زندگی کے راز

زندگی کے راز
 زندگی کے راز

  


اسرائیلی روایات کے مطابق ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ اگر انسان نے اپنی کسی ایک خواہش کے پورا ہونے کی دعا کر نی ہو تو وہ خواہش کون سی ہونی چاہیے؟ اس پر جواب ملا ’’صحت‘‘۔نبی اکرمﷺ نے اسرائیلی روایات کے متعلق فرمایا تھا کہ ’’انہیں (لوگوں کی ہدایت کے لئے)بیان کرو۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ ‘‘اس اسرائیلی روایت میں زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ اگر صحت ہو گی تو آپ عبادت کریں گے‘ کارخیر کرنے کی خواہش ہو گی اور زندگی کی آسائشوں سے لطف اندوز ہوں گے۔ یعنی ایک اعتبار سے دین و دنیا میں آپ کے کسی قسم کے کردار کا انحصار آپ کی صحت پر ہے اور اچھی صحت کا انحصار اچھی اور متوازن غذا پر ہے۔ سادہ اور پاکیزہ رزق انسان کو بے شمار جسمانی اور روحانی مصائب سے دور رکھتا ہے۔ مگر ہمیں جب بھی اور جہاں بھی کوئی چیز پسند آتی ہے ہم ذائقہ کے لئے اسے کھا لیتے ہیں اور یہ ذائقہ دار چیز ہمارے جسم کو کسی نہ کسی انداز میں سزا دیتی ہے۔ شوگر‘ امراض قلب‘ موٹاپا اور بہت سی دوسری جان لیوا بیماریوں کا ذائقے سے قریبی تعلق ہے۔ ان بیماریوں کا غربت سے تعلق نہیں ہوتا بلکہ یہ اس امر کی سچائی کی تصدیق کرتی ہیں کہ اللہ انسان کو کبھی رزق میں تنگی کر کے آزماتا ہے تو کبھی فراوانی سے اور اکثر فراوانی کی آزمائش زیادہ سخت ہوتی ہے۔ جب زندگی کا مقصد صرف اور صرف زیادہ سے زیادہ کھانا بن جائے تو ایسے لوگوں کے متعلق دانش مند کہتے ہیں کہ پیٹو اپنی قبر اپنے دانتوں سے کھودتا ہے۔ ماہرین طب اصرار کرتے ہیں کہ کم کیلوریز والی خوراک کھانے اور طویل عمری میں براہ راست تعلق ہوتا ہے۔ میڈیکل کے ماہرین کا اصرار ہے کہ انسانی جسم کو سوسال سے زیادہ عرصہ زندہ رہنے کے لئے تخلیق کیاگیاہے مگر غلط غذائی اور دیگر عادات کی وجہ سے ہم پچاس سال سے پہلے ہی اپنے جسم کو بہت سے عذابوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔

یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں 24 افراد پر ایک دلچسپ تجربہ کیا گیا۔ انہیں تین ماہ تک اچھی اور متوازن غذا کھلائی گئی جس میں پھل‘ سبزیاں اوردالیں وغیرہ شامل تھیں۔ انہیں ہر روز آدھ گھنٹہ سیر کرائی گئی۔ یوگا اور دوسری ورزشوں کے ذریعے انہیں ذہنی تناؤ اور دوسرے جذباتی مسائل سے دور رکھا گیا اور تین ماہ کے بعد اس گروپ میں شامل افراد کے تفصیلی ٹیسٹ کئے گئے اور ان کا موازنہ ان کے ٹیسٹوں کی ان رپورٹوں سے کیا گیا جب یہ سٹڈی شروع کی گئی تھی۔ نتائج حیران کن تھے۔ ان افراد کے جسم میں دوسری مثبت تبدیلیوں کے علاوہ ایک انتہائی اہم انزائم TELOMERASE میں 29 فیصد اضافہ ہو چکا تھا۔ اس انزائم کو آب حیات قرار دیا جا سکتا ہے۔یہ انسانی عمر کی طوالت میں اضافہ کرتا ہے۔ جسم میں پیدا ہونے والی حیاتیاتی خرابیوں کی اصلاح کرتا ہے۔ یہ انزائم جو غذا‘ ورزش اور دماغی صحت سے پیدہوتا ہے۔ اس کے متعلق تحقیق کرنے والے ڈاکٹر اورینشن کا کہنا تھا کہ اگر یہ انزائم کسی طرح کسی دوا کی صورت میں پیدا کیا جا سکے تو اس سے اربوں ڈالر کمائے جا سکتے ہیں کیونکہ ان کے خیال کے مطابق یہ دوا طویل العمری کو یقینی بناتی ہے اور اسے آسانی سے غذا‘ ورزش اور خوشی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مگر ہم اس آب حیات جیسی دوا کو اس لئے حاصل نہیں کر سکتے کہ ہمارے پاس اس کے لئے وقت نہیں ہوتا۔ ہمارا وقت ہماری زندگی اور صحت سے بھی زیادہ قیمتی ہو چکا ہے اور اکثر انتہائی ذہین لوگوں کو متوازن غذا اور ورزش کی اہمیت ہارٹ اٹیک کے بعد سمجھ میں آتی ہے اور یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ انسان نے ہر مشین وقت بچانے کے لئے ایجاد کی تھی مگر جس انسان کی زندگی میں جتنی زیادہ وقت بچانے والی مشینیں آ جاتی ہیں اتنا ہی کم وقت اس کے پاس ہوتا ہے۔

ملٹی نیشنل دواساز اداروں نے دنیا بھر کے انسانوں کی صحت کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ بڑے بڑے کوالیفائیڈ ڈاکٹر محض ان کے ایجنٹ بن کر رہ گئے ہیں۔ وہ علاج نہیں کرتے دوائیں فروخت کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو اب اکثر مریض اپنے ڈاکٹر کے پاس جا کر کہتے ہیں کہ میں دوائی نہیں کھانا چاہتا آپ مجھے میرے اس مرض کے لئے متبادل نسخے تبدیل کریں اور ڈاکٹر انہیں غذا ‘ ورزش اور خوش رہنے کی ترکیبیں بتاتا ہے۔ اسے جڑی بوٹیوں کے حیرت انگیز کمالات سے آگاہ کرتا ہے اور دوائی کے بغیر اس کے لئے نسخہ تجویز کرتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں اگر آپ کسی ڈاکٹر سے ایسی کوئی بات کہنے کی گستاخی کر بیٹھیں تو وہ یا تو آپ کی ذہنی عقل پر شک کا اظہار کرے گا یا ایسا رویہ اختیار کرے گا جیسے آپ نے اس کی توہین کر دی ہے۔ حالانکہ معاملہ صرف اتنا ہو گا کہ ڈاکٹر کے گلشن کا کاروبار صرف اور صرف دوائی پر چلتا ہے۔ مریض کے لئے اس دوا کا ضروری ہوناضروری نہیں ہے۔

پاکستانی بجٹ سے عوام کو یہ شکایت ہوتی ہے کہ اس میں صحت کا حصہ بہت کم ہوتا ہے اور جو بجٹ ملتا ہے اسے بھی مریضوں کے علاج پر کم ہی خرچ کیا جاتا ہے کیونکہ اگر سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا علاج شروع ہو جائے تو پھر ڈاکٹروں کے ذاتی کلینکوں میں کون جائے گا اور ان فائیوسٹار ہسپتالوں کا بزنس بھی خطرے میں پڑ جائے گا جو اکثر سرکاری ہسپتالوں کے پہلو میں ہوتے ہیں اور انہیں آباد رکھنے کے لئے اکثر کسی نہ کسی بہانے ڈاکٹروں کو غریب عوام کو صحت کی مفت سہولت سے محروم کرنے کے لئے ہڑتال بھی کرانا پڑتی ہے۔ پاکستان میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹروں کو لیبارٹریاں ’’دیانتداری‘‘ سے ان کا کمیشن دیتی ہیں اور دوا ساز ادارے ’’عزت‘‘ سے ان کا حصہ ان تک پہنچا دیتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست کے مطابق اکثر اعلیٰ درجے کے ڈاکٹر جو ادویات تجویز کرتے ہیں وہ صرف ان کی فارمیسی پر دستیاب ہوتی ہیں۔ وہ گلہ کر رہے تھے کہ ایک دن ان کی طبیعت گھبرا گئی۔ ڈاکٹر نے ان کے لئے انجیوگرافی کا نسخہ تجویز کیا۔ انجیوگرافی کے دوران ڈاکٹر صاحب نے ان کے دل میں سٹنٹ ڈالنے کی ضرورت کا انکشاف کیا۔ ان کی انجیوگرافی ہو رہی تھی اور ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے کہ ان کے کتنے سٹنٹ پڑیں گے اور اس پر کتنے لاکھ لاگت آئے گی؟ وہ ڈاکٹر صاحب کی گفتگو سے چڑ سے گئے۔ انہوں نے سٹنٹ ڈلوانے سے انکار کر دیا۔ بعد میں انہوں نے اپنی انجیوگرافی کی رپورٹ دوسرے ڈاکٹروں کو دکھائی تو انہوں نے کہا کہ آپ کی شریان میں رکاوٹ صرف 20فیصد ہے اور آپ کو اس کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے۔ دل میں ڈالے جانے والے ان سٹنٹوں کے متعلق یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان میں سے اکثر کی لاگت محض چند ڈالر ہوتی ہے مگر جب یہ پاکستانی مریض کے دل میں ڈالے جاتے ہیں تو ان کی مالیت لاکھوں کی ہو جاتی ہے۔یہ عجب ستم ظریفی ہے کہ ہمارے ہاں ہر جسمانی تکلیف کے لئے ڈاکٹر کے پاس جانے کا مشورہ دیا جاتا ہے مگر ڈاکٹر مریض کی مالی حالت دیکھ کر اس کے مرض کا علاج کرنے کی بجائے اس سے زیادہ سے زیادہ مال بٹورنے کے شیطانی چکر میں پھنس جاتا ہے اور وہ خود قرآن کے اس حکم کو بھول جاتا ہے کہ تمہیں کثرت کی خواہش نے غفلت میں رکھا حتیٰ کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔ پاکستان میں اچھے اور دردمند دل رکھنے والے ڈاکٹروں کی کمی نہیں ہے۔ مگر ہمارے ہاں نیک آدمی برائی کے خلاف کم ہی بولتا ہے کیونکہ ہم اللہ سے اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں مگر شیطان کے ساتھ تعلقات بھی خراب نہیں کرنا چاہتے۔

امریکہ میں اب یہ شعور تیزی سے ترقی کر رہا ہے کہ غیرضروری ادویات کا استعمال انسانی جسم کو متعدد مسائل میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اب وہاں غذا‘ جڑی بوٹیوں ‘ورزشوں اور صحت کے دوسرے طریقوں پر تحقیق ہو رہی ہے۔ گو وہاں بھی یہ شکایت کی جاتی ہے کہ ملٹی نیشنل دوا ساز ادارے اس سلسلے میں مکروہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کسی بھی مرض کا مستقل علاج دریافت کرنے کا کام مدتوں سے چھوڑ رکھا ہے۔ اب وہ ہر مرض کے لئے ایسی ادویات ایجاد کرنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں جو ان کے لئے مستقل گاہک پیدا کریں۔ پاکستان میں ڈاکٹر لوگوں کو نہیں بتاتے کہ ہلدی‘ ادرک‘ لہسن اور ایسی تمام جڑی بوٹیاں جو ہمارے ہاں کچن میں باقاعدگی سے ہمارے کھانوں کا حصہ تھیں‘ وہ ہماری صحت کے لئے کتنے معجزانہ فوائد کی حامل تھیں اور ہم نے فاسٹ فوڈ کے ذریعے انہیں اپنے کھانوں سے نکال کر اپنے لئے کتنے خطرات پیدا کر لئے ہیں؟

چین اور بھارت جڑی بوٹیوں سے اربوں ڈالر کما رہے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں ہر سال یہ جڑی بوٹیاں پیدا ہوتی ہیں اور ضائع ہو جاتی ہیں کوئی انہیں اکٹھا کرنے کی زحمت نہیں کرتا۔ ہم نے ہر شعبے میں مغرب کی بھونڈی نقالی سے اپنے لئے بے پناہ مسائل پیدا کئے ہیں۔ مگر صحت کے معاملے میں تو یہ بے حد زیادہ ہیں۔ہم اپنے بچوں کو سنت کے مطابق کھانا کھلانے کے لئے کچھ نہیں بتاتے۔ کھانا اچھی طرح چبا کر کھانے سے انسانی صحت کے بے پناہ مسائل سے محفوظ رہا جا سکتا ہے ۔ اب تو سائنسدانوں نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اگر آپ اپنے جسم کو 20 منٹ کے بعد حرکت نہیں دیتے تو آپ کے جسم میں بگاڑ شروع ہو جاتا ہے۔جس کے نتیجے میں خطرناک بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ہمارے ایک دوست کے مطابق ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی بسر کررہے ہیں جہاں اکثر رخصتی کے وقت مائیں اپنی بیٹیوں کو نصیحت کرتی ہیں ’’دیکھو! سسرال میں جا کر ہماری ناک نہ کٹوا دینا۔ ہم نے کبھی تمہیں کام کو ہاتھ نہیں لگانے دیا۔ وہاں جا کر بھینس بن جانا مگر کام کو ہاتھ نہ لگانا۔‘‘

ڈاکٹر حان ماچ نے ایسے سو امریکیوں کے تفصیلی انٹرویو کئے جو اپنی زندگی کے سو برس گزارنے کے باوجود مستقبل سے بہت سی امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔ انہوں نے ان کی طویل العمری کے راز دریافت کرنے کی سعی میں دس زریں اصول دریافت کئے۔ کالم کے اختتام پر ہم آپ کے لئے انہیں اس امید پر تحریر کر رہے ہیں کہ آپ ان سے استفادہ کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زندگی میں کبھی دیر نہیں ہوتی۔ آپ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے پچپن سال‘ ستر سال‘ پچاس سال بلکہ سو سال کی عمر میں بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

-1اپنی زندگی اپنے دوستوں اور خاندان کی قربت میں گزاریں۔

-2دل کھول کر ہنسا کریں اور اپنی حس مزاح کو ہمیشہ زندہ رکھیں۔

-3اپنے دماغ کو ہمیشہ سرگرم عمل رکھیں۔

-4ہر روز اپنے مستقبل کے متعلق نئی امیدوں اور گرمجوشی کے ساتھ سوچیں۔

-5اپنے احساس آزادی کو برقرار رکھیں۔

-6حرکت میں برکت پر یقین رکھیں اور ورزش کو اپنا معمول بنائیں۔

-7روحانیت کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھیں۔

-8درست غذا کھائیں۔

-9حالات حاضرہ سے باخبر رہیں اور ان پر غور و خوض جاری رکھیں۔

-10نئے دوست بنانے کا سلسلہ کبھی بند نہ کریں۔

مزید : کالم


loading...