اندر اندر اس کے مطابق معلومات فراہم کرنا لازمی ہو گا، تاہم ناگزیر حالات میں مزید دس دن کا اضافی وقت دیا جائے گا ،جبکہ کسی فرد کی زندگی سے وابستہ ضروری معلومات صرف دو دن میں ہی مہیا کرنا ضروری ہوگا ۔اس قانون میں اس امر کو بھی یقینی بنایا گیا ہے کہ صرف ان ناگزیر معلومات کوہی خفیہ رکھا جا سکے جو بین الاقوامی معاملات یاسیکیورٹی سے متعلق ہوں یا پھر ان کو ظاہر کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کے لئے نقصان کا باعث بن سکے۔ متعلقہ ادارے اس امر کے پابند ہوں گے کہ وہ ان معلومات کو خفیہ رکھ سکیں ،جن کو فراہم کرنے سے پالیسی سازی میں رُکاوٹ کا اندیشہ ہو، کسی کی شخصی معلومات ہوں یا پھر کسی عدالتی حکم کے تحت خفیہ قرار دے دی گئی ہوں۔ان چند درجوں کے علاوہ اگر کوئی ادارہ کسی بھی قسم کی معلومات کی فراہمی میں لیت و لعل سے کام لے یا پھر درخواست گزار یہ سمجھے کہ اسے مطلوبہ معلومات مہیا نہیں کی جا رہیں تو اسے اس بات کا حق حاصل ہو گا کہ وہ اس قانون کے تحت قائم ہونے والے انفارمیشن کمیشن کے پاس اپنی شکایت درج کروا سکے گا۔ انفارمیشن کمیشن اس امر کا پابند ہو گا کہ وہ شکایت پر 60دن کے اندر اندر کارروائی کرے۔ اسی قانون کے تحت خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن قائم کیا جارہا ہے۔

ایک مکمل طور پر آزاد اور خود مختار کمیشن، جس کا سربراہ چیف انفارمیشن کمشنر ہو گا اور اس کے تین ارکان ہوں گے ،جنہیں انفارمیشن کمشنر کہا جائے گا۔ چیف انفارمیشن کمشنرایک ریٹائرڈ حکومتی افسر ہو گا، جبکہ اس کے ارکان میں ایک ہائیکورٹ کا ریٹائرڈ جج ، ایک سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کا وکیل اور ایک سول سوسائٹی کا نمائند ہ ہو گا۔ چیف کمشنر اور کمشنرز کی زیادہ سے زیادہ عمر 66سال ہو گی اور وہ صرف ایک مرتبہ ہی اس عہدے پر فائز رہ سکیں گے۔ ان کی مدت معاہدہ چار سال ہو گی۔انفارمیشن کمیشن نہ صرف اپنے روزمرہ کے امور انجام دے گا، بلکہ وہ سرکاری اداروں کے لئے وہ صورت بھی بنائے گا جس میںسرکاری ادارے اپنا ریکارڈ مرتب کریں گے۔ اگر کسی موقع پر درخواست دہندہ کی مطلوبہ معلومات بیس صفحات سے زائد ہوں گی تو ان کی فوٹوکاپی ، پرنٹنگ وغیرہ کا خرچ درخواست دہندہ کو ہی ادا کر نا ہوگا، تاہم کمیشن کو اس فیس میں ردوبدل کا اختیار حاصل ہو گا۔

کمیشن ضروری کارروائی کے لئے کیس متعلقہ اداروں کو بھجوائے گا۔ کمیشن ایک ایسی ہینڈ بُک بھی ترتیب دے گا جو عام فہم ہو اور اسے عوام کی معلومات کے لئے شائع بھی کرے گا۔ انفارمیشن کمیشن کو ہی اس امر کا اختیار ہو گا کہ وہ معلومات خفیہ رکھنے کے وقت میں کمی یا بیشی کر سکے ۔ کمیشن مزید اصلاحات کے لئے حکومت کو اپنی سفارشات پیش کرے گا اور حکومتی کاغذات پر اپنے خیالات بھی دے گا۔انفارمیشن کمیشن کو اس امر کا اختےار ہو گا کہ وہ اپنے کام سرانجام دینے کے لئے تمام اختیارات استعمال میں لا سکے۔ مختلف شکایات کے حوالے سے انکوائری کرنا، متعلقہ اداروں سے ضروری کاغذات طلب کرنا، دفاتر کی انسپکشن کرنا ، اس قانون کے نفاذ میں رکاوٹ بننے والے سرکاری اہلکاروں پر 250روپے سے لے کر 25000روپے تک جرمانہ کرنا بھی کمیشن کے اختیار ات میں شامل ہوگا۔حکومت اس کمیشن کی مکمل مالی ضروریات پوری کرے گی اور بجٹ میں اس کے لئے باقاعدہ حصہ مختص کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا میں اس قانون کے نفاذ کے بعد اب یہ جرم ہے کہ کوئی بھی سرکاری ادارہ کسی بھی فر د کو ان معلومات تک رسائی دینے میں رکاوٹ بنے جو وہ جاننا چاہتا ہے۔ تما م سرکاری اداروں نے اپنے اپنے محکمہ جات کے لئے افسر(Focal Person) نامزد کر دیئے ہیں، تاکہ وہ محکمے سے متعلق معلومات عوام کودینے میں تعاون کر سکیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کی مخلوط حکومت کا یہ انقلابی قدم نہ صرف صوبہ خیبر پختونخوا میں حالات کی بہتری کا باعث بنے گا، بلکہ مرکز اور باقی صوبوں کو بھی اسی طرح کے اقدامات کرنے کی شہ ملے گی اورپورے ملک میں ایک عام آدمی کو بھی اس امر کا حق حاصل ہو جائے گا کہ اب تک مقدس سمجھی جانے والی ان خفیہ فائلوں اور کاغذات تک رسائی حاصل کر سکے، جن کے ساتھ اس کی قسمت اور اس کا مستقبل وابستہ ہے۔ کم از کم خیبر پختونخوا کی حد تک یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اب کوئی بھی مسودہ مقدس نہیں اور کوئی بھی فائل خفیہ راز نہیں ۔

مزید :

کالم -