بینظیر بھٹو نے مذہبی انتہا پسندوں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی تجویز پیش کی تھی، آصف زرداری

بینظیر بھٹو نے مذہبی انتہا پسندوں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی تجویز پیش ...

 اسلام آباد)پ ر (پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین سابق صدر آصف علی زرداری نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتویں یوم شہادت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا یوم شہادت ایک ایسے موقع پر آیا ہے جب پشاور میں ایک بہیمانہ حملے میں سکول کے 135بچوں کو تحریک طالبان پاکستان کے ظالموں نے شہید کر دیا۔ اس وقت ہمیں شہید محترمہ کی یہ تنبیہہ بھی یاد آتی ہے کہ مذہبی انتہاپسند ملک کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ان لوگوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جانا چاہیے۔ آج شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی بات سچ ثابت ہوگئی ہے اور ہم ان سب لوگوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے عسکریت پسندی اور انتہاپسندی سے لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اپنے پیغام میں سابق صدر نے کہا کہ یہ بات انتہائی اطمینان بخش ہے کہ قوم اس وقت عسکریت پسندوں اور انتہاپسندوں سے جنگ کرنے کے لئے پہلے سے زیادہ متحد نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ ان دہشتگردوں کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ وہ جمہوری نظام کو ختم کرکے ملک میں خلافت قائم کر دیں۔ یہ وہی ایجنڈا ہے جو عراق اور شام میں داعش کا ہے، کینیا میں الشباب کا ہے اور نائجیریا میں بوکو حرام کا ہے۔آصف علی زرداری نے کہا کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتویں یوم شہادت کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی واضح طور پر بتا دینا چاہتی ہے کہ ان دہشتگردوں کو ان کے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور عوام کی مدد سے جہاں جہاں بھی یہ عسکریت پسند اور انتہا پسند اپنا سر اٹھائیں گے انہیں کچل دیا جائے گا۔ آج ہمیں وہ سارے شہداء یاد ہیں جنہوں نے انتہاپسندی کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور انہی کی قربانیوں کی وجہ سے عسکریت پسند اپنے مذموم عزائم میں ناکام ہوئے ہیں اور ہم ان شہیدوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ سابق صدر نے مزید کہا کہ ہم تمام ان لوگوں کو بھی خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے ڈکٹیٹرشپ کے خلاف لڑتے ہوئے جلاوطنی اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کیں اور پھانسی کے پھندے کو چوم لیا اور ڈکٹیٹرشپ ملک میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں انہی لوگوں کی قربانیوں کی وجہ سے ناکام ہوئی اور ہم انہیں سلام پیش کرتے ہیں۔

مزید : صفحہ اول