فوجی عدالتوں میں مقدمات ، وفاقی حکومت کی طرف سے بھجوائے جائیں گے

فوجی عدالتوں میں مقدمات ، وفاقی حکومت کی طرف سے بھجوائے جائیں گے
فوجی عدالتوں میں مقدمات ، وفاقی حکومت کی طرف سے بھجوائے جائیں گے

  

تجزیہ چودھری خادم حسین

فوجی قیادت نے کل جماعتی کانفرنس کی طرف سے منظور کئے جانے والے 20نکاتی قومی منصوبہ عمل برائے انسداد دہشت گردی پر اطمینان کا اظہار کیا اور حکومت سے کہا ہے کہ ان نکات پر عمل درآمد میں تیزی دکھائی جائے جبکہ خود انہوں نے پاک فوج کی کارکردگی اور حکمت عملی کا جائزہ لیا، ایک اطلاع کے مطابق جی ایچ کیو نے چیف کی ہدایت کی روشنی میں فوجی افسروں کی صدارت میں خصوصی عدالتوں کے قیام کے لئے ہوم ورک بھی شروع کر دیا ہے۔ اس سے سنجیدگی کے تاثر میں اضافہ ہوتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وزیراعظم محمد نوازشریف نے خود اپنی نگرانی میں آئینی اور قانونی ضرورتیں پورا کرنے کے لئے زور دینا شروع کیاہے، ایک اطلاع یہ بھی دی گئی ہے کہ پیپلزپارٹی ، متحدہ قومی موومنٹ اور اے این پی نے ،جنرل راحیل شریف کی وضاحت کے بعد ہی فوجی عدالتوں کے بارے میں اپنے تحفظات پر زور نہ دیا کہ جنرل کی طرف سے واضح کر دیا گیا کہ یہ نظام صرف اور صرف دہشت گردوں کی دہشت گردانہ وارداتوں کی سماعت کے لئے وضع کیا جا رہا ہے اور ان عدالتوں میں وہی مقدمات زیر سماعت آئیں گے جو وفاقی حکومت کی طرف سے بھیجے جائیں گے۔ وفاقی حکومت کی طرف سے پہلے ہی کہہ دیا گیا کہ یہ نظام سیاسی جماعتوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔

کل جماعتی پارلیمانی کمیٹی نے جو 20نکات منظور کئے، ان میں ایک یہ بھی ہے کہ میڈیا ذمہ داری کا ثبوت دے اور دہشت گردوں یا ان کے حمایتیوں کے حوالے سے مثبت کردار کا مظاہرہ کرے، اس حوالے سے بہتر عمل میڈیا والوں کو بلا کر ان کے ساتھ ڈائیلاگ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ خود میڈیا والے بھی زیادہ ذمہ داری کے قائل ہیں اور میڈیا کے اندر بھی یہ بحث چل رہی ہے کہ ذمہ داری کی حدود کا تعین خود ہی کر لیا جائے کہ قومی میڈیا کو بھی قومی سلامتی منظور ہے اس سلسلے میں حکومت اور میڈیاکے درمیان مشاورت ضروری ہے۔

پارلیمانی کمیٹی نے جو قومی منصوبہ عمل برائے انسداد دہشت گردی منظور کیا وہ جہاں جلد اقدامات کا تقاضا کرتا ہے وہاں احتیاط بھی ضروری ہے کہ انتہا پسندی کو ختم کرنے کی بات تو کی گئی لیکن اس کی تشریح نہیں کی گئی یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔ خود انتہا پسند حضرات ، جماعتیں اور تنظیمیں انتہا پسندی کی مخالفت کرتی ہیں لیکن اپنے انتہاپسندانہ رویے کو درست قرار دینے کے لئے دلائل لاتی ہیں، یہ عمومی رویہ ہے اور یہی الجھن اور پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔ تیزی سے کام ضروری ہے تو بات چیت اور مثبت حکمت عملی بھی لازمی ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کی طرف بھی توجہ دے لینا چاہیے کہ اس کی طرف سے اچھی تجاویز آ رہی ہیں، ایسے ہی تقریباً سبھی جماعتوں نے بہتر تجاویز دی ہیں جو قابل عمل بھی ہیں اس لئے اللہ کا نام لے کر کام تیز تر کردیں۔

مزید : تجزیہ