غریبی میں نام پیدا کر

غریبی میں نام پیدا کر
 غریبی میں نام پیدا کر

  


کہتے ہیں عورت کو اس کی شکل اور مرد کو اس کی کمائی کا طعنہ نہیں دیا کرتے ۔ یہ باتیں ہیں مہذب معاشروں کی ، وگرنہ ذاتی حالات تو یہ ہیں کہ اپنی بڑھتی ہوئی عمر اور گرتی ہوئی ماہانہ آمدنی کے سبب یہ کالم نویس آجکل دونوں الاہموں کا مستحق ہے ۔ صورت حال کا روشن پہلو دیکھوں تو عملی طور پہ دو افراد پر مشتمل اس کنبہ میں صنف مخالف سے مجھے شکل صورت یا کمائی کا طعنہ ابھی تک نہیں ملا ۔ اس کے الٹ ، فل ٹائم تدریس سے وابستہ بیگم نے خود سے چار سال بڑے جز وقتی یونیورسٹی استاد کو ایک ہی ہفتہ میں نئے جوتے ، دو عدد سویٹر اور ایک امپورٹڈ گرم بنیان دلا کر ایک نئی کشمکش سے دوچار کر دیا ہے ۔ کشمکش یہ کہ آیا مذکورہ تحفے محض ایک پالتو شوہر کے مردانہ احساس برتری کو کندھا دینے کے لئے ہیں یا اس اسلامی تعلیم کا نتیجہ کہ انسان کو غریب رشتہ داروں کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے ۔ وسیع تر پس منظر میں یہ بحث اس بنیادی سوال سے جڑی ہوئی ہے کہ آخر آدمی کے دنیا میں آنے کا مقصد ہے کیا ۔ مطلب یہ کہ آپ دنیا میں کیا اس لئے آئے تھے کہ موسم سرما سے پہلے اپنی ضرورت اور سکت کے مطابق گرم کپڑے خرید لیں یا رہنے کے لئے مکان بنوالیں اور نہ بنوا سکنے کی صورت میں ، آئندہ بنوانے یا خرید لینے کی آرزو کرتے رہیں ، جس سفید پوش تنخواہ دار بستی میں اپنا لڑکپن گزرا ، وہاں ایسے پڑوسیوں سے کہ ’اک بڑا شاعر ، بہت چھوٹا سا جو افسر بھی ہے‘ کئی بار سنا کہ ’فکر کاہے کی ؟ لڑکا انجنئیرنگ میں ہے ، بیٹی میڈیکل کالج میں ۔ بس ذرا ان سے فارغ ہو جائیں تو میں اور تمہاری چچی جا کر حج کر آئیں گے ‘ ۔ یوں ہماری درجنوں چچیاں حج تو کر آئیں ، مگر کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ حج سے پہلے کی سرگرمیاں کیا زندگی کا مقصد تھیں یا محض جیتے رہنے کے لوازمات ۔

یہ تو اردو بولنے والی اس چھاؤنی کی بات ہے جہاں سکول کی تعلیم مکمل ہوئی ۔ ورنہ جس قصباتی شہر میں آنکھ کھولی وہاں لوگوں کے سماجی عقائد اور نظریات اور بھی سیدھے سادے تھے ۔ اکثر گھرانوں کی زندگی اپنے اپنے نواحی گاؤں کی معیشت سے جڑی ہوئی ہوتی ۔ سو ، بچپن کے اقوال زریں میں ہر روز کا یہ جملہ بھی تھا کہ دانے اور چاول تو گھر کے ہو جاتے ہیں اور گائے بھینس کی بدولت دودھ گھی بھی اپنا ۔ اب یہ نہ پوچھئے کہ چھوٹی زرعی اکائیوں والے ہمارے ضلع میں اپنے دانوں اور چاول والی زمینوں کا رقبہ کتنا تھا اور کیا ہر ایک کی اراضی کسی ایک فرد کی ملکیت ہوتی یا سارے خاندان کی ۔ دادا کے گھر میں اس پہ غور کرنے کی نوبت اس لئے نہ آئی کہ کم وسیلہ انسان ہوتے ہوئے بھی ، خوشحالی کے مقابلہ میں خوش باشی کی گیدڑ سنگھی کہیں سے ان کے ہاتھ لگ گئی تھی۔

یہی دیکھ لیں کہ پاکستان بننے سے سترہ سال پہلے جب سری نگر میں حریت پسندوں پہ گولی چلی تو سید عطا اللہ شاہ بخاری کی پکار پر صرف دو ہفتوں کے اندر پنجاب کے 40ہزار نوجوان بطور احتجاج یہ نغمہ گاتے ہوئے جموں و کشمیر میں جا قید ہوئے کہ ’اٹھو اٹھو مومنو ، رخ کرو کشمیر دا۔۔۔ راج کر تباہ سٹو ڈوگرے بے پیر دا‘ ۔ قیدیوں میں ہمارے دادا اور ان کے قریبی دوستوں کی ٹولی بھی تھی جو سرخ قمیض اور نیلی نیکر پہن کر سیالکوٹ سے روانہ ہوئے اور سوچیت گڑھ کی ریاستی سرحد پہ گرفتار کر لئے گئے۔ یہاں سے انہیں اودھم پور جیل اور پھر گورکھا فوجیوں کے ٹھیکری پہرے والے فیروز پور کیمپ میں بھیج دیا گیا ۔ چالیس برس بعدجب میں نے ایک دن پوچھا کہ اباجی ، گرفتاری دیتے ہوئے آپ کو چھ سالہ بیٹے اور دو سالہ بیٹی کا خیال نہ آیا تو انہوں نے نہایت سادگی سے کہا ’ بیٹا ، وہ تو قومی کام تھا‘۔

میرے پاس دادا کی اس حرکت کا کوئی منطقی جواز نہیں کہ قید سے رہا ئی پاتے ہی انہوں نے باخبر ذرائع کے مطابق ، ایک موٹرکار خرید لی تھی ۔ یہاں موٹر کار کے ساتھ زور سے کہنے کو جی چاہتا ہے کہ ’اوس زمانے وچ‘ ۔ ان میں گاڑی خریدنے اور اس کے خرچے پورے کرنے کی سکت تھی یا نہیں ، کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ ابا بتاتے ہیں کہ کھلی چھت والی جرمن ساخت کی ڈاج تھی جس پہ سوار ہوتے ہی ڈرائیور کو60 میل فی گھنٹہ رفتار کی ترغیب دی جاتی کہ ’محمد دینا ، چھڈ ایہنوں سٹھاں تے ‘ ۔ ایک مرتبہ جب مَیں نے بچپن میں دادی سے تصدیق چاہی تو انہوں نے دبے ہوئے مزاحیہ لہجہ میں کہا ’سنا تھا تمہارے اباجی نے دوستوں کے لئے کوئی کار رکھی ہوئی ہے ۔ ہم بھی دو دفعہ بیٹھے ‘ ۔ گویا خوشحالی سے زیادہ خوش باشی کا یہ فارمولہ اس وقت کے رجحان کے مطابق خاص مردانہ نوعیت کا تھا۔

ہماری نسل کے پاؤں پہ کھڑے ہونے تک جدید زندگی کے طور طریقوں نے اس ’مردانگی‘ کی کثافت اضافی بہت کم کر دی تھی ۔ پھر بھی یہ روایت برقرار رہی کہ نیم خالی جیبوں کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھے چائے پہ چائے کا آرڈر دیتے جا رہے ہیں اور بل ادا کرتے ہوئے دوسروں کو جسمانی طور پہ روکنے کی کوشش کہ ’نہیں نہیں ، یہ کیسے ہو سکتا ہے‘ ۔ سچ کہوں تو اسکول کے دنوں میں میرا بھائی زاہد اور میں اپنے والد کے اس طرز عمل سے بہت متاثر تھے۔ زاہد نے باقی بہن بھائیوں کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لئے یونیورسٹی کی پڑھائی چھوڑ کر فوج میں دو سالہ ٹریننگ کے بعد کمیشن لیا تو مجھے ایم اے کا امتحان دے کر برطانوی سفارتحانہ میں انٹرپرٹر کا کام شروع کئے ٹھیک ایک ہفتہ ہوا تھا ۔ جب اولین تنخواہیں جیب میں ڈال کر چائے خانے پہنچے تو طے تھا کہ آج ابا کا ایکشن ری پلے دکھایا جائے گا۔

پچھلے ہفتے ملنے والے نئے جوتوں اور گرم بنیان کی طرح ہمیں پہلی پہلی تنخواہیں بھی نیم خو سردیوں کے موسم میں ملی تھیں ۔ چنانچہ گرم سوٹوں میں ملبوس بائیس اور تئیس سال عمر کے دو نوجوان راولپنڈی کے ایک ریستوران میں داخل ہوتے ہیں ۔ باوردی بیرا خالی میز کی طرف باادب اشارہ کرتا ہے ۔ چائے کا آرڈر ، ساتھ ہنٹر بیف جس کا تودہ کاؤنٹر ہی پہ نظروں میں سما گیا تھا ۔ سفید ٹیبل کلاتھ کے آر پار گپ کا دور چلا ، چائے دو مرتبہ ریپیٹ ہوئی ۔ اب جو بل آیا ہے تو دونوں نے کسی منصوبہ بندی کے بغیر اسکرپٹ پہ عمل درآمد شروع کردیا ۔ ’نہیں جی نہیں،مَیں دوں گا ‘۔۔۔ ’کیسے ممکن ہے‘۔۔۔ ’کمال کرتے ہیں ، ملک صاحب‘ ۔ پیسے تو کسی ایک نے دے دئے ، مگر وہ جو پہلی بار ’ملک صاحب ملک صاحب ‘ کہنے کی لذت ہے وہ عجیب تھی ۔ باہر نکلتے ہی زاہد نے کہا کہ اوور ایکٹنگ ہو گئی ہے۔ویسے مہمان نوازی کی یہی اوور ایکٹنگ تھی، جس نے بعد ازاں میرے نام کے جھنڈے کئی مقامات پہ گاڑے ۔ پھر اسی میں وہ حکمت عملی آگئی جسے ہمارے دوست بیرا سیٹ کرنا کہتے ہیں ۔ مراد ہے آرڈر لمبا چوڑا اور اس کا بل ازحد مختصر ۔ ریکارڈ کی درستی کے لئے عرض ہے کہ ایک تو یہ خفیہ حرکت بالکل ذاتی نوعیت کی تھی ۔ دوسرے آرڈنینس کلب واہ میں جب پہلی بار یہ کارروائی ہوئی تو اس کی ترغیب میں نے نہیں ، بلکہ جنگ عظیم کی یاد گار بڑی بڑی مونچھوں والے فیروز نامی ویٹر نے دی تھی۔ وہ یوں کہ ایک شام جب کلب کے لان میں بیف برگر ، چپس اور چائے کے کئی دور ہو جانے کے بعد رات بھیگنے لگی تو فیروز نے چپکے سے لہجہ کی شاعری کی ’آپ کے سوا کوئی سائن ہی نہیں کرتا، اس لئے مَیں نے صرف چائے لکھی ہے‘۔مَیں نے اتنی ہی خاموشی سے دس کا فالتو نوٹ اس کی طرف کھسکا دیا ۔

گویا اصل بات یہ ہے کہ بیرے کو مَیں نے سیٹ نہیں کیا ،بلکہ بیرے نے مجھے سیٹ کیا تھا ۔ جدید زمانے میں میڈیا کے گرو اویس توحید گواہ ہیں کہ نئی صدی کے آغاز پر لندن کے فیش ایبل علاقہ کوینز وے کے خان ریستوران میں بھی اس طرح کا واقعہ ہوا ۔ بی بی سی کے سلسلے میں تین ماہ صبح و شام کے قیام و طعام اور مسلسل کام کے دوران اویس نے جب مجھ سے آرڈنینس کلب کا قصہ سنا تو دوستانہ انداز میں کہنے لگے کہ یہاں لندن میں بیرا سیٹ کر کے دکھائیں تو تب مانوں ۔ ریستوران میں بیٹھے بیٹھے میں یہ چیلنج قبول کرنے پہ غور کر ہی رہا تھا کہ بیروں کا کیپٹن میرے قریب آ گیا ’سر ، ٹپ نہ دیا کریں ، ہم سے مالک دھرا لیتا ہے‘ ۔ میں نے جواب دینے کے لئے منہ کھولا تو کیپٹن خو ش ہو گیا ۔ ’ اپنے سیالکوٹ کے ہیں۔ جتنے دن لندن میں ہیں ہر کھانے میں سویٹ ڈش میری طرف سے‘ ۔باقاعدہ آمدن ختم ہوجانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ کسی بھی ریستوران میں بیرا سیٹ کر لینے کا امکان ختم ہی سمجھیں ۔ کھانے پینے کی کسی اچھی جگہ پر عملے کو مائل کرنے کے لئے بخشش کی صورت میں جو ابتدائی سرمایہ کاری کرنا ہوتی ہے ، اب میری جیب اس کی اجازت ہی نہیں دیتی ۔ اگر کبھی طبیعت اس طرف مائل ہو بھی جائے تو مالی قیادت بیگم کے ہاتھ میں ہونے کے باعث ہماری منزل کوئی فاسٹ فوڈ آؤٹ لیٹ ہی ہوتا ہے جہاں سیلف سروس کے ہوتے ہوئے ویٹر کو آرڈر دینے کا سوال ہی نہیں ۔ میری خوش دلی کا مسئلہ یوں حل ہوا کہ انا کی تسکین کے لئے کاؤنٹر پہ پہنچنے ہی ادائیگی سے پہلے بیگم مطلوبہ رقم سے ذرا بڑا نوٹ میری طرف کھسکا دیتی ہیں ۔ ساتھ ہی ہنستے ہوئے ارشاد ’کیپ دا چینج‘ ۔ مجھے لگتا ہے کہ اس مرتبہ بیرا سیٹ نہیں ہوا ، بیوی سیٹ ہو گئی ہے۔

مزید : کالم


loading...