بے نظیر بھٹو کو ’بچھڑے‘ چھ سال بیت گئے،کیس ابتدائی مراحل سے نکل سکا، نہ قاتل ملے، وزیراعظم نوا زشریف کا وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا

بے نظیر بھٹو کو ’بچھڑے‘ چھ سال بیت گئے،کیس ابتدائی مراحل سے نکل سکا، نہ قاتل ...

حادثے میں پیپلزپارٹی کے کئی رہنماءملوث ہیں: سابق پروٹوکول آفیسر، جکڑدیاہے، ملزم کو مجرم بنانا حکومت کا کام نہیں: رحمان ملک

بے نظیر بھٹو کو ’بچھڑے‘ چھ سال بیت گئے،کیس ابتدائی مراحل سے نکل سکا، نہ قاتل ملے، وزیراعظم نوا زشریف کا وعدہ بھی وفا نہ ہوسکا

  


اسلام آباد، کراچی ، سکھر (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی آج چھٹی برسی منائی جارہی ہیں لیکن آج تک اصل ملزمان قانون کی گرفت میں نہ آسکے اور چھ سال بیت جانے کے باوجود کیس ابتدائی مراحل میں ہے ۔ پیپلزپارٹی نے اپنے دورحکومت میں پانچ سال مکمل کیے لیکن بے نظیر کے قتل کا فیصلہ نہ ہوسکا اور نواز شریف کا وعدہ وفا ہوتابھی دکھائی نہیں دیتا، بی بی کے سابق پروٹوکول آفیسر نے موجودہ حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات کرائی جائیں ، پیپلزپارٹی کے بعض رہنماءبھی ملوث ہیں جبکہ رحمان ملک نے دعویٰ کیاہے کہ بےنظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہاتھوں کو چکڑ دیا ہے،مجرم بنانا حکومت نہیں ، عدالت کا کام ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کو6 سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر تاحال ان کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے ،جن ملزمان کوگرفتارکیاگیا،ان کیخلاف بھی تاحال کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہیں آسکے ہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ گرفتار افراد ہی ان کے قتل میں ملوث ہیں۔ پیپلزپارٹی کی5 سالہ حکومت کے دور میں بھی ایسی کوئی پیشرفت نہ ہو سکی ، انٹرپول کی تحقیقات کا نتیجہ بھی صفر رہا۔موجودہ وزیراعظم اور ن لیگ کے سربراہ میاں نواز شریف نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پیپلز پارٹی کی حکومت کو یہ طعنہ دیا تھا کہ وہ5سال میں محترمہ کے قاتلوں کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی لیکن اگروہ اقتدار میں آئے تو ان کے قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے تاہم نوازشریف کے اس دعوے کو بھی ابھی تک عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا ہے اور نہ ہی نواز شریف حکومت نے محترمہ کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے از سر نو کوئی کوشش کی ہے ۔قتل کو چھ سال بیت جانے کے باوجود کیس اب بھی ابتدائی مرحلہ میں ہے، مقدمے میں13ملزمان نامزد جبکہ مجموعی طور پر 9چالان پیش کئے گئے، 5 ملزمان اعتزاز شاہ، شیر زمان، رفاقت ، حسنین، عبد الرشید گرفتاری کے بعد اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔سابق صدرپرویز مشرف، اس وقت کے ڈی آئی جی سعود عزیز، ایس پی خرم شہزاد ضمانت پر ہیںجبکہ دیگر5 ملزمان بیت اللہ محسود، عباد الرحمان، فیض محمدکسکٹ، عبداللہ اور اکرام اللہ ڈرون حملے اور فورسز سے مقابلوں میں مارے جا چکے ہیں۔ مقدمہ کے سینئر پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار علی کو بھی قتل کر دیا گیا جبکہ کیس کی سماعت کرنے والی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نمبرایک کے 5 جج تبدیل ہوچکے ہیں، اس وقت بھی یہ عدالت جج سے محروم ہے۔ کیس کا 3 بار از سر نو ٹرائل شروع کیا گیا۔ گزشتہ سال155 میں سے27گواہان کے بیان ریکارڈکئے گئے مگر پرویز مشرف کی گرفتاری اور ان کیخلاف نیا چالان آنے سے یہ تمام بیان کالعدم قرار دیکر زیرو سے سماعت شروع کر دی گئی، اب صرف3 گواہان کے دوبارہ بیان ریکارڈ کیے جا سکے ہیںاور آئندہ سماعت4جنوری کو ہو گی۔ دوسری طرف بے نظیر بھٹو کے سابق پروٹوکول افسر چوہدری محمد اسلم ایڈووکیٹ نے وزیر اعظم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بے نظیر کے قتل کے اصل ملزمان کو سزادلوانے کے لیے کیس کی تحقیقات ا قوام متحدہ کی رپورٹ کی روشنی میں کرائیں،بے نظیرکے قتل میں سابق صدر پرویز مشرف سمیت پیپلز پارٹی کے کئی رہنما بھی ملوث ہیں۔ میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے چوہدری اسلم ایڈووکیٹ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے بے نظیر قتل کیس کی تحقیقات کو آگے نہیں بڑھایا، لیاقت باغ سے واپسی کا روٹ تبدیل کر ا یا گیا جبکہ سینیٹر اے رحمان ملک اور بابر اعوان نے سیکیورٹی حصا ر کو توڑ اور اس گاڑی میں سوار ہو گئے جو بے نظیر کی گاڑی کے پیچھے چلنی تھی اور مذکورہ دونوں سینیٹرز بے نظیر کی روانگی سے قبل ہی اس گاڑی کو لیاقت باغ سے نکال کر زرداری ہاﺅس پہنچے جس کے باعث سیکیورٹی پلان بری طرح متاثر ہوا۔ اُدھر سابق وزیرداخلہ اور پیپلز پارٹی کے موجودہ سینیٹر رحمان ملک نے دعویٰ کیاہے کہ بےنظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہاتھوں کو چکڑ دیا ہے ان کے خلاف تحقیقات بھی ہوئیں اور چالان بھی ہوا۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ملزم کو مجرم قرار دینا حکومتوں کا نہیں عدالتوں کا کام ہے، موجودہ حکومت کو میثاق جمہوریت کے تحت موقع دیا، حکومت اپنا کام کرے ہم ان کی ٹانگیں نہیں کھینچیں گے۔رحمان ملک کا کہنا تھا کہ ملک اور خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہم نے افغانستان کا ساتھ دیا وہ بھی ہمارا ساتھ دے۔

مزید : قومی /Headlines