پاکستان قطر کو ہنر مند افرادی قوت برآمد کر کے بھاری زرمبادلہ کما سکتا ہے، احمد حسین

پاکستان قطر کو ہنر مند افرادی قوت برآمد کر کے بھاری زرمبادلہ کما سکتا ہے، ...

 لاہور(کامرس رپورٹر) قطر کے چھ رکنی وفد کے سربراہ احمد حسین نے پاکستانی تاجروں کو دعوت دی ہے کہ وہ قطر کے تاجروں کے ساتھ مل کر انفراسٹرکچر، سیاحت، فارماسیوٹیکل اور ہیلتھ کیئر سمیت دیگر شعبوں میں مشترکہ منصوبہ سازی کریں۔ وہ لاہور چیمبرمیں منعقدہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ لاہور چیمبر کے صدر اعجاز اے ممتاز، نائب صدر سید محمود غزنوی اور ایگزیکٹو کمیٹی اراکین نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ وفد کے دیگر اراکین میں محمد خان، فواد رانا، اسرار ملازئی ، پرویز اقبال اور محمد ادریس شامل تھے جبکہ چیئرمین پاک قطر بزنس کونسل محمود ارشد بھی اس موقع پر موجود تھے۔ احمد حسین نے کہا کہ مارچ 2015ء کے آحر میں ایک سنگل کنٹری نمائش قطر میں منعقد ہورہی ہے جس میں پاکستانی تاجروں کو حصہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قطر کو ہنرمند افرادی قوت برآمد کرکے بھاری زرمبادلہ کماسکتا ہے۔ اس کے علاوہ قطر کو تعلیم، صحت اور انجینئرنگ کے شعبوں میں بھی پاکستان کی مدد درکار ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ بہترین دوستانہ تعلقات ہونے کے باوجود پاکستان اور قطر کے درمیان تجارت کا حجم بہت کم ہے۔ سال 2012سے 2013ء کے دوران باہمی تجارت کا حجم 425ملین ڈالر سے کم ہوکر 243ملین ڈالر رہ گیا جو تشویشناک ہے۔ اعجاز اے ممتاز نے کہا کہ لاہور چیمبر دوطرفہ تجارتی و معاشی تعلقات مستحکم کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت قطر کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ تجارتی معلومات کا فقدان دور اور دونوں ممالک کے تاجروں کے تعلقات مستحکم کرنے میں چیمبرز آف کامرس اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت کے فروغ میں تجارتی وفود کا تبادلہ بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر بھی قطر کے لیے تجارتی وفود ترتیب دینے کی منصوبہ بند کررہا ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی قطر کو چاول، گوشت، بیڈ لینن اور ٹینٹ وغیرہ برآمد کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قطر کو سیمی پراسیسڈ اور پراسیسڈ فوڈ دونوں برآمد کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان قطرکی فارماسیوٹیکل، پلاسٹک، جیولری، قیمتی پتھر، کھیلوں کے سامان اور فٹ ویئر وغیرہ کی ضروریات بھی پوری کرسکتا ہے جبکہ پاکستان ایل این جی ، آئل اور پیٹروکیمیکل کے شعبوں میں قطر سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔

مزید : کامرس