اب لال مسجد نہیں، سبز مسجد

اب لال مسجد نہیں، سبز مسجد
اب لال مسجد نہیں، سبز مسجد

  

وہ جنہوں نے سینکڑوں بے گناہوں کو خون میں نہلایا، سینکڑوں خاندانوں کو برباد کیا، ہزاروں نوجوانوں کو ذہنی طور پر تبدیل کر کے انہیں قتل و غارت پر اکسایا اور انہیں یقین دلایا کہ وہ جس ”راستے“ پر چل رہے ہیں، یہی راستہ انہیں جنت اور حوروں“ تک پہنچائے گا اور جن لوگوں کو تم خون میں نہلا رہے ہو، یہ لوگ دوزخ کا ایندھن بنیں گے، مگر جب خود پھانسی کے تختے پر چڑھائے جانے لگے تو خوف سے ان کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے۔ پوری دنیا کو اپنی دہشت سے ڈرانے والے دس فٹ کی رسی اپنے گلے کے قریب آتی دیکھ کر خوف کے مارے کانپنے لگے۔ فریاد کرنے لگے کہ وہ گناہ گار ہیں۔ انہوں نے بے گناہ لوگوں کے خون سے ہاتھ رنگے، انہیں ایک بار معاف کر دیا جائے، مگر کاتب تقدیر نے ان کے خلاف فیصلہ لکھ دیا تھا اور پھر یہ لوگ اپنے کئے کی سزا پا گئے، کچھ چند دنوں تک پا لیں گے۔ حکومت نے جن دہشت گردوں کو پھانسی چڑھایا، ان کے پھانسی چڑھائے جانے کے مناظر مختلف نیوز چینلوں پر براہ راست دکھائے گئے ہیں۔ پاکستان کے عوام نے ان دہشت گردوں کے پھانسی لگنے کے مناظر دیکھنے کے بعد خوشی کا اظہار کیا ہے، حالانکہ حضرت میاں محمد بخش ؒ نے فرمایا تھا کہ ”دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے، سجناں وی مر جانا“ تو پھر سوال یہ ہے کہ صوفیا کی دھرتی کے باسیوں نے دہشت گردوں کی پھانسی پر خوشی کیوں منائی؟ انہیں ان لوگوں کی موت پر دُکھ کیوں نہیںہوا؟ کیا پاکستان کے عوام کے دل پتھر کے ہو گئے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے عوام کے دل نہ تو پتھر کے ہو گئے ہیں اور نہ ہی وہ کسی کی موت پر خوشی منانا پسند کرتے ہیں، مگر ان دہشت گردوں کا معاملہ مختلف ہے۔ یہ دہشت گرد نہ تو انسان تھے اور نہ ہی رحم کے قابل، یہ ایک ایسی مخلوق تھے جو مخلوق میں ”موت“ بانٹنے کے لئے نازل ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام نے ایک مطالبہ یہ بھی کیا ہے کہ ان لوگوں کو سرعام چوراہوں پر پھانسی چڑھایا جائے، مگر شاید حکومت کی کچھ ”مجبوریاں“ ہیں۔ امریکہ اور اُس کے حواری خود تو کسی بھی ملک کے عوام کو دھڑلے سے قتل کرنے پر یقین رکھتے ہیں، مگر پاکستان یا پاکستان کی طرح کا کوئی دوسرا اسلامی ملک اپنے شہری مجرموں کو قانون کے مطابق پھانسی کی سزا پر عمل کرے تو ان ممالک کے نزدیک اس سے انسانی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ پوری یونین اور امریکہ کو تکلیف ہوتی ہے، مگر بدقسمتی کی بات دیکھئے کہ یورپی یونین کے ساتھ ساتھ لال مسجد کے ”مُلاں“ عبدالعزیز بھی دہشت گردوں کے ہمنوا بن کر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں واضح طور پر یہ کہا ہے کہ وہ پشاور دھماکے کے حوالے سے مذمت کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہیں۔

 ”مُلاں“ عبدالعزیز کے ایک بیان پر پوری پاکستانی قوم رنجیدہ ہے۔ مختلف علاقوں میں ان کے بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ ”مُلاں“ عبدالعزیز کو لال مسجد کے امام کے معاملات سے علیحدہ کیا جائے، بلکہ بعض لوگوں نے تو کہا ہے کہ ”مُلاں“ عبدالعزیز کو فاٹا کے پہاڑوں کے درمیان چھوڑ دیا جائے، تاکہ وہ اپنے ”پیاروں“ کے ساتھ اپنی باقی زندگی بسر کریں۔ ”مُلاں“ عبدالعزیز لال مسجد کے خطیب تھے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں لال مسجد کے چند طالب علموں نے اچانک سڑکوں پر نکلتے ہوئے آس پاس کے لوگوں کو اسلام کے نام پر ہراساں کرنا شروع کیا تو اسلام آباد کے شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر دیا۔ شہریوں کے اس مطالبے کے بعد لال مسجد کے طالب علموں اور طالبات نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ایک سرکاری ادارے کے آفس پر قبضہ کر لیا اور طالبات نے ہاتھوں میں ڈنڈے پکڑ کے نزدیک کی مارکیٹوں پر ہلہ بول دیا، ان طالب علموں اور طالبات کی اس حرکت پر حکومت نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی، مختلف سیاسی و دینی شخصیات نے بھی ان کے ساتھ بات چیت کی، مگر ”مُلاں“ عبدالعزیز اور ان کے بھائی غازی عبدالرشید نے انتہائی سخت رویہ اپناتے ہوئے معاملات کو بگاڑ دیا۔

 مسجد میں موجود طالب علموں اور طالبات نے کتابیں ایک طرف رکھتے ہوئے کلاشنکوفیں اور دستی بم سنبھال لئے، غازی عبدالرشید ایک ”سپہ سالار“ کے طور پر ابھر کے سامنے آئے۔ انہوں نے ریاست کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے اس کے ساتھ مقابلہ شروع کر دیا، چند ہی گھنٹوں کے بعد پتہ چلا کہ مسجد میں موجود لوگوں کے ساتھ عام پولیس فورس مقابلہ نہیں کر سکتی، کیونکہ لال مسجد کے اندر دہشت گرد بھی موجود ہیں، جو گوریلا جنگ کی تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ ان حالات میں پاک فوج کو طلب کیا گیا، ایک انتہائی حساس معاملہ تھا۔ ایک طرف مسجد تھی اور دوسری طرف پاک فوج، پاک فوج کو بھی شاید پہلی بار مسجد کے اندر سے مزاحمت کا سامنا تھا، عبدالعزیز کسی خاتون کا برقعہ پہن کر مسجد سے باہر نکل آئے یا نکال دیئے گئے۔ عبدالرشید غازی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، ان کے خلاف کئی غیر ملکی دہشت گرد بھی ہلاک کر دیئے گئے۔ اس اپریشن کے دوران طالب علم اور طالبات بھی جاں بحق ہوئیں، پاکستان کے عوام کے دِلوں میں آج تک لال مسجد میں بے گناہ طلبہ اور طالبات کی موت کا دُکھ موجود ہے اور اس حوالے سے جنرل پرویز مشرف کے خلاف غم و غصہ بھی پایا جاتا ہے۔ بعد ازاں لال مسجد کو دوبارہ سے مرمت کر دیا گیا، بہت سے علماءکی مداخلت پر عبدالعزیز کو ایک بار پھر لال مسجد کے معاملات سونپ دیئے گئے، اپنے بیان کی روشنی میں وہ ریاست کے دشمن ثابت ہوئے ہیں۔

 افسوس کی بات ہے کہ ایک پڑھے لکھے بزرگ شخص کو اس بات کا ذرا بھر بھی افسوس نہیں ہے کہ دہشت گردوں نے پشاور کے سکول میں 143 کے قریب خاندان اجاڑ دیئے ہیں۔ انہوں نے سکول میں قیامت ڈھا دی ہے، چھوٹے چھوٹے بچوں کو گھنٹوں محبوس رکھتے ہوئے گولیوں کا نشانہ بنایا ہے، عورتوں کو زندہ جلایا ہے، مگر ”مُلاں“ کے دل میں دہشت گردوں کے لئے بہت جگہ ہے، سو حکومت کو چاہئے کہ وہ عبدالعزیز کو فوری طور پر لال مسجد کے معاملات سے دور رکھے، اب اس ملک میں کسی ایسے شخص کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے جو ریاست پاکستان اور اس کے عوام کے مفادات کے خلاف ایسی سوچ رکھتا ہے۔ لال مسجد کے حوالے سے بیان میں الطاف بھائی نے مسجد گرانے کا مطالبہ کیا ہے، اپنے حالیہ بیان سے پہلے بھی وہ ایسے بیانات دیتے رہے ہیں، لیکن مسجد کے حوالے سے یہ مطالبہ درست نہیں ہے کہ اسے گرا دیا جائے۔البتہ کچھ تبدیلیاں بہت ضروری ہیں، مسجد کے رنگ کے لئے سبز رنگ بہت مناسب ہے۔ اللہ کے رسول حضرت محمد کے روضے کا گنبد بھی سبز ہے۔ سبز رنگ آنکھوں اور دِلوں میں سرور پیدا کرتا ہے اور پھر ”سبز مسجد“ نام بھی بہت خوبصورت ہے۔ رنگ کی تبدیلی سے مسجد کے ماحول میں تبدیلی آئے گی ۔ میرے خیال میں مسجد کو شہید کرنے کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اس کا نام، رنگ اور ماحول بدلنے کی ضرورت ہے۔ تبدیلی سے مسجد کے ساتھ وابستہ شخصیات اور واقعات آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں گے۔

مزید : کالم