ہائیکورٹ کی ڈیتھ وارنٹس کے اجراء سے متعلق رولز میں ترمیم، نوٹیفکیشن جاری

ہائیکورٹ کی ڈیتھ وارنٹس کے اجراء سے متعلق رولز میں ترمیم، نوٹیفکیشن جاری

 لاہور(سعید چودھری )لاہور ہائیکورٹ نے د ہشت گردی اور قتل جیسے سنگین مقدمات کے مجرموں کو جلد ازجلد پھانسی دینے کی راہ میں حائل آخری قانونی رکاوٹ بھی ختم کر دی ۔ ہائیکورٹ نے ڈیتھ وارنٹس کے اجرا ء سے متعلق اپنے رولز میں ترمیم کر کے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کے بعد مجرموں کوکم ازکم 14دن کی بجائے 72گھنٹے بعدپھانسی پر لٹکایا جاسکے گا۔لاہورہائی کورٹ نے اپنے ترمیمی رول میں سیشن ججوں کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں اور دیگر ٹرائل کورٹس کو بھی ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کا اختیار دے دیا ہے ،اس سلسلے میں ہائی کورٹ رولز میں لفظ سیشن کورٹ کے ساتھ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں اور ٹرائل کورٹس کے الفاظ کا اضافہ کردیا گیا ہے ۔ترمیمی رولز کے مطابق سیشن کورٹس ،انسداد دہشت گردی کی عدالتیں اور دیگر ٹرائل کورٹس جو ڈیتھ وارنٹس جاری کریں گی ان پر 3 سے 7دن کے درمیان عمل درآمد کرنا ضروری ہو گا۔اس سے قبل ڈیتھ وارنٹس کے اجراء کے بعد مجرموں کو 14دن سے قبل پھانسی نہیں دی جا سکتی تھی ۔اب پھانسی کے لئے کم از کم مدت 3 روز یعنی 72گھنٹے اور زیادہ سے زیادہ مدت 7 دن ہو گی ۔ مذکورہ ترمیم سے قبل ہائی کورٹ رولز جلد سوم کے قاعدہ نمبر 39کے تحت مجرم کو متعلقہ عدالت سے موت کا پروانہ جاری ہونے کے 14دن کے بعد ہی لیکن21روز سے قبل پھانسی دی جاسکتی تھی ۔جیل رولز میں بھی سزائے موت کے لئے یہی مدت مقرر تھی ، سانحہ پشاور کے بعد حکومت پنجاب نے جیل رولز کے قاعدہ نمبر105میں ترمیم کردی جس کے تحت ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کے 24گھنٹے کے بعد بھی سزائے موت دی جاسکتی ہے تاہم اس میں 7دن سے زیادہ تاخیر نہیں ہوسکتی ۔ نئے جیل رولز اور ہائیکورٹ رولز میں تضاد کے باعث ٹرائل کورٹس سے ڈیتھ وارنٹ جاری نہیں ہو پا رہے تھے ،اس تضاد کے خاتمے کے لئے پنجاب حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کو چٹھی لکھی تھی جس میں ہائی کورٹ رولز اور جیل رولز میں مطابقت پیدا کرنے کی استدعا کی گئی تھی ۔عدالت عالیہ نے مجرموں کو ڈیتھ وارنٹ موصول ہونے کے کم ازکم 24گھنٹے بعد سزائے موت دینے کے سرکاری فیصلے سے اتفاق نہیں کیا اور اپنے رولز میں یہ مدت 3 دن مقرر کی ہے تاہم ڈیتھ وارنٹس پر عمل درآمد کے لئے زیادہ سے زیادہ مدت اکیس دن سے کم کر کے سات دن کر دی ہے۔لاہور ہائیکورٹ کی طرح سندھ ہائیکورٹ سے بھی متعلقہ صوبائی حکومت سے رولز میں ترمیم کی استدعا کی تھی۔سندھ ہائیکورٹ نے ڈیتھ وارنٹ جاری ہونے کے بعد پھانسی دینے کی کم از کم معیاد چودہ روز سے کم کر کے سات روز کر چکی ہے تاہم سندھ ہائی کورٹ نے زیادہ سے زیادہ معیاد 21روز برقرار رکھی ہے۔قانون کے مطابق ڈیتھ وارنٹ جاری کرتے وقت متعلقہ ٹرائل کورٹ اس پر عمل در آمد کی مدت کا تعین بھی کرتی ہے ،اس بابت ٹرائل کورٹس ہائی کورٹ رولز کے تحت کارروائی کرتی ہیں ۔واضح رہے کہ مجرموں کے ڈیتھ وارنٹ ان کی آخری اپیل مسترد ہونے کے بعد جاری کئے جاتے ہیں۔

مزید : صفحہ اول