گھر پر کھانا کھانے والوں کے لیے انتہائی تشویشناک تحقیق

گھر پر کھانا کھانے والوں کے لیے انتہائی تشویشناک تحقیق
گھر پر کھانا کھانے والوں کے لیے انتہائی تشویشناک تحقیق

  

شکاگو (نیوز ڈیسک) بازاری کھانا کھانے کی بجائے گھر پر کھانا پکانا ہمیشہ سے صحت کا ضامن سمجھا جاتا رہا ہے لیکن ایک تازہ سائنسی تحقیق کا کہنا ہے کہ یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہے اور ایسے شواہد سامنے آگئے ہیں کہ گھریلو کھانا بھی بیماریوں کا باعث بن رہا ہے۔

سمارٹ فون کے بے جا استعمال سے ہونے والی دو نفسیاتی بیماریاں سامنے آگئیں تفصیلات جاننے کیلئے کلک کریں

امریکا کی رش یونیورسٹی نے 2,755 خواتین کے متعلق گزشتہ 14 سال کی طبی معلومات کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ جو خواتین زیادہ تر وقت گھر میں کھانے پکانے پر صرف کرتی ہیں اُن میں دل کی بیماری، بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور ذیا بیطس کی شرح زیادہ پائی گئی ہے۔ سائنسدان کہتے ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ گھر میں کھانا پکاتے وقت عام طور پر مکھن، نمک اور دیگر لوازمات کا استعمال ضرورت سے کافی زیادہ کیا جاتا ہے اور دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ جب گھر میں اتنی محنت سے اور وقت لگا کر کھانا بنایا جاتا ہے تو اسے زیادہ کھانا بھی حق سمجھا جاتا ہے جس کا نتیجہ وزن میں اضافے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ البتہ سائنسدانوں کا یہ کہنا ہے کہ اگر صحت بخش اجزاءکا استعمال کیا جائے اور کھانا اعتدال سے کھایا جائے تو گھر کا کھانا ہی بہتر ہے۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے "Preventive Medicine" میں شائع کی گئی ہے۔

مزید : تعلیم و صحت