گیلوٹین کا موقع نہ آنے دیں

گیلوٹین کا موقع نہ آنے دیں
گیلوٹین کا موقع نہ آنے دیں

  


 پاکستان تحریک انصاف آج کل مہنگائی کے خلاف رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لئے جلسے، جلوس کر رہی ہے اور دھرنے دے رہی ہے۔ لاہور کے بعد اب اس کا رخ دوسرے شہروں کی طرف ہے اور کیوں نہ ہو ، مہنگائی جس طرح سر چڑھ کو بول رہی ہے، اس نے ایک عام پا کستانی کا جینا دوبھر ہی نہیں کر دیا، بلکہ مشکل ترین بنا دیا ہے۔ آبادی کی اکثریت روزانہ اجرت کی بنیاد اور معاوضے پر کام کرتی ہے۔ بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جنہیں ایک ہزار روپے روزانہ کی اجرت ملتی ہے۔ عام طور پر اجرت پانچ اور چھ سو روپے سے کم ہے۔ اس رقم میں کوئی کیسے گزارہ کر سکے گا؟ اشیائے خورو نوش ہی اس رقم میں میسر نہیں ہیں تو گھر کا کرایہ، (اکثریت کرائے کے گھروں میں رہائش رکھتی ہے)، بچو ں کی تعلیم، علاج و معالجہ وغیرہ پر آنے والے اخراجات کے بارے میں تو تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ عوام کو توقع تھی کہ جب شیر آئے گا تو ان کی مشکلات کم کر دے گا۔ میاں نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ (ن) کا انتخابی نشان شیر ہے۔ شیر کو آئے ہوئے چھ ماہ کا عرصہ گزر چکا۔ مہنگائی میں کمی تو کیا آنی تھی، کئی گنا اضافہ ہو گیا۔ لوگ بلبلا رہے ہیں کہ کیا کریں۔ انہیں قیمتوں میں کمی کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بیانات تو انہیں اتنا حوصلہ بھی نہیں دے رہے کہ چلو آج نہیں تو کل بہتر ہو گا۔ عجیب بات ہے کہ عام آدمی کا آج بہتر ہوتا ہے، نہ کل۔ اس کے لئے آج اور کل برابر ہی رہتے ہیں۔ حکومت لوگوں کے لئے اگر اشیائے خورو نوش کی قیمتوں میں استحکام لانے میں ناکام نظر آتی ہے تو وہ کچھ اور بھی تو نہیں کر سکی۔ زندگی کے جو بھی تقاضے ہیں، وہ مہنگے ہو گئے ہیں۔

دو سو پچیس سال قبل آنے والا انقلاب فرانس کیوں آیا تھا، شاہی حکومت کیوں ختم ہو گئی تھی، شاہ پرستوں کو کیوں دنیا سے ہی فارغ کر دیا گیا تھا؟.... بادشاہ لوئس کی حکومت تھی۔ وہ 1774ءمیں بر سر اقتدار آئے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک کمزور بادشاہ تھے۔ شائد اتنے ہی کمزور جتنے آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر تھے۔ لوئس کی بیگم میری انتو نیٹی بہت شاہ خرچ تھی۔ ویسے ہی جیسے ہمارے حکمران کل بھی کر رہے تھے اور آج بھی کر رہے ہیں۔ شاہ خرچیاں عام ہیں۔ وزراءخواہ وفاقی ہوں یا صوبائی، اراکین اسمبلی قومی کے ہوں یا صوبوں کے یا سینیٹ کے، ان کے لباس، ان کی رہائش، ان کا اوڑھنا، بچھونا، ایک ایک وقت میں ان کے کھانے کے لوازمات، ان کے اخراجات ، ایسا لگتا ہے کہ سادگی ان سے روٹھ گئی ہے۔ سنجیدگی کو بھی اپنے ساتھ لے گئی ہے۔ انقلاب سے قبل فرانس بھی معاشی بحران اور خراب صورت حال سے دوچار تھا۔ بادشاہ کی حکومت نے اپنے آپ کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا لیا تھا ۔ اسی طرح جیسے پاکستان نے آج اپنے آپ کو قرضوں کے زیر بار کیا ہوا ہے۔ فرانس کے پرانے حریف برطانیہ کے ساتھ دشمنی کے حوالے سے بادشاہ امریکہ کو رقم فراہم کرتا تھا تاکہ برطانیہ کو مصروف رکھا جا سکے۔ اِسی دوران ایک وقت ایسا آیا کہ بنکوں نے بادشاہ کو مزید قرضہ دینے سے انکار کر دیا اور ملک کی معیشت بد سے بد تر ہو گئی، اِسی خرابی نے انقلاب کا راستہ ہموار کیا کہ لوگوں کے پاس روٹی خریدنے کے لئے پیسے نہیں تھے۔ جن کے پاس پیسے تھے، ان کو بھی روٹی میسر نہیں تھی۔

فرانس کی اس وقت کی تاریخ پاکستان کی سیاسی، معاشی اور سماجی صورت حال کی بڑی حد تک عکاسی کرتی ہے۔ اشرافیہ اور بر سر اقتدار طبقے کی آپس میں کشمکش، اسمبلیوں میں بے نتیجہ بحث ، اپنی دولت کے گھمنڈ میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سر توڑ کوشش، عام لوگوں کے لئے ٹیکسوں کی بھر مار، مہنگائی، اشیائے خورو نوش کی عدم دستیابی، امن و امان کی مخدوش حالت، محنت کشوں اور کسانوں پر زندگی تنگ، غرض سب کچھ ایسا ہی تھا، جیسا آج پاکستان میں ہے۔ عام لوگوں کی حالت زار پر حکمران طبقے کو کوئی ترس نہیں آتا۔ ملک کے تمام وسائل ان ہی لوگوں کے تصرف میں ہیں، جن کے پاس پہلے سے بے پناہ وسائل موجود ہیں۔ وسائل سے محروم لوگوں کو ایک وقت کی روٹی بھی سکون کے ساتھ میسر نہیں۔ معاشرے میں پائی جانے والی یہ تفریق لوگوں کو دیوار سے لگا رہی ہے اور جس روز یہ دیوار گر گئی، وہ روز وسائل سے مالا مال لوگوں کے لئے انتہائی تکلیف دہ دن ہو گا۔ پاکستانی معاشرے میں دولت مندوں کی شاہ خرچیاں اپنی جگہ، حکمرانوں کے حلقے میں داخلے کے لئے شناسائی لازمی، شاہ پرستی عام، شدت پسندی بھی بے لگام ہو گئی ہے۔ شیر جنگل کا بادشاہ ضرور کہلاتا ہے، لیکن چونکہ مشاورت پر یقین نہیں رکھتا ، جنگل میں اپنی من مانیاں کرتا ہے،جب چاہتا ہے کمزور ہو یا چابک دست جانور کو کھا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب کمزور اور چھوٹے جانوروں کو موقع ملتا ہے تو وہ شیر کو پچھاڑ دیتے ہیں۔

بات شدت پسندی کے حوالے سے کی جائے تو آج کل پاکستان کے حکمران طبقے سے تعلق رکھنے والے مولانا فضل الرحمن فوجی آپریشن کے خلاف احتجاج کرتے پائے جاتے ہیں۔ انہیں فوج کی وہ کارروائی گراں گزر رہی ہے جو فوج نے شدت پسندوں کے خلاف کی ہے ۔ وہ شدت پسند جو نماز پڑھتے ہوئے فوجیوں پر شب خون مارنے کے ذمہ دار تھے ۔ فوجیوں پر حملہ کیا جائے اور فوج تماشا دیکھے ۔ یہ انوکھا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج اِسی لئے ہے کہ ووٹ کی سیاست زیادہ عزیز ہے۔ بات پختونوں یا بلوچوں کی نہیں ۔ من حیث القوم پختون ہوں یا بلوچ، کراچی کے مہاجر ہوں یا سندھی، کسی کو کسی سے دشمنی نہیں اور کوئی کسی کو تباہ و برباد نہیں کر سکتا۔ سیاسی رہنما ہوں یا صحافی، دانشور ہوں یا کوئی اور انہیں یہ سوچنا ہو گا کہ بے لگام شدت پسندی، بے تکان عسکریت پسندی، بے تحاشا لاقانونیت، حد سے بڑھی ہوئی بے راہ روی کو کہیں تو لگام دینا ہی ہو گی۔ خواہ علاقہ، فرقہ، قوم، نسل، زبان کوئی ہی کیوں نہ ہو، کارروائی ناگزیر بن جاتی ہے۔ اس تماش گاہ میں ڈر لگتا ہے اور اس وقت سے ڈرنا بھی چاہئے کہ کوئی ڈاکٹر گیلوٹین ایسی مشین ایجاد کرے، جس سے ایک ہی وقت میں درجنوں افراد کی گردنیں ان کے تن سے جدا کر دی جائیں۔ انقلاب فرانس میں ایسا ہی تو ہوا تھا۔ جب لوگوں کو سزائیں سنائی گئی تھیں ، تو ان کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ انہیں اس دار فانی سے ایک ایک کر کے کوچ کرانے میں زیادہ وقت لگنا تھا تو انقلابی نیشنل اسمبلی کے رکن ڈاکٹر جوزف گیلوٹین نے جو مشین تیار کرائی تھی، اسے ہی گیلوٹین کہا جاتا ہے۔

مزید : کالم