محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت.... چند گوشے

محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت.... چند گوشے
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شخصیت.... چند گوشے

  

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید جس سج دھج سے مقتل میں گئیں، اس کا بانکپن اور تمکنت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُن کی شخصیت کو ایک ایسی دیو مالائی حیثیت دے رہا ہے، کہ جس کی صرف داستانوں ہی میںمثال ملتی ہے۔ وہ بھٹو خاندان کی 400 سالہ تاریخ میں پہلی خاتون ہیں، جو نہ صرف سیاست میں آئیں، بلکہ دو مرتبہ وزارتِ عظمیٰ پر فائز ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ وہ پاکستان کی واحد خاتون سیاسی رہنما ہیں، جنہیں دہشت گردی کا نشانہ بنا کر زندگی سے محروم کر دیا گیا۔محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے دادا سرشاہ نواز بھٹو کے بعد بھٹو خاندان کی دوسری ایسی شخصیت ہیں، جس نے زیادہ عمر پائی۔ ان کے دادا کی عمر 69سال تھی، باقی خاندان کا کوئی فرد50سال سے اوپر نہ جا سکا۔ صرف ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو51 سال زندہ رہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دادا غلام مرتضیٰ بھٹو تو صرف31سال کی عمر میں وفات پا گئے، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دشمنوںنے انہیں زہر دے دیا تھا۔ بھٹو خاندان کی تاریخ پڑھیں تو اس میں ایک خاص طرح کی انفرادیت اور بے کلی نظر آتی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھٹو خاندان میں خواتین کو عملی زندگی میں آگے لانے کی روایت موجود نہیں تھی۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے، جنہوں نے اس روایت کو توڑا اورمحترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنے دونوں بیٹوں پر فوقیت دیتے ہوئے سیاسی زندگی کے اسرار و رموز سے اوائل عمری میں آگاہ کرنا شروع کیا، جو لوگ آج یہ کہہ رہے ہیں کہ بھٹو خاندان کی لڑی غلام مرتضیٰ بھٹو کو ملنی چاہئے، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ خود اپنی زندگی میں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی کو اہمیت دی تھی اور بعدازاں بیٹی نے بھی ثابت کیا کہ ان کے عظیم والد کی ان سے وابستہ توقعات غلط نہیں تھیں۔ ایک جاگیردارانہ معاشرے کے جاگیردار گھرانے کی سوچ میں یہ تبدیلی بڑی اہمیت کی حامل تھی۔ اس تبدیلی کے اثرات بعدازاں ملک کی پوری سیاست و معاشرت پر مرتب ہوئے۔ آج اگر بلاول بھٹو زرداری بھٹو خاندان کی علامت جماعت پیپلزپارٹی کے چیئرمین بنائے گئے ہیں تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔ یہ وہی عمل ہے،جس کی بنیاد در حقیقت ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی کا جائزہ لیتے ہوئے اس نکتے پر ضرور غور کیا جانا چاہئے کہ آخر ذوالفقار علی بھٹو نے ان میں کون سی ایسی صلاحیتیں محسوس کی تھیں، جن کی وجہ سے انہیں اپنے دونوں بیٹوں پر بے نظیر بھٹو کو ترجیح دینے کا خیال آیا تھا۔ لامحالہ یہ بے نظیر بھٹو کی ذہانت، سیاسی سوجھ بوجھ اور اپنے پاپا کو آئیڈیل سمجھنے کی انفرادیت ہو گی، جس نے بھٹو صاحب جیسے عقابی نگاہ رکھنے والے رہنما کو یہ راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا۔ کیا بھٹو صاحب یہ نہیں جانتے تھے کہ پاکستانی معاشرے میں سیاست جیسا سنگلاخ میدان کسی بھی طرح خواتین کے لئے سازگار نہیں۔ وہ ضرور جانتے ہوں گے، مگر دوسری طرف انہیں اپنی بیٹی کی صلاحیتوں پر بھی اعتماد ہو گا اور بالآخر اس اعتماد کا اظہار انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنا سیاسی جانشین بنا کر کیا۔

بھٹو خاندان کی تاریخ میں دو مماثلتیں ایسی ملتی ہیں، جو اس میں جنم لینے والی دو بڑی شخصیات کے نکتہ ظہور کے اسباب کو ظاہر کرتی ہیں۔ سر شاہ نواز بھٹو نے اپنی زندگی ہی میں اپنے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو کو سیاسی طور پر متعارف کرانا شروع کر دیا تھا وہ اسے اپنے سیاسی جانشین کے طور پر آگے لا رہے تھے۔ انہیں یہ احساس تھا کہ سندھ کو پاکستان میں شامل کرانے کے لئے بھٹو خاندان کی خدمات ناقابل تردید ہیں، اس لئے بھٹو کو سندھ کی بنیاد پر پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنا چاہئے۔ سر شاہ نواز کی توقعات پوری ہوئیں اور ایک وقت ایسا آیا کہ بھٹو پاکستان کی سیاست کا سب سے بڑا نام بن گئے۔ دوسری طرف ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے باپ کی پیروی تو کی، لیکن ایک دوسرے انداز سے انہوں نے اپنی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کو اوائل عمری ہی میں سیاست کے داﺅ پیچ سکھانا شروع کر دیئے۔ وہ نہ صرف ملکی سیاست کے اہم مراحل میںاپنے والد کے ساتھ رہیں، بلکہ غیر ملکی دوروں میں بھی بھٹو اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے، مگر دوسری طرف انہوں نے بیٹی کی اعلیٰ تعلیم کے لئے وہی ادارے منتخب کئے تھے، جو ان کے والد نے ان کے لئے منتخب کئے تھے۔ اس طرح محترمہ بے نظیر بھٹو کے ذہن و دل کو بھٹو خاندان کی سیاسی وارث کے طور پر تیار کیا گیا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کو جس قسم کے چیلنجوں کا سامنا تھا اور جس نوعیت کے خطرات درپیش تھے، ان کی موجودگی میں کوئی عام آدمی اپنی پُرآسائش زندگی کو امتحان میں ڈالنے کا راستہ اختیار نہیں کرتا، لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کے سامنے ایک طرف بھٹو خاندان کی روایات تھیں، تو دوسری طرف زندگی کی ہر نعمت سے بہرہ مند زندگی۔ وہ چاہتیں تو بھٹو خاندان کے سیاسی ورثے کو اگلی نسل تک کے لئے اٹھا رکھتیںاور خود عیش و آرام کی زندگی گزارتیں۔ بلاول، بختاور اور آصفہ کے ساتھ ان کی خوبصورت باتوں اور قہقہوں کی موجودگی میںلمحات کو یادگار بناتیں، سیاست کی سنگلاخ زندگی کے عذابوں سے محفوظ رہتیں،مگر یہ ان کی سرشت ہی میں نہیں تھا، جس ماحول میں ان کی تربیت ہوئی تھی اور جس طرح انہوں نے اپنے عظیم باپ کو آمریت کے سامنے سینہ سپر دیکھا تھا، اس کی وجہ سے ان کے لئے یہ ممکن ہی نہ تھا کہ وہ چیلنجوں کا سامنا کرنے سے باز آ جاتیں۔18اکتوبر2007ءکو ان پر حملے کے بعد ان کے لئے پھر اس بات کا جواز پیدا ہو گیا تھا کہ وہ اس خطرناک راستے سے واپس لوٹ جائیں، مگر سب اس بات کے گواہ ہیں کہ اس واقعے نے ان کے پاﺅں میں لغزش پیدا کرنے کی بجائے، ان کے استقلال میں مزید استحکام پیدا کر دیا۔ وہ اس واقعہ کے اگلے ہی روز گھر کی چار دیواری کی بجائے عوام میں تھیں اور مردانہ وار حالات کا سامنا کر رہی تھیں۔18اکتوبر سے27دسمبر 2007ءتک ان کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے، تو اس پر ایک جنون غالب نظر آتا ہے۔ عوام کے درمیان رہنے اور ملک میں جمہوریت لانے کا جنون۔ یہ شاید اِسی جنون کا اثر تھا کہ لیاقت باغ کے جلسہ سے واپس لوٹتے ہوئے وہ عوام کے پُرجوش نعروں کا جواب دینے کے لئے گاڑی کے سن روف سے باہر نکلیں اور گولی کا نشانہ بن گئیں، بظاہر ان کا جسم ختم ہو گیا، مگر وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گئیں۔ ان کی شخصیت ہر نئے دن کے ساتھ ایک نئے روپ میں اُبھرے گی، بالآخر ایک دن ایسا بھی آئے گا، جب لوگ کہیں گے کہ بے نظیر بھٹو حقیقی نہیں افسانوی کردار ہے،کیونکہ کسی انسانی کردار کی اتنی پرتیں اور جہتیں نہیں ہوتیں، جتنی بے نظیر بھٹو کی ہیں۔ بھلا کوئی انسان ایسا بھی ہو سکتا ہے، بھلا کسی عورت میں ایسی جرا¿ت بھی ہو سکتی ہے، بھلا کوئی دولت مند عوام کے لئے اس طرح جان خطرے میںڈال سکتا ہے، بھلا کوئی ماں اپنے بچوں کو چھوڑ کر زندگی کھو جانے کا خطرہ مول لیتی ہے۔ یہ اور نجانے اس قسم کی کتنی باتیں جنم لیں گی اور آنے والی کئی صدیاں ان کے نام کی مالا جپتی رہیں گی۔

بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو ایک مذہبی رجحان رکھنے والی خاتون تھیں۔ ان کی پرورش ایک ہمہ جہت ماحول میں ہوئی تھی۔ ایک طرف مغرب کی اعلیٰ تعلیم کے مواقع، مقتدر سوسائٹی کی لبرل زندگی اور دوسری طرف مذہبی اقدار و روایات کا پاس، محترمہ کی زندگی میں یہ دونوں انتہائیں بڑی خوبصورتی کے ساتھ یکجا نظر آتی ہیں۔محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی عام مسلمان گھرانوں کی بچیوں کی طرح مدرسے سے آنے والے مولوی صاحب سے قرآن مجید پڑھا۔ ان کی والدہ نصرت بھٹو نے ان کی دینی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔محترمہ بے نظیر بھٹو ایک جگہ لکھتی ہیں:”جب مَیں9 سال کی ہوئی تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ شامل کرنا شروع کر دیا، وہ چپکے سے میری خواب گاہ میں داخل ہوتیں اور مجھے نماز فجر کے لئے لے چلتیں، ہم دونوںایک ساتھ وضو کرتے“ بچپن میں ان کی تربیت میں جو مذہبی رجحان پیدا ہوا تھا، وہ مغرب میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود برقرار رہا۔

مزید : کالم