بے نظیر کیس روزانہ کی بنیادوں پر سنا جائے رحمان ملک

بے نظیر کیس روزانہ کی بنیادوں پر سنا جائے رحمان ملک

 سینیٹر و سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ بے نظیر بھٹو کیس کا مقدمہ روزانہ کی بنیادوں پر سننے کا حکم دے ،فوجی عدالتیں مقدمات میں تیزی لانے کیلئے بنائی گئی ہیں ،ججز اور گواہان کو دن دیہاڑے قتل کردیا جاتا ہے ان کو سکیورٹی فراہم کی جائے ، سانحہ پشاور کے تاریں افغانستان سے جا ملتی ہیں ، افغان صدر اشرف غنی مولوی فضل اللہ کو چوبیس گھنٹوں کے اندر پاکستان کے حوالے کرے ، کے پی کے کے پسماندہ علاقوں کو مراعات دی جائیں تو دہشتگردی کم ہوسکتی ہے ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے التجا ہے کہ وہ بے نظیر بھٹو قتل کیس کا مقدمہ روزانہ کی بنیادوں پر سنیں اور جلد از جلد اس کا فیصلہ بھی دے اگر حکومت کو ضرروت پڑتی ہے تو بے نظیر بھٹو قتل کیس کا مقدمہ فوجی عدالت میں بھی چلایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتیں مقدمات میں تیزی لانے کیلئے بنائی گئی ہے اس کی قانونی شکل مرتب کرنے کیلئے پارلیمنٹ کے اندر بل پاس کیاجائے گا اور پارلیمانی کمیٹی فوجی عدالتوں کی نگرانی بھی کرینگی ۔ سیاستدانوں نے فوجی عدالتوں کی حمایت کرکے دہشتگردی کیخلاف مقدمات کی سماعت کا درمیانی راستہ نکالا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ملک کے دیگر عدالتوں پر اعتماد نہیں کرتے بلکہ مقدمات میں تیزی لانے کیلئے کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ججز اور پراسکیوٹرز کو اور گواہان کو سکیورٹی فراہم کی جائے تو دہشتگردی کے مقدمات بھی سول کورٹس ، سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں چل سکتے ہیں ۔ رحمان ملک

مزید : صفحہ اول