عید میلاد النبیؐ: کھلانے والے زیادہ ،کھانے والے کم!

عید میلاد النبیؐ: کھلانے والے زیادہ ،کھانے والے کم!
 عید میلاد النبیؐ: کھلانے والے زیادہ ،کھانے والے کم!

  


اعتراضات تو ہوتے رہتے ہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اجتماعی طور پر کیا صورت حال بنی یہ اتفاق ہے یا قدرت کی طرف سے متعین گردش ایام کہ اجماع کے بعد ایک نبی اور ایک رسول کا یوم پیدائش یکے بعد دیگرے آیا حضرت عیسیٰ مسیح اللہؑ کا یوم پیدائش 25 دسمبر اور رسول اکرمؐ کا یوم ولادت اس سے ایک روز قبل 24 دسمبر (12 ربیع الاول) کو تھا۔ ہر دو تہوار عیسائیوں اور مسلمانوں نے اپنے اپنے طور پر متعین کئے عیسائی پورا ہفتہ یہ تہوار مناتے ہیں اور 25دسمبر سے یکم جنوری تک کرسمس کہلاتا ہے جبکہ عالم اسلام یکم ربیع الاول سے پورا مہینہ بلکہ اس کے بعد تک بھی میلاد مناتے رہتے ہیں۔ اب یہ دونوں امتوں اور علاقوں کا اپنا اپنا کلچر ہے جس کے مطابق یہ تہوار منائے جاتے ہیں برصغیر میں میلاد النبیؐ کی محافل اور جلوسوں کی روایت ہے جبکہ مغرب کے کلچر کے مطابق کیک کاٹنے سے دعوتوں، ڈانس اور گرجا گھروں میں عبادت اور میلوں کی بہار ہوتی ہے یوں ہر دو اُمتیں اپنے اپنے نبی کی یاد مناتی ہیں۔

جہاں تک پاکستانیوں کا تعلق ہے تویہاں عید میلاد النبیؐ انتہائی عقیدت و احترام سے منائی جاتی ہے محافل میلاد تسلسل سے ہوتی ہیں اور تبرک بھی تقسیم ہوتاہے یکم ربیع الاول سے نیازیں پکتی اور کھلائی جاتی ہیں جبکہ 12 ربیع الاول کو عروج ہوتا ہے گزشتہ دو کالموں میں لاہور کے جلوسوں کی تاریخ بیان کر دی گئی تھی اور ویسا ہی ہوا کہ اس سال اتنے جلوس تھے کہ شمار مشکل ہو گیا اور پھر جس انداز میں گلی، محلے، بازار اور عمارتیں سجائی گئیں اور روشنیاں کی گئیں وہ اپنی مثال آپ ہے لاہور میں یوں تو ہر محلے اور ہر علاقے میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے گئے لیکن لاہور کی پرانی بستیوں میں صورت حال دیکھنے والی تھی اندرون شہر اور ملحقہ شمالی لاہور کے علاوہ اسلام پورہ، ٹاؤن شپ، صدر اور شاہدرہ کو بہت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا اور نیازیں تقسیم کی گئیں۔

عید میلاد النبیؐ کے روز ہمیں اپنے سابقہ محلے شاد باغ جانا تھا، عرصہ سے ہمارا معمول رنگ روڈ کے راستے سفر کا ہوتا ہے لیکن میٹرو ٹرین کی تعمیر کے لئے ملتان روڈ کا جو حشر کیا گیا اس کی وجہ سے وحدت روڈ یا علامہ اقبال ٹاؤن سے سبزہ زار کے راستے رنگ روڈ تک پہنچنا نا ممکن سا ہو گیا ہوا ہے۔ چنانچہ پرانے راستے نہر سے علامہ اقبال روڈ اور پل گڑھی شاہو چڑھ کر تیزاب احاطہ اور چمڑہ منڈی سے ہوتے ہوئے چوک ناخدا، وسن پورہ اور پھر یہاں سے شاد باغ پہنچنا ہوتا ہے اور یہی راستہ اختیار بھی کیا گیا۔ نہر سے جونہی گڑھی شاہو کی طرف علامہ اقبال روڈ پر مڑے تو عمارتوں پر روشنیاں تھیں اور ان کو خوبصورتی سے سجایا بھی گیا تھا۔ آگے بڑھے تو دائیں ہاتھ گڑھی شاہو کے مرکزی بازار پر نظر پڑی پورا بازار سجا سجایا تھا اور مختلف مقامات پر نیاز تقسیم ہو رہی تھی۔ آگے بڑھے اور جب پاک نگر پہنچے تو یہاں ایک دوکان پر ایل پی جی سے چولہا جلا کر کڑاہی رکھی ہوئی تھی۔ سڑک کے ایک طرف میزیں اور کرسیاں تھیں۔ کڑاہی سے تازہ اور گرم پوریاں نکالی جا رہی تھیں جو رہ گزر حضرات کو میزوں پر بٹھا کر کھلائی جا رہی تھیں۔ چنے اور حلوہ ساتھ تھا اور منتظم گزرنے والوں کو آواز دے کر بلاتے اور بٹھا کر کھلاتے تھے۔ یہ سلسلہ پاک نگر تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ جوں جوں آگے بڑھتے گئے۔ جگہ جگہ یہی صورت حال نظر آئی۔ حتی کہ میزوں پر کھانے والے کم اور کھانا زیادہ تھا۔

آگے بڑھ کر تاج پورہ سے نیو شاد باغ سے ہوتے ہوئے جب گول باغ شاد باغ کی طرف مڑے تو سامنے سے جلوس مل گیا۔ یہاں سے ہمیں عامر روڈ کی طرف مڑنا پڑا تو آگے دائیں بائیں یہی سماں تھا۔ ایک گھر کے باہر تخت پوشوں پر دودھ پلایا جا رہا تھا اور نان دال کے علاوہ بریانی تقسیم کی جا رہی تھی۔ ہمارا خیال تھا کہ بھیڑ ہو گی لیکن یہاں بھی لوگ بڑے اطمینان سے مستفید ہو رہے تھے۔ آگے بڑھ کر صاحبزادی کے گھر جانے کے لئے گلی میں مڑے تو وہاں حاجی صاحب کرسی پر بیٹھے تھے۔ یہاں پٹھورے تلے جا رہے تھے۔ ہمیں دیکھ کر آواز دی کہ کھاتے جائیں ہم سلام کر کے معذرت کرتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔صاحبزادی کے گھر پہنچے تو وہاں بقر عید یاد آ گئی۔ گھر میں مہمان بھی آئے ہوئے تھے نشست کا بھی اہتمام تھا لیکن حلوائی صاحب غائب تھے۔ معلوم ہوا کہ اسے ساڑھے گیارہ سے بارہ بجے آنا تھا ابھی تک نہیں آیا۔ کسی اور کا کام کرنے لگا ہے۔ گھر آئے مہمانوں کی تواضع فروٹ اور چائے سے ہو رہی تھی اور انتظار جاری تھا ہمارے داماد کے بہنوئی بے چینی سے ٹہل رہے تھے۔

اس اثناء میں ظہر کا وقت ہو گیا۔ سابقہ محلے کی جامع فردوس مسجد میں ادائیگی کے لئے گئے تو راستے میں ایک محلے دار تازہ تازہ جلیبیاں تل رہے اور آنے جانے والوں کو آوازیں دے کر کھلا رہے تھے۔ ہم نے سلام دعا کی اور چکھ کر نماز کے لئے چلے گئے۔واپس آئے تو حلوائی آ چکا تھا یہاں بھی گھر کے اندر اور گلی میں الگ الگ میزیں لگی تھیں پھر چولہا، کڑاہی اور پٹھورے شروع ہو گئے۔ تازہ تازہ گرم گرم ڈسپوز ایبل پلیٹوں میں سرو کئے جانے لگے۔ مہمان اور راہ گزر اطمینان سے کھا رہے تھے کہ ساتھ چنے، اچار اور پھر تازہ کشمیری چائے بھی تھی پھر یہ سلسلہ جاری ہوا تو مغرب تک چلا اچھے بھلے سفید پوش بھی بیٹھ کر تناول فرما کر گئے۔ یہ حالات پورے علاقے میں تھے اور کھلانے والے زیادہ کھانے والے کم پڑ گئے تھے حتیٰ کہ لوگوں کو ساتھ گھر لے جانے کی بھی اجازت تھی۔

واپسی مغرب کے بعد ہوئی۔ تاج پورہ چوک سے پہلے ٹریفک جام سے واسطہ پڑا، تھوڑی دیر بعد وجہ جانی تو پتہ چلا کہ اس بازار میں مشہور دودھ دہی والے کی دوکان کے باہر ایک بڑا ٹریلر کھڑا ہے اور شیر فروش دودھ بانٹ رہا ہے۔ ایک ٹریلر نے جگہ گھیری دوسرے دودھ لینے والے بھی تھے حتیٰ کہ رکشا اور چنگ چی والے رکشا اور چاند گاڑی کھڑی کر کے دودھ لے رہے تھے جو برتنوں والوں کو برتنوں میں اور راہ گیروں کو شاپرز میں دیا جا رہا تھا۔ مزید آگے بڑھے اور فاروق گنج سے گزر رہے تھے کہ گاڑی روک کر ہمیں ڈسپوز ایبل پلیٹوں میں پلاسٹک کے چمچوں سمیت خالص گھی کا حلوہ دیا گیا۔ انکار مشکل تھا۔ یہ بہت مزیدار اور بادام پستے والا تھا۔ یہاں بھی بھیڑ نہیں تھی بعدازاں پتہ کیا تو اپنے آبائی شہر (اندرون) کے ہر محلے کی کیفیت بھی یہی تھی اور ایسا ہی کچھ سلوک ساندہ اسلام پورہ، ٹاؤن شپ اور صدر بازار والوں نے بھی کیا۔یہ بھی ایک پہلو ہے۔ یقین جانیئے کہ اہل پاکستان نے پورے ولولے اور عقیدت سے اس دن کو منایا برخوردار عاصم چودھری کا کہنا ہے کہ جتنی خرید و فروخت آج ہوئی اور جو رونق ہے وہ عید ہی کی طرح ہے۔ لوگ عقیدت کا بھرپور اظہار کر رہے ہیں۔ اس میں ایک تکلیف دہ پہلو بھی ہے اور ایسا ہر تہوار پر ہوتا ہے کہ آج کے نوجوان ایڈونچر پسند ہو گئے ہیں اور بعض بڑی سڑکوں پر ون ویلنگ کرتے نظر آئے۔ اس یوم کی خوبی یہی تھی کہ کوئی بھوکا نہ رہا اور کہیں کوئی جھگڑا یا تنازعہ نہ ہوا۔

مزید : کالم


loading...