میٹرو بس منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے‘ مزمل صابری

میٹرو بس منصوبے کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے‘ مزمل صابری

اسلام آباد (پ ر) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر مزمل حسین صابری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تاجر برادری سمیت جڑواں شہروں کے عوام کو مزید مشکلات سے بچانے کیلئے میٹرو بس منصوبے کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد چیمبر آف کامرس نے اس منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا تھا کیونکہ یہ منصوبہ جڑواں شہروں کے عوام کو ٹرانسپورٹ کی معیاری اور سستی سہولت فراہم کرنے کیلئے شروع کیا گیا تھا اور ساتھ یہ مطالبہ کیا تھا کہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو مشکلات سے بچانے کیلئے مذکورہ منصوبے کو مقررہ ہدف کے اندر مکمل کیا جائے لیکن اس منصوبے کی تکمیل میں مزید تاخیر کی اطلاعات باعث تشویش ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 23مارچ 2014کو میٹروبس منصوبے کا افتتاح کرنے کے موقع پر وزیراعظم پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ یہ منصوبہ 10ماہ کی مدت کے اندر اندر مکمل کر لیا جائے گا جبکہ میٹرو بس منصوبہ کمیٹی کے چیئرمین نے اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے دورے کے موقع پر یہ کہا تھا کہ منصوبہ مقررہ ہدف سے بھی تقریبا دو ماہ پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔ تاہم منصوبے کی تکمیل کی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کے باوجود ابھی بھی کافی کام باقی ہے جس سے اس بات کا قوی امکان ہے کہ میٹروبس منصوبہ مزید تاخیر کا شکار ہو لہذا انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مذکورہ منصوبے کو 31جنوری 2015تک مکمل کرنے کیلئے کوششیں تیز کرے۔ مزمل صابری نے کہا کہ کنٹریکٹر کی کوتاہی کی وجہ سے پشاور موڑ انٹرچینج پہلے کی کافی تاخیر کا شکار ہو چکی ہے لہذا انہوں نے میٹرو بس منصوبہ کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ وہ بقیہ کام کر جلد مکمل کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے تا کہ منصوبہ اپنے مقررہ وقت میں ہی پایہ تکمیل کو پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ میٹر بس منصوبے کی وجہ سے پچھلے 9ماہ سے تاجر برادری سمیت راولپنڈی اور اسلام آباد کے رہائشی مشکلات کا شکار ہیں کیونکہ متعدد سڑکیں بند ہیں جس سے ٹریفک میں کافی خلل واقع ہو رہا ہے جبکہ گردوغبار کی وجہ سے ماحول آلودہ ہو رہا ہے۔ ان حالات میں اس منصوبے کو بروقت مکمل کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔آئی سی سی آئی کے صدر نے کہ حکومت نے جانب سے میٹروبس منصوبے کو ترنول اور روات تک وسعت دینے عندیہ خوش آئند ہے کیونکہ اس سے ان علاقوں کے عوام کو اسلام آباد آنے جانے کیلئے سفر کی اچھی سہولت میسر آئے گی۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت میٹروبس منصوبے کو 1.5ارب کی سبسڈی فراہم کرنے کی بجائے اس منصوبے کو سیلف فنانس کی بنیاد پر چلانے کی کوشش کرے تا کہ یہ منصوبہ اپنے وسائل سے ہی چلتا ہے اور ملکی خزانے پر بوجھ نہ بنے۔

مزید : کامرس