نریندر مودی کا مختصر دورۂ لاہور

نریندر مودی کا مختصر دورۂ لاہور

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی روس اور افغانستان کے دورے کے بعد اپنے وطن جاتے ہوئے مختصر وقت کے لئے لاہور میں رُکے، جہاں ہوائی اڈے پر اُن کا استقبال وزیراعظم محمد نواز شریف نے کیا، پھر دونوں رہنماؤں نے رائیونڈ میں وزیراعظم کی رہائش پر ملاقات کی۔ 25دسمبر کو وزیراعظم نواز شریف کی سالگرہ بھی تھی اور اتفاق سے اُن کی نواسی کی شادی بھی ہو رہی ہے، بھارتی وزیراعظم نے سالگرہ کی مبارک دی، شادی کے سلسلے میں تحائف دئے، وزیراعظم کی والدہ سے بھی ملاقات کی، دورہ چونکہ نجی نوعیت کا تھا اور ہنگامی طور پر ترتیب دیا گیا تھا،ملاقات کا کوئی سرکاری ایجنڈا بھی نہیں تھا، تاہم پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم جب اور جہاں بھی ملتے ہیں چاہے دو منٹ کے لئے ملیں، بڑی خبر بناتے ہیں۔ نریندر مودی کی لاہور آمد کی خبر بھی دُنیا بھر کے میڈیا کے لئے ’’بریکنگ نیوز‘‘ تھی، اور تمام چینلوں پر اس کو اہمیت دی گئی۔قیام پاکستان کے بعد بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو بھی پاکستان کے دورے پر آئے تو لاہور بھی آئے تھے، اُس وقت جنرل ایوب خان کی حکومت تھی اور بھارتی وزیراعظم کا شایانِ شان استقبال کیا گیا، اُنہیں لاہور کے تاریخی شالا مار باغ میں شہریوں کی جانب سے استقبالیہ دیا گیا، جس میں جنرل ایوب خان خود بھی شریک تھے۔ بعد ازاں دو بار راجیو گاندھی وزیراعظم کی حیثیت سے پاکستان آئے، لیکن لاہور نہ آ سکے۔1999ء میں اٹل بہاری واجپائی نے لاہور کا دورہ کیا تو وہ بس پر بیٹھ کر لاہور آئے تھے۔2004ء میں وہ اسلام آباد سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے، اُن کا تعلق بھی بی جے پی سے تھا، اب نریندر مودی بی جے پی کے دوسرے وزیراعظم ہیں، جو لاہور آئے ہیں۔ پاکستانی حکمران بھی بھارت کے دورے پر جاتے رہتے ہیں، ان میں فوجی اور سیاسی دونوں قسم کے حکمران شامل تھے،آخری بار نواز شریف نے نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں2014ء میں شرکت کی تھی۔ البتہ دونوں رہنماؤں کی اِسی مہینے فرانس میں دو منٹ کی ملاقات ہوئی تھی۔

بھارتی وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم نواز شریف کی شرکت کے بعد امید تھی کہ دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات میں بہتری آئے گی، لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس،کشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر حالات کشیدہ ہو گئے، بھارتی فوج کی فائرنگ معمول بن کر رہ گئی۔ پاکستان کو جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا، طویل عرصے تک یہ سلسلہ جاری ہا، اس دور ان خارجہ سیکرٹریوں کی طے شدہ ملاقات بھارت نے منسوخ کر دی، جولائی میں اوفا (روس) میں نریندر مودی اور نواز شریف کی ملاقات کے بعد ایک دس نکاتی اعلان جاری کیا گیا تھا، جس میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ طے کیا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیر نئی دہلی میں ملاقات کریں گے۔ اگست میں ملاقات سے ایک دن پہلے بھارت نے اعلان کر دیا کہ بات چیت صرف دہشت گردی کے موضوع پر ہو گی، دوسرے کسی مسئلے پر بات نہیں کی جائے گی، جس کے جواب میں سرتاج عزیز نے اعلان کیا کہ کشمیر کے بغیر کوئی بات نہیں ہو گی، چنانچہ سیکیورٹی ایڈوائزروں کی یہ ملاقات بھی نہ ہو سکی۔ البتہ پیرس میں دونوں وزرائے اعظم کے مصافحہ اور دو منٹ کی ملاقات نے فضا بدل دی۔اس کے بعد دونوں ملکوں کے سیکیورٹی ایڈوائزروں کی ملاقات ہو چکی ہے، سشما سوراج قلب ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان آئیں، وزیراعظم اور مشیر خارجہ سے ملاقات کی، جامع مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا، خارجہ سیکرٹریوں کی ملاقات اب اگلے ماہ کی 15تاریخ کو متوقع ہے۔ اب مودی کی اچانک لاہور آمد نے اس خاکے میں ایک نیا رنگ بھر دیا ہے۔

یہ درست ہے کہ نریندر مودی نجی دورے پر لاہور آئے، کوئی باقاعدہ مذاکرات بھی نہیں ہوئے، لیکن اس کے باوجود یہ ملاقات دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے، اور آئندہ ماہ خارجہ سیکرٹریوں کی باضابطہ ملاقات کے لئے رہنما کا کردار ادا کر سکتی ہے، تعلقات کو معمول پر لانے کا یہ عمل جو اب جاری ہوا چاہتا ہے کوئی پہلی مرتبہ شروع نہیں ہوا، اس سے پہلے بھی اس طرح کے کئی دور ہو چکے، جن میں اعتماد سازی پر توجہ دی گئی، اعتماد سازی کے لئے اقدامات بھی کئے گئے، لیکن یہی وہ جوہر ہے جو آج تک دونوں ملکوں کے تعلقات میں عنقا رہا، اور اعتماد سازی کے سارے اقدامات اس وقت بے کار ثابت ہوتے اور دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں، جب بھارت میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہو جاتا ہے، واجپائی کے دور میں نئی دہلی میں بھارتی پارلیمینٹ کے باہر دہشت گردی ہوئی تو بھارت نے پاکستان کے ساتھ ہر طرح کے رابطے ختم کر دئے، ٹرینیں،بسیں اور ہوائی جہاز چلنا بند ہو گئے، بھارت نے سرحد پر فوجیں بھی لگا دیں، اور جواب میں پاکستان نے بھی اپنی افواج متعین کر دیں اِس طرح دونوں ملکوں کی فوجیں طویل عرصے تک ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بیٹھی رہیں، پھر ممبئی دھماکوں کے بعد بھی یہی ہوا، اب کی بار مواصلات کے رابطے تو منقطع نہ ہوئے، البتہ سارا نزلہ ان جامع مذاکرات پر گِر پڑا جو خارجہ سیکرٹریوں کی سطح پر جاری تھے۔ اس کے بعد اب کہیں جا کر مذاکرات کی بحالی کا امکان پیدا ہوا ہے۔

دونوں ملکوں کو یہ بات تسلیم کر لینی چاہئے کہ وہ ہمسائے ہیں اور انہوں نے ہمسایہ رہنا ہے، دوست تبدیل کئے جا سکتے ہیں ہمسائے نہیں، دوستی میں اِس بات کا امکان ہوتا ہے کہ آپ اسے جاری رکھیں یا ختم کر دیں، لیکن ہمسائیگی کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ہمسایوں جیسے تعلقات قائم کر کے ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔ اِس لئے بہتر بات تو یہ ہے دونوں ملک اس حقیقت کا ادراک کریں، دونوں ملکوں میں مستقل کشیدگی دراصل65ء کی جنگ کے بعد پیدا ہوئی تھی، پھر71ء کی جنگ میں بھارت نے پاکستان کی اندرونی صورت حال کا فائدہ اٹھایا اور آج تک اِس کا کریڈٹ بھی لیتا ہے کہ اس نے بنگلہ دیش کو ’’آزاد‘‘ کرانے میں کردار ادا کیا، لیکن65ء سے پہلے کے اٹھارہ سال ایسے تھے ،جن میں دونوں ملکوں کے تعلقات نسبتاً بہتر تھے،ایک دوسرے مُلک کے شہریوں کی آمدو رفت ہوتی تھی، معمول کی تجارت بھی جاری تھی، حالانکہ تجارتی توازن ہمیشہ پاکستان کے خلاف ہی رہا، دہشت گردی نام کی کوئی چیز نہ تھی، ایک دوسرے مُلک پر الزام تراشی کا آہنگ بھی اتنا بلند نہ تھا۔ اب تو عالم یہ ہے کہ ابھی بھارتی حکمران پاکستان کے خلاف کوئی بات کرتے ہیں تو میڈیا کوئی وقت ضائع کئے بغیر اِسے لے اڑتا ہے،اور پھر الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ٹی وی چینلوں پر بھارتی تجزیہ نگار ایک دوسرے سے بڑھ کر پاکستان کے خلاف مخالفانہ باتیں کرتے ہیں، کچھ یہی حال بعض پاکستانی تجزیہ نگاروں کا بھی ہے، جنہیں معمول سے ہٹی ہوئی کسی بھی سرگرمی میں سازش ہی سازش نظر آتی ہے، اب اگر مودی واپس جاتے ہوئے چند گھنٹوں کے لئے لاہور میں رک گئے ہیں تو بعض تجزیہ نگار اِس میں بھی سازش کی کڑیاں تلاش کر رہے ہیں ایسے میں تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں کہاں کامیاب ہو سکتی ہیں؟

یہ درست ہے کہ ابھی حال ہی میں نریندر مودی کی حکومت نے پاکستان کے خلاف معاندانہ رویہ عروج پر پہنچا دیا تھا، پاک چین اقتصادی راہداریوں کے منصوبے پر ان کی حکومت کو اعتراض ہے، اِس کی شکایات انہوں نے چینی صدر سے ملاقات میں کی تھی، لیکن چین نے ان کے اعتراض کو اہمیت نہ دی اور اب اس منصوبے پر کام جاری ہے۔ ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، انڈیا (تاپی) گیس منصوبہ ایسا ہے، جس میں دونوں مُلک بھی شریک ہیں۔ اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے کہ دونوں مُلکوں کے تعلقات کم از کم معمول کی سطح پر رہیں، شروع شروع میں بھارت، پاکستان ایران گیس منصوبے میں بھی شامل تھا، لیکن پھر اس سے الگ ہو گیا۔ اب یہ منصوبہ صرف پاکستان اور ایران کے درمیان ہے اور اگر پاکستان کے اندر گیس پائپ لائن تعمیر ہوتی ہے تو اسے بھارت تک آگے بڑھانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے اس سے پاکستان اور بھارت دونوں کا فائدہ ہے تاہم ایسا اُسی وقت ہو سکتا ہے جب دونوں مُلک کم از کم وہ تعلقات قائم رکھیں، جو نہرو کے دورۂ پاکستان کے وقت تک تھے، اور جنرل ایوب خان کی یہ خواہش تھی کہ یہ تعلقات مزید بہتر ہوں، لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ دورے کے تھوڑے ہی عرصے بعد نہرو کا انتقال ہوگیااُن کے جانشین لال بہادر شاستری کے دور میں جنگ ہو گئی اور آج تک تعلقات اِسی تناظر میں دیکھے جا رہے ہیں اور معلوم نہیں کب تک ایسا ہوتا رہے؟

بجلی اور گیس کی قلّت

سوال یہ نہیں ہے کہ عید میلاد النبیؐ کی چھٹیوں میں بھی لوڈشیڈنگ ہوتی رہی ہے، سوال تو یہ ہے کہ اگر بجلی میسر نہیں تھی اور چھٹیوں کے باوجود ایسا ہی ہونا تھا تو پھر سرکار والا تبار کی طرف سے یہ اعلان ہی کیوں کیا گیا؟ ماضی کے تجربات شاہد ہیں کہ ایسے تہواروں کے موقع پر اعلان ہوئے اور ان پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں ہوا اور اب بھی یہی ہوا کہ بالکل ہی عمل نہیں ہوا،بلکہ لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوا اس طرح اعلان کرنے والے کا مُنہ چڑایا گیا۔گیس کی قلت کا تو عالم ہی نرالا ہے، بجلی لوڈشیڈنگ کے ساتھ آتی تھی،اس مرتبہ عید میلاد النبیؐ، یوم قائداعظم ساتھ ساتھ آ گئے اور مسلسل چار سرکاری چھٹیاں ہو گئیں، شاید اسی بناپرکسی تکنیکی رائے اور حساب کتاب کے بغیر ہی اعلان کر دیا گیا کہ لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی، لیکن ایسا ہوا نہیں کہ شہریوں کو پہلے جیسی ہی پریشانی برداشت کرنا پڑی، شہروں میں جہاں کہیں زیادہ روشنیاں لگائی گئیں وہاں شہریوں نے جنریٹر کا بھی انتظام کیا،اس کے باوجود لوڈشیڈنگ کا سامنا ہی کرنا پڑا۔بجلی کے ساتھ ساتھ شہریوں کو گیس کی قلت کا سامنا ہے اور اکثر علاقوں میں گیس بالکل نہیں آتی اور روٹی پکانے کے لئے بھی ایل پی جی کے مہنگے سلنڈر خریدنا پڑتے ہیں کہ ایل پی جی کی مانگ بڑھی تو کمپنیوں نے نرخ بڑھا دیئے، یوں شہری دوہرے عذاب میں مبتلا ہیں۔ اب تو سوئی گیس والوں نے صارفین کو پریشان کرنا بھی شروع کر دیا، گیس ہے نہیں اور بل چلے آ رہے ہیں۔گزشتہ تین چار روز سے گیس والے گلی محلوں میں میٹروں کی لیکیج دیکھ رہے ہیں۔ شاید یہ سالانہ ضرورت ہو یا پھر اب خیال آیا ہو، لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ ان دِنوں گیس ہی نہیں تو لیکیج کا کیا پتہ چلے گا، لیکن کمپنی کے ملازمین گھر گھر جا رہے ہیں اور اس بہانے نہ معلوم کیا کرنا چاہتے ہیں کہ جہاں اور جس محلے میں تھوڑی بہت گیس آتی ہے ، وہاں کے صارفین سے بل طلب کر کے کچھ دیکھا اور نوٹ کیا جاتا ہے، لیکن صارف کو بتایا نہیں جاتا کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے۔ صارف کے پوچھنے پر بھی مناسب جواب نہیں دیا جاتا۔یہی صورت حال بجلی کی ہے کہ لوڈشیڈنگ بڑھ گئی، بل بھی بڑھ گئے، حالانکہ ان میں کمی ہونا چاہئے تھی، اس کے باوجود زیادہ آ رہے ہیں کہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے طور پر رعایت بھی شامل کی جا رہی ہے، ان حالات میں شہری اگر گڈ گورننس پر اعتراض کریں تو اس کا برا منایا جاتا ہے، لیکن کوئی بھی شعبہ اور محکمہ شہریوں کو تنگ کرنے سے باز نہیں آتا۔ حکومت کو اس طرف توجہ دینا چاہئے ۔

محمد عامر اور دوسرے سزا یافتہ کھلاڑی!

دُعا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے معاملات خوش اسلوبی سے درست ہو جائیں، پہلے ہی دُکھ کم ہیں کہ اب بعض سینئر کھلاڑیوں نے صریحاً نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی اور کیمپ کا بائیکاٹ کیا۔ ان حضرات کا جن میں ابھی حفیظ اور اظہر علی ہی ہیں یہ احتجاج نوجوان باؤلر محمد عامر کو کیمپ میں شامل کرنے پر ہے، حالانکہ بورڈ کی طرف سے پہلے ہی کہہ دیا گیا تھا کہ ٹیم کے لئے منتخب کرنا سلیکشن کمیٹی کا کام ہے اس کے علاوہ بورڈ یہ بھی دیکھ رہا تھا کہ ٹیم سلیکشن کی صورت میں محمد عامر کو شامل کیا جاتا ہے، تو ویزوں میں تو کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔محمد عامر اور اس کے بعد سلمان بٹ اور محمد آصف کی پوزیشن یہ ہے کہ یہ تینوں سپاٹ فکسنگ کے الزام میں آئی سی سی کی طرف سے پابندی اور لندن کی عدالت سے دی گئی سزا بھگت کر کھیل کی اجازت حاصل کر چکے ہوئے ہیں، لیکن یہاں جب ان کا کھیلنے کا مسئلہ پیدا ہوا تو کئی کھلاڑیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجنے لگی۔محمد عامر کم عمر تھا جب پھنسا اور اس نے جلد ہی اعتراف بھی کر لیا اس لئے اس کے ساتھ کچھ نرمی برتی گئی اور اسے نسبتاً پہلے کھیلنے کی اجازت مل گئی۔ کھیل کے میدان میں اس نے ثابت کیا کہ اس میں اب بھی صلاحیت موجود ہے، چنانچہ یہاں فاسٹ باؤلنگ کے شعبہ میں جو بحران ہے اس میں محمد عامر ایک امید بن گیا، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش میں محمد حفیظ کو آؤٹ کرنا اس کے لئے جہنم کا پروانہ بن گیا ہے کہ محمد حفیظ نے محمد عامر پر اعتراض کر کے بنگلہ دیش لیگ میں عامر والی ٹیم میں کھیلنے سے انکار کیا اور دوسری ٹیم میں جگہ بنائی، وہاں جس میچ میں پروفیسر کا محمد عامر سے سامنا ہوا وہ اپنی وکٹ اسی کے ہاتھوں گنوا بیٹھے، جس پر محمد عامر نے خوشی کے اظہار میں تضحیک کا پہلو پیدا کیا۔ یوں پروفیسر مزید برہم ہو گئے، اس کا بدلہ یہاں لیا جا رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ محمد عامر اور دوسرے دونوں کھلاڑی سزا بھگت چکے اور ان کو انٹرنیشنل کرکٹ ایسوسی ایشن نے کھیلنے کی اجازت دی ہے تو پھر اگر وہ اپنی پرفارمنس کے سہارے سے ٹیم میں آتے ہیں تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ وہ قوم اور کرکٹ کے شیدائیوں سے معافی بھی مانگ چکے۔اب اخلاقی اور قانونی تقاضا ہے کہ جب قواعد وضوابط کے مطابق ان کو اجازت ملی ہے تو پاکستان یا کسی اور کرکٹ والے بورڈ اور لوگوں کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو اتنی ہی سزا دی گئی جو انہوں نے بھگتی، اب ان کو معاف ہی کر دینا چاہئے۔

مزید : اداریہ


loading...