رواں سال محکمہ شہری دفاع نے قانون کی خلافورزی پر 2300نوٹس جاری کئے

رواں سال محکمہ شہری دفاع نے قانون کی خلافورزی پر 2300نوٹس جاری کئے
رواں سال محکمہ شہری دفاع نے قانون کی خلافورزی پر 2300نوٹس جاری کئے

  

لاہور(اپنے نمائندے سے) صوبائی دارالحکومت کی حدود میں کام کرنے والے ادارے سول ڈیفنس کی سالانہ کارکردگی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوا دی گئی ہے ،مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق رواں سال 2014میں سول ڈیفنس انتظامیہ نے نہ صرف ایل ڈی اے ،ریونیو ،ایجوکیشن ،ہیلتھ ،سرکاری ہسپتالوں ،اے جی آفس ،واپڈا ، ریلوے ، اینٹی کرپشن ،سول سیکریٹریٹ ،انڈسٹری ڈیپارٹمنٹ ، سکول ،کالجز ،محکمہ اوقاف سمیت دیگر 22صوبائی محکموں کے ملازمین کوکسی بھی ایمر جنسی اور ہنگامی حالت سے بخوبی نبرد آزما ہونے کے لئے خصوصی ٹریننگ دی اس کے علاوہ صوبائی دارالحکومت کی حدو د میں آنے والی عمارتوں ،مارکیٹوں ،پیٹرول پمپس،سی این جی اسٹیشن،کا بھی سروے کرتے ہوئے فارم الارم سسٹم کو بھی یقینی بنایا ،ہیٹ ڈیٹکٹر ،فائر ایکس ٹینگوشراور دوسرے ایمرجنسی آلات کی موجودگی کو بھی یقینی بنایا گیا ،اعدادو شمار کے مطابق رواں سال 4000سے زائد مقامات کے سروے کئے گئے جن میں 2300مقامات میں خلاف ورزی کی صورت میں نوٹسز جاری کئے گئے ،متعدد مقامات پر پیٹرول پمپس اور مارکیٹوں کو سیل بھی کیا گیا ، جرمانوں کی مد میں بھی 16لاکھ روپے کا ریونیو حکومتی خزانے میں جمع کروایا گیاجبکہ رواں سال سول ڈیفنس کے بنیادی کاموں پر روشنی ڈالنے کیلئے کئی سیمینار بھی کئے گئے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ آفیسر لاہور سول ڈیفنس قاری عالم شیر نے مزید آگاہی دی کہ سول ڈیفنس کے تربیت یافتہ اور آن ڈیوٹی 800سے زائد رضاکار ہیں جو مختلف سرکاری محکموں میں تعینات کئے جاچکے ہیں جہاں وہ اپنی پیشہ وارانہ ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں اسطرح 63دفتری سٹاف کے علاوہ 1000سے زائد رضا کاروں کی خدمات کسی ایمرجنسی کی صورت میں حاصل ہیں ،اس کے علاوہ اتوار بازاروں میں بھی سیکورٹی کے پیش نظر تمام تر معاملات کو بھی سول ڈیفنس کا عملہ بخوبی اداکرہا ہے جبکہ سوسل ڈیفنس انتظامیہ کے پاس بہترین گاڑیاں اور شفاف سسٹم موجود ہے جو کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں سیکنڈز اور منٹوں میں پہنچ رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ، ڈسٹرکٹ آفیسر سول ڈیفنس کا مزید کہنا تھا کہ سوس ڈیفنس کی ماہانہ کارکردگی رپورٹ ڈی سی او لاہور سمیت وزیر اعلیٰ ہاؤس کو بھی بھیجی جاتی ہے مانیٹرنگ کا انتہائی سخت فعال سسٹم ہونے کی وجہ سے کسی غلطی یا غفلت کی کوئی گنجائشنہیں ڈیوٹی میں غفلت برتنے کی صورت میں رضاکاروں کی تبدیلی اور معطلی کا سلسلہ بھی جارہی ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1