پاکستان کا بجٹ خسارہ 18کھرب روپے تک پہنچ گیا،بہتری کا امکان

پاکستان کا بجٹ خسارہ 18کھرب روپے تک پہنچ گیا،بہتری کا امکان
پاکستان کا بجٹ خسارہ 18کھرب روپے تک پہنچ گیا،بہتری کا امکان

  


کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) رواں مالی سال میں پاکستان کا بجٹ خسارہ 18کھرب روپے کی بلند ترین سطح تک جاپہنچا، 2013ءمیں لوڈشیڈنگ کے باوجودبھی بجلی 30 فی صد تک مہنگی ہوئی، قرضے بھی 140 کھرب روپے سے تجاوز کرگئے تاہم 2014 ءمیں کچھ بہتری کی امید کی جا رہی ہے ۔سال 2013 ءمیں مالی خسارہ 11 کھرب روپے تک محدود کرنے کا ہدف تھا لیکن یہ خسارہ 18 کھرب روپے تک جا پہنچا، 11 کھرب روپے قرضوں کی ادائیگی میں خرچ کرنا پڑے، زرمبادلہ کے ذخائر 3 ارب ڈالر کی کم ترین سطح تک آگئے اور پاکستان کو ایک بار پھر آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ گرمیوں میں لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا دو بھر کیئے رکھا اور ستم ظریفی یہ ہے کہ ستمبر میں بجلی 3 روپے 8 پیسے فی یونٹ مہنگی ہوئی۔ مہنگائی کی شرح 17 ہفتوں کے بعد 10 فی صد کی بلند سطح کو چھو گئی۔ روپے کی قدر میں تیزی سے کمی ہوئی اور ایک ڈالر 111 روپے تک جا پہنچا، قرضوں کی سونامی بھی اپنے عروج پر رہی۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ مایوسی کے باوجود یہ بات خوش آئند تھی کہ سال 2013 کی آخری سہ ماہی میں معیشت نے بہتر ی دکھائی۔ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کچھ کم ہوا ہے اور معاشی ترقی کی شرح میں اضافہ ہوا، 2014 میں حکومت کچھ شعبوں میں بہتری لاسکتی ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ سرکاری اداروں کا 500 ارب روپے کا سالانہ نقصان ہے جو آمدنی پر بوجھ ہے۔

مزید : بزنس