بے نظیر کا یوم شہادت، کچھ ان کی زبانی!

بے نظیر کا یوم شہادت، کچھ ان کی زبانی!
بے نظیر کا یوم شہادت، کچھ ان کی زبانی!

  

دن گزرتے پتہ بھی نہیں چلتا، چند دن ہوئے، جب کراچی میں پیپلزپارٹی نے 18اکتوبر کے شہداءکی یاد منائی اور ابھی اس کا تذکرہ ہی رہا ہے کہ وہ دن بھی آ گیا جس روز اس حملے میں بچ جانے والی خاتون رہنما بالآخر شہید کر ہی دی گئیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کو آج سات سال ہو گئے۔ وہ ابھی تک یوں ہی یاد ہیں، آج کے اس دور میں کچھ دوستوں نے زیادہ ہی یاد کیا اور تاثر لیاہے۔جذباتی بھی ہو گئے اور کہا دہشت گردی کے خلاف آج پوری قوم متحد ہوئی بے نظیر بھٹو ہوتیں تو.... اس کا جواب خود بے نظیر ہی سے پوچھ لیں، جو بقول جنرل (ر) پرویز مشرف منع کرنے کے باوجود آ گئی تھیں اور بہت سی آنکھوں میں کھٹک رہی تھیں۔ بے نظیر بھٹو اپنی کتاب دختر مشرق میں لکھتی ہیں کہ 1977ءمیں ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کرکے مارشل لاءلگانے سے ان کو دار فانی سے رخصت کرنے تک ان کو اور ان کی والدہ کو اتنے ستم برداشت کرنا پڑے کہ بیان سے باہر ہیں۔

 بے نظیر بھٹو کے بقول اس دور میں ان کو اعصابی طور پر توڑ کر موت سے ہمکنار کرنے کی کوشش کی گئی اور جب 1986ءمیں واپس وطن آکر انہوں نے سیاست میں عملی قدم رکھا تو ان پر قاتلانہ حملے کرائے گئے اور ان کو شہید کرنے کی پوری کوشش کی گئی، اپنی آپ بیتی میں وہ کہتی ہیں، ”میں زیادہ پر اعتماد تھی، جب 1987ءکا سورج طلوع ہوا، میرا ہمیشہ سے یقین ہے کہ آنے والا سال جانے والے سال سے بہتر ہوگا“۔ آگے جا کر پھر کہتی ہیں: ”ضیاءنے مستقلاً دعویٰ کیا کہ ہم انتقام پر اتر آئے ہیں، خصوصاً فوجیوں کے ساتھ اپنی گفتگو میں وہ اسی عنوان پر زور دیتا، تاکہ ان میں پی پی پی کی واپسی کے خوف کو اجاگر کیاجا سکے، لیکن ہماری پارٹی کی سرگرمیاں انتقام کے لئے نہیں بلکہ قومی تعمیر کے لئے جاری تھیں اور ہر شخص کو اس کا احساس تھا“۔آگے جا کر وہ کہتی ہیں ”میری سلامتی کو خطرات بڑھتے رہے اور میرے پارٹی کے ہم دردوں نے مجھے اپنی حفاظت کے لئے مزید اقدامات کے لئے گزارشات کیں۔ صوبہ سرحد کے ایک شخص نے مجھے کلاشنکوفوں سے مسلح چھ جوانوں کی پیش کش کی۔ لیکن میں نے انکار کر دیا، مجھے اسلحہ کی نمائش اور تصور ہی سے نفرت تھی اور میں نے اپنے رضاکاروں کو بھی ہتھیار بند ہونے سے منع کر دیا تھا، کچھ عرصے بعد مجھے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنا پڑی“۔

بات کو آگے بڑھاتی ہیں ”جنوری 1987ءکے ایک ہفتے کے دوران میرے دو ساتھیوں پر دو حملے ہوئے، پہلے حملے میں میرے حفاظتی گارڈوں میں سے ایک کو کراچی کی ایک بند گلی میں گاڑی لے جانے پر مجبور کر دیا، جب اس پر گولی چلائی گئی، چونکہ وہ گاڑی میں دوسرے مسلح افراد کے ساتھ سوار تھا جو ان کو بھگانے میں کامیاب ہو گئے تو یوں ان کی جان بچ گئی۔ ایم آر ڈی کا رہنما فاضل راہو اس قدر خوش قسمت نہیں تھا،11جنوری کو اس کے اپنے ہی گاﺅں میں کلہاڑی کے وار کرکے قتل کر دیا گیا، اسی دوران بشیر ریاض کو جو میرا پریس آفیسر تھا اور لندن میں ہمارے اخبار ”عمل“ کا ایڈیٹر، آدھی رات کو دھمکی آمیز کالیں آنا شروع ہو گئیں، کیا حکومت کی طرف سے یہ سب تنبیہات تھیں؟ ” حکام سے رابطہ کرو“ میں نے اپنے وکیل سے کہا ”ان کو بتا دو کہ مجھے کچھ ہوا تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی، ہم انہیں پیشگی اطلاع دے رہے ہیں“۔

مزید لکھتی ہیں ”30 جنوری کو حملہ ہوگیا، میں لاڑکانہ واپس آنے کا منصوبہ بنا رہی تھی لیکن عین آخری وقت پر ایک ملاقاتی کی آمد کی وجہ سے میری روانگی میں تاخیر ہوگئی، میں عموماً لاڑکانہ اپنی پیجیرو میں جاتی تھی لیکن میں کسی بھی متوقع ہنگامی حالت کی بناءپر طیارے میں اپنی نشست ریزرو کرا لیتی تھی، سلامتی کے لحاظ سے مختلف سفری تجاویز مناسب خیال کی جاتی تھیں، میں اکثر طیارے میں نشست ریزرو کرا لیتی تھی مگر جاتی نہیں تھی اس طرح بعض اوقات مختلف شہروں کے لئے نشستیں ریزرو کرا لیتی تھی تاکہ ضیاءکے خفیہ محکمے کے ایجنٹوں کو اندھیرے میں رکھاجا سکے، میں اپنے عملے کو بھی اپنے سفری منصوبوں کا نہیں بتاتی تھی تاکہ غلطی کا احتمال نہ رہے“۔

کتاب میں تحریر ہے ”بی بی صاحبہ دیر ہو رہی ہے“۔ میرے عملہ میں سے ایک ملازم نے دوپہر کے قریب کہا ”اگر آپ لاڑکانہ شام کے اندھیرے سے پہلے پہلے پہنچنا چاہتی ہیں تو کاروں کو روانہ ہو جانا چاہیے“۔”تم آگے جاﺅ“ میں نے عرس سے کہا”میری ایک ملاقات ہے میں بعد میں آﺅں گی، کاریں لاڑکانہ تک نہ پہنچ سکیں، میں ملاقات کے نصف میں تھی، جب ایک ملازم ضروری چٹ لے کر آیا، اس پر صرف دو لفظ لکھے تھے ”گولیوں سے حملہ اور پجیرو“ عجیب بات تھی کہ میں ابھی بھی اپنے حفاظتی گارڈ پر حملے اورایم آر ڈی کے رہنما کے قتل کے متعلق ہی باتیں کررہی تھی.... سوچے سمجھے منصوبے پر عمل کیا گیا تھا ” ایک لمحے کے لئے معاف کریں“ میں نے اپنے مہمانوں سے کہا ”میری کار پر حملہ کیا گیا ہے“ جلدی میں میں نے ملازموں کو پولیس اور وکلاءکو بلانے کے لئے کہا اور اپنے حواس بجا لاتے ہوئے ملاقات کے لئے دوبارہ چلی گئی، چند دنوں تک واقعات کھل کر سامنے آئے تو حقائق اور بھی بھیانک تھے، دونوں گاڑیاں دن کی روشنی میں منجھنڈ کے قریب سڑک پر جا رہی تھیں کہ سڑک کنارے کھڑے آدمی نے اچانک اشارہ کیا تو چار دیگر آدمی فوراً باہر نکل آئے اور میری پجیرو کے اندر سوار آدمیوں پر گولیوں کی بوچھار کر دی، عرس نے رفتار تیز کر دی اور پجیرو جو پہلے ہی 70میل فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں تھی گولیوں کی بوچھاڑ میں سے گزر گئی، جب عملے نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ابھی پجیرو پر گولیاں چلائی جا رہی تھیں۔ مگر دوسری کار کو انہوں نے روک لیا تھا، دوسری کار کے حفاظتی گارڈوں اور عملے کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنا لیا گیا تھا“۔

بے نظیر بھٹو کے مطابق اس پر شور ہوا تو حکومت کی طرف سے ڈاکوﺅں کی کارروائی کا تاثر دیا گیا جو درست نہیں تھا ، کسی نے تاوان نہ مانگا جب ہنگامے ہوئے تو آئی جی تک کو بھیجا گیا بالآخر کسی معاوضے اور کارروائی کے بغیر ان کو رہا بھی کر دیا گیا۔ ”دختر مشرق“ سے سب نقل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو ہمیشہ نشانے پر رہیں اور بقول خود وہ اپنی حفاظت کے لئے مختلف طریقے بھی اختیار کرتی تھیں۔ پھر اسی بے نظیر کے استقبالیہ جلوس پر حملہ ہوا دو سو سے زائد کارکن شہید ہوگئے اور خود ان کو بھی بچہ تھمانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ وقت نہیں تھا، ان کی موت کا دن نہیں آیا تھا وہ بچ گئیں، اس کے بعد وہ دن آتا ہے جب ان کی حفاظت کے ذمہ دار چیف سیکیورٹی آفیسر عبدالرحمن ملک ان کی حفاظت کا منصوبہ بناتے ہیں، ان کی آمدورفت کا تعین کرتے ہیں۔ محترمہ کو منع کیاجاتا ہے لیکن وہ جو خوفزدہ نہیںہوتی تھیں جلسہ میں آجاتی اور ایک یادگار تقریر کرکے رخصت ہوتی ہیں اور پھر وہ سانحہ ہو جاتا ہے۔ اس وقوعہ کی ویڈیو بار بار دیکھنے سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو ہر صورت ختم کرنے کا مکمل منصوبہ تھا اور یہ جان ایف کینیڈی جیسا تھا، ویڈیو میں پستول بردار دو افراد نظر آتے ہیں۔ پھر خودکش دھماکہ بھی ہوتا ہے۔ کئی نعشیں گرتی ہیں، محترمہ گر جاتی اور ہسپتال پہنچنے تک اللہ کو پیاری ہو چکی ہوتی ہیں، ایک ریٹائر سینئر پولیس افسر دوست آج بھی یہ کہتے ہیں کہ حقائق بھی چھپا لئے گئے محترمہ کسی بلڈنگ سے کسی سنائیپر کی گولی سے شہید ہوئیں۔ غیر جانبدار پوسٹ مارٹم اور تحقیقات سب کچھ بتا سکتی تھیں۔ یہ سوال اپنی جگہ کہ عبدالرحمن ملک کہاں گئے؟ پیر سائیں مخدوم امین فہیم کیوں نہیں بولتے اور ڈاکٹر صفدر عباسی اور بیگم ناہید عباسی نے وقوعہ کے بارے میں کتنا بتایا اور کس قدر ابھی تک ان کے سینوں میں محفوظ ہے؟

یہ دن آتا ہے تو ایسی سب باتیں دہرائی جاتی ہیں، سوال پوچھا جاتا ہے،تاہم اب تو یہ پوچھا گیا کہ حالات حاضرہ میں وہ ہوتیں تو؟ ہم کہتے ہیں وہ زیادہ دلیری اور زیادہ حوصلے کے ساتھ آواز بلند کرتیں اور دہشت گردی کے خلاف شانہ بشانہ چلتیں کہ محترمہ کا ایک جرم یہ بھی تھا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف تھیں۔آج کے دن کے حوالے سے تو یہ بھی دکھ اور افسوس ہے کہ مرکزی تقریب نوڈیرو میں حفاظتی حصار کے ساتھ ہوگی۔ مزار کے باہر میدان میں نہیں؟ اور پھر یہ کیسا وقت ہے کہ باپ بیٹے میں پالیسی کا اختلاف، پارٹی کے حوالے سے اختلاف اور امکانی طور پر خاندانی مسائل میں بھی یہی امر واقع ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک بات کی جارہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نوجوان اور صحت مند ہیں لیکن شرجیل میمن کہتے ہیں۔ ”ڈاکٹروں نے سفر سے منع کیا ہے“ برفانی موسم میں باپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کیا یہ تصویر پرانی ہے جو اب ریلیز کی گئی؟ حالات نے سوالات کو جنم دیا افسوس کہ آج بلاول والدہ کی برسی پر نہیں ہے،دیکھیں زرداری کیا کہتے ہیں ان کو اس حوالے سے تفصیلی بات کرنا ہوگی اور کرنا چاہیے، ورنہ افسانے تو بنیں گے۔

مزید : کالم