بھا رتی سیکو لر ازم

بھا رتی سیکو لر ازم
بھا رتی سیکو لر ازم

  

 اس سال مئی میں جب بی جے پی نے مودی کی قیادت میں بھا ری اکثریت سے اقتدار حا صل کیا تو بھا رتی میڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستانی، حتیٰ کہ مغر بی میڈیا کے بڑے حصے کا مو قف بھی یہی تھا کہ چونکہ مودی کی انتخابی جیت میں کا رپوریٹ سیکٹر کا کردار کلیدی رہا ہے، اس لئے اپنے انتہائی فرقہ پرست ما ضی کے با وجود مودی بحیثیت وزیراعظم بھا رتی معیشت پر ہی اپنی توجہ مرکوز کریں گے، کیو نکہ بھا رتی کارپو ریٹ سیکٹر نے مو دی کی انتخا بی مہم میں اربوں روپیہ اسی مقصد کے لئے لگا یا ہے کہ اپنے انتخا بی وعدوں کے تحت مو دی جمود کا شکار بھارتی معیشت میں ایسی اصلا حا ت متعا رف کر وائیں گے ، جن سے بھا رتی کا رپو ریٹ سیکٹر کو فا ئدہ ہو۔مودی سرکا ر کے اقتدار کو چھ ما ہ سے زیادہ کا عر صہ ہو چکا ہے، مگر تاحال معیشت کی بہتری کے لئے مودی کا کو ئی ایک بھی اقدام ایسا نہیں ہے، جس کا تعلق اصلاحات سے ہو، بلکہ گز شتہ چھ ما ہ کے عر صے کو دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ مودی اور اس کی کا بینہ کے اکثر وزرا کی توجہ ہندتوا کے ایجنڈے کو پوری طرح نا فذ کرنے میں ہی لگی ہو ئی ہے۔اگر کو ئی ریا ست اپنے آئین یا سیاسی نظام میں کسی ایک خا ص مذہب یا عقیدے کو اپنا نے کی با ت کرے تو با ت پھر بھی سمجھ میں آ جاتی ہے، مگر سیکو لر ازم کی دعو یدار ریا ست کے حکمرانوں کی جانب سے ایک خاص عقیدے یا سوچ کو دوسروں پر نافذ کرنا سیکو لر اصولوں کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔  مودی کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ہند توا ایجنڈے کو پورا کر نے کے لئے جو کچھ اس وقت بھا رت میں ہو رہا ہے، اس پر خود بھا رتی سیکو لر حلقے بھی حیرت کا اظہا ر کر رہے ہیں۔انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس، جس نے بی جے پی کے بطور ایک سیاسی قوت بننے میں کلیدی کردار ادا کیا( مودی سمیت بی جے پی کے کئی رہنما بھی اس تنظیم کا حصہ رہے ہیں) اس تنظیم کا سر براہ موہن بھگوت اعلا نیہ بھا رتی مسلما نوں اور عیسا ئیوں کو ہندو بنا نے کی با تیں کر رہا ہے ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے آر ایس ایس کی ایک ذیلی تنظیم۔۔۔ Dharma Jagran Manch ۔۔۔آ گرہ میں 300 غر یب مسلما نوں کو راشن کا رڈز اور ایسی مرا عات کے عوض ہندو بنا چکی ہے۔ اِسی طر ح 20دسمبر کو گجرات میں 225 غریب قبا ئلی افراد کو، جو مذہب کے اعتبا ر سے عیسائی تھے،معا شی مفادات کاجھا نسا دے کر ہندو بنا دیا گیا اور اب کرسمس کے موقع پر چار ہزار عیسا ئیوں اور ایک ہزار مسلما نوں کو علی گڑھ میں ہندو بنا نے کا اعلان کیا گیا ہے۔اس تنظیم کے ایک لیڈر راجیشور سنگھ کے مطا بق اس مقصد کے لئے علی گڑھ شہر کو اس لئے چنا گیا ہے تا کہ مسلمانوں سے اس شہر کو واپس لے کر اسے ہندو بنا یا جائے، جبکہ کر سمس کا دن اس لئے چنا گیا ہے تا کہ عیسا ئیوں پر یہ واضح کیا جا ئے کہ عیسا ئیوں کے اس مقد س دن پر چار ہزار عیسا ئیوں نے اس مذہب کو چھوڑ دیا۔ غریب لوگوں کو روٹی کا آسرا دے کر ان کے مذہب تبدیل کروانے کے اس عمل کو پوری دنیا میں سیکولرازم کے اصولوں کے منا فی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے 23دسمبر کو امریکی اخبا ر ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ میں۔۔۔ GARDINER HARRIS کے آرٹیکل Reconversion146 of Religious Minorities Roils India146s Politics۔۔۔ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ سیکولرازم کے اصولوں کی خلاف ورزی پر مودی نے جان بوجھ کر خا موشی اختیار کی ہوئی ہے تاکہ ایسی کارروائیوں کو مزید شہ ملے۔۔۔ Dharma Jagran Manch ۔۔۔کے لیڈر راجیشور سنگھ نے یہ دعویٰ بھی کر دیا ہے کہ 2021ء تک بھا رت میں نہ کو ئی عیسا ئی رہے گا نہ مسلمان ،بلکہ سب ہندو بن جا ئیں گے۔بھا رتی ہندو انتہا پسند تنظیمو ں، آر ایس ایس،ہندو مہاسبھا، جن سنگھ، وشوا ہندو پریشد ، بجر نگ دل سمیت ایسی کئی اور ہندو انتہا پسند تنظیمیں آزادی سے قبل اور اس کے بعد ایسے ہی نظر یا ت کی حا مل رہی ہیں۔ 19ویں صدی کے وسط میں انتہا پسند ہندومفکرین کی جانب سے ایسی با توں کو سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرنا شروع کیا گیا کہ ہندو ازم ہی ہندوستان کی اساس ہے۔ ہندوستان کے تمام مسلمان اور عیسا ئی پہلے ہندو تھے، ان کو زبر دستی ہندو دھرم چھو ڑ کر مسلمان یا عیسا ئی کیا گیا، لہٰذا ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں اور عیسائیوں کو واپس ہندو دائر ے میں آنا ہو گا۔ آزادی کے بعد بھی ایسی انتہا پسند تنظیموں نے اپنے انہی خیا لا ت کا پرچار جا ری رکھا، بلکہ خود موہن داس کرم چند گا ندھی کو بھی ایک ہندو انتہا پسند تنظیم ہندو مہاسبھا سے تعلق رکھنے والے نتھو رام گھو ڈسے کے ہاتھوں 1948ء میں اپنی جان سے ہا تھ دھونا پڑے۔ہندو ثقافت، ہندی زبان ، گا ئے کشی پر پا بندی، مسلما نوں اور عیسا ئیوں کو بھی ہندو ازم کے دائرے میں لانے جیسے مطالبات آزادی کے بعد بھی جا ری رہے۔ نومبر 1966ء میں گلزاری لعل نندا جیسے مضبوط وزیر داخلہ کو ہندو انتہا پسند تنظیمو ں کی جانب سے گا ئے کشی کے خلاف بڑے پیمانے پرہونے والے مظاہروں پر صورت حال کو کنٹرول نہ کرنے کے با عث ہی مستعفی ہونا پڑا۔اِسی طرح 1970ء کی دہا ئی میں جن سنگھ کی جا نب سے اردو زبان کے خلاف اور ہندی کے حق میں بڑے پیمانے پر پُرتشدد مظاہرے بھی سامنے آئے ، پھر 1990ء کی دہا ئی میں با بری مسجد گرا کر رام مندر بنا نے کے پرانے مطالبے میں بی جے پی اور دیگر انتہا پسند تنظیموں نے سیا ست کی۔ ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جا نب سے ایسے چھو ٹے بڑے واقعات میں ریا ست کا پلڑا واضح طور پر کسی ایک جا نب نہیں ہو تا تھا ، حتیٰ کہ خود بی جے پی 1998ء میں جب اتحا دیوں کے ساتھ پہلی بار اقتدار میں آئی تو اٹل بہا ری واجپائی کی حکو مت نے بی جے پی کے ہندتوا ایجنڈے کو اپنانے کے لئے جا رحانہ رویہ اختیا ر نہیں کیا تھا، مگر اب مودی دور میں واضح طور پر آر ایس ایس کے ایجنڈے کو اپنانے کے لئے جا رحانہ رویہ اختیا ر کیا جا رہا ہے۔ مودی کا بینہ کی وزیر نیرانجن جیوتی کابیان کہ بھارت میں رام زادے(رام کے پیرو کار) بستے ہیں اور جو رام زادہ نہیں وہ حرام زادہ ہے۔ایک اور بھارتی وزیر کلراج مشرا کی جا نب سے ہندوازم کو بھارت کی واحد شنا خت قرار دینا، بھا رتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی جانب سے گیتا کو بھا رت کی قومی کتاب قرار دینے کی بات کرنا،بی جے پی کے لوک سبھا میں ارکان ، یوگی اور ستاش گوتم، کاآگرہ میں 300 مسلمانوں کو ہندو بنا نے کی تقر یب میں شا مل ہونا ، حکومت کی جانب سے کرسمس کے روز کو ہندو مہا سبھا رہنما مدن موہن مالویہ کے دن کے طور پر منا کر کرسمس کی اہمیت کو کم کرنا ،وزیر داخلہ راجنا تھ سنگھ کی جانب سے اعلانیہ یہ کہنا کہ آر ایس ایس ہم سے جدا اور الگ تنظیم نہیں، بلکہ یہ ہما را ہی حصہ ہے۔ مودی حکومت کے چھ ماہ کے دوران بیان کئے گئے یہ چند واقعات اور بیانا ت ثابت کر رہے ہیں کہ اس مرتبہ بی جے پی اپنا انتہا پسندی پر مبنی ایجنڈہ پو را کرنے کے لئے بھرپور جارحانہ رویہ اختیا ر کئے ہو ئے ہے۔ 2006ء میں چھپنے والی سچر کمیشن جیسی سرکاری رپورٹ سمیت کئی غیر جا نبدانہ رپورٹیں پہلے ہی یہ ثابت کرتی ہیں کہ بھا رت میں اقلیتیں معا شی، سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے انتہائی مشکلات کا شکا ر ہیں، جبکہ 2013-2014ء کا معا شی جا ئزہ بتا تا ہے کہ بھارت میں اب بھی 68.72 فیصد افراد روزانہ 2ڈالر سے بھی کم کماتے ہیں ۔کروڑوں افراد آج بھی صحت، تعلیم اور چھت جیسی بنیا دی ضرو ریا ت سے محروم ہیں۔ غربت، افلاس،معا شی جمود، کرپشن، دولت کی انتہائی غیر منصفانہ تقسیم ، نکسل باڑی اور درجنوں مسلح تحر یکیں،زبانوں اور نسلوں کے مسائل کے شکار ملک میں اب لوگوں کے مذاہب تبد یل کروانے اورایک خاص طرح کی مخصوص ثقافت کو ہندوازم کے نا م سے پورے ملک میں پھیلا نے کے لئے جا رحا نہ اقدامات کرنے سے واضح ہو تا ہے کہ اب بھا رتی حکمرانوں کے پا س لوگوں کے حقیقی مسا ئل کے حل کے لئے کوئی ایجنڈہ یا پرو گرام نہیں، اس لئے آج کے دور میں قرون وسطیٰ کے عہد جیسے لا یعنی مسا ئل کو زندہ کیا جا رہا ہے،جن کا ایک عام انسان کے حقیقی مسا ئل سے کو ئی تعلق نہیں۔

مزید : کالم