گھریلو ملازمین کے حقوق کے لئے حکومت پنجاب کا قابل ستائش اقدام

گھریلو ملازمین کے حقوق کے لئے حکومت پنجاب کا قابل ستائش اقدام
 گھریلو ملازمین کے حقوق کے لئے حکومت پنجاب کا قابل ستائش اقدام

  


گزشتہ چند دہائیوں میں ملک بھر میں گھریلو ملازمین کی طلب میں بے پناہ اضافے کے ساتھ ساتھ گھرو ں میں کام کرنے والے ملازمین خاص طور خواتین اور بچوں کے ساتھ جبر و زیادتی اور مختلف طرح کے جسمانی و مالی استحصال کے واقعات میں بھی خطر ناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ معاشرے کے تمام سنجیدہ طبقات ،سو ل سوسائٹی،این جی اوز ،انسانی حقوق کے علمبردار ،میڈیا اور مزدور تنظیموں کے طرف سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین اور اقوام متحدہ کے متعلقہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق گھریلو ملازمین کے مسائل کے حل اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لئے گہری تشویش کا بھی اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ گھریلو ملازمین کے ساتھ استحصالی رویے میں بے حد اضافہ ہو چکا ہے اور اب باقاعدگی سے ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ گھریلو ملازمین کے حوالے سے کسی بھی سطح پر کسی قانون یا پالیسی کا نہ ہونا ہے جو زیادتی کے واقعات کا موجب بنتا ہے۔ گھریلو ملازمین کو لیبر حقوق سمیت تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیاہے جن میں مقرر کردہ کام کے اوقات ،مناسب اجرت، مناسب ماحول، سماجی تحفظ وغیر ہ شامل ہیں۔ عمومی طور پر خوفزدہ و ہراساں کرنے، جسمانی تشدد اور جنسی زیادتی کے واقعات زیادہ تر گھریلو ملازمین کے ساتھ ہی رونما ہورہے ہیں۔

گھریلو ملازمین کا مسئلہ کسی بھی پالیسی یا لیبر لاء نہ ہونے کی وجہ سے تا حال حل نہیں ہو سکا۔ تاہم ہراساں کرنے ،جسمانی تشدد،جنسی زیادتی کے واقعات،پاکستان پینل کوڈ آف کرائم اور ورک پلیس پر خواتین کو ہراساں کرنے کے ایکٹ2010ء کے زمرے میں آتے ہیں جبکہ لیبر لاز اس وقت صرف صنعتی و تجارتی اداروں میں کام کرنے والے ورکرز پر لاگو ہور ہے ہیں اور گھریلو ملازمین اس قانون کی افادیت اور تحفظ سے محروم ہیں۔ لیبر لاز کا گھریلو ملازمین پر اطلاق انکے کام کی نوعیت کے اعتبار کے لحا ظ سے ایک مشکل امر ہے اور علیحدہ قانون سازی کا متقاضی ہے۔ کیونکہ اس حوالے سے علیحدہ قانون سازی کے لئے مختلف در پیش مشکلات کو مد نظر رکھنا ہو گا کہ کیا گھر داری کو لیبر لاز کے دائر ہ کار میں لانا ممکن ہو گا کیونکہ لیبر انسپکشن کے دائرہ کا ر میں آنے کے بعد گھر داری کا تقدس پامال ہونے کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے دیگر پیچیدہ نوعیت کے مسائل اور ورکرز کوکسی بھی ممکنہ استحصال سے بچانے کے لئے قانونی تحفظ فراہم کرنے کے دیگر راستے بھی مد نظر رکھنے ہوں گے۔ بین الاقوامی کنونشن 189آف ڈومیسٹک ورکرز 2011ء گھریلو ورکرزمتعلقہ بین الاقوامی قانون ہے جیسے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے تسلیم کیا اور یہ 5ستمبر2013ء کو دنیا بھر میں لاگو ہو گیا۔ جس سے آئی ایل او کی جانب سے گھریلو ورک کو ڈیسنٹ ورک کے طور پر فروغ دینے کے عزم کا اعادہ ہوتا ہے کیونکہ آئی ایل او کی قرار دادوں کے مقاصد کے تحت کام کاج کی جگہ پر بنیادی مروجہ اصولو ں اور سماجی انصاف کا فروغ اس کنونشن کی کامیابی کا مظہر ہے۔

کنونشن 189کے آرٹیکل 1کے تحت ڈومیسٹک ورک کی اصطلاح کا مطلب کسی گھر میں یا کسی کے گھر کے لئے کام کاج کی انجام دہی ہے۔ کنونشن کے آرٹیکل (1)3کے مطابق تمام رکن ممالک پر فرض ہے کہ وہ تمام گھریلو ملازمین کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لئے کام کریں ،انہیں فریڈم آف ایسوسی ایشن اور اجتماعی حیثیت میں حقوق کے اظہار کا موقع دیں ،ہر طرح کی جبری یا لازمی مشقت کا خاتمہ کریں ،چائلڈ لیبر اور کسی بھی ملازمت میں امتیازی برتری کا سدباب کریں۔ اگرچہ حکومت پاکستان نے ابتک اس کنونشن کی توثیق نہیں کی ہے تاہم آئی ایل او کی رکن ریاست کی حیثیت سے اس کنونشن میں گھریلو ملازمین کے حوالے سے عائدحقوق اور اصولوں کی پاسداری حکومت پاکستان کو بھی کرناہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین ورکرز کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور ایک ایسا فریم ورک فراہم کرتا ہے جس سے گھریلو ورکرز کے حقوق کے تحفظ پرممکنہ پالیسی کی تشکیل ہو سکے اور لیبر قوانین بن سکیں۔ آرٹیکل 3شرط عائد کرتاہے کہ ریاست ہر طرح کے استحصال کا خاتمہ یقینی بنائے گی اور ورکر کو اس کی قابلیت او رکام کی نوعیت کے مطابق اس قابل بنائے گی کہ وہ اپنے حقوق کا تحفظ کر سکے۔ آئین ہر طرح کی غلامی ،جبری مشقت،انسانی ٹریفکنگ ،بشمول چائلڈ لیبر کے ممانعت کرتا ہے۔ آرٹیکل 11اور آرٹیکل17فریڈم آف ایسوسی ایشن سے متعلق ہے جس کے مطابق ہر شہری کو ایسوسی ایشن یا یونین سازی کی آزادی ہے۔ 18ویں ترمیم کے تناظر میں اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کے بعد مزدوروں کے لئے پالیسی و قانون سازی کا حق بھی صوبوں کو حاصل ہونے کے بعد پنجاب حکومت گھریلو ملازمین کے لئے اپنی آئینی ذمہ داری پورے کرتے ہوئے اس عزم پر عمل پیرا ہے کہ وہ لیبر لاز کا دائرہ کار ان بے کس اور لاچار گھریلو ملازمین تک بھی لائے گی جنہیں اس سے قبل بنیادی لیبر حقوق کے تحفظ کے حوالے سے موجودہ لیبر لاز کے دائرہ کار میں نہیں لایا جا سکا۔ حالیہ ڈومیسٹک ورکرز پالیسی 2015ء کی منظوری حکومت پنجاب کا ایسا قابل ستائش اقدام ہے جس سے اس محروم وسیلہ طبقے کے گھریلو ملازمین کو بھی قانونی تحفظ حاصل ہو جائے گا۔ ان کے حقوق کو تسلیم کرنے ،فروغ دینے کے لئے آئی ایل او کے کنونشنز نے بھی اس کی طرف خاص توجہ دلائی ہے۔

حکومت پنجاب کے اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ آئین پاکستان کی ضمانت کے تحت اس کم ویسلہ طبقے کے فلاح و بہبود اور بہتری کے لئے انتہائی سنجیدہ ہے۔ پنجاب ڈومیسٹک ورکرز پالیسی کا مقصد ایسا لائحہ عمل اور منصوبہ تشکیل دیناہے جس کے تحت گھریلو ملازمین کے بنیادی لیبر حقوق کا تحفظ اور فروغ یقینی ہو اور وہ بھی دیگرتحفظ یافتہ ورکرز کی طرح مختلف فوائد و سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ ڈومیسٹک ورکرز پالیسی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں دیئے گئے اصولوں کی تشریح کرتی ہے جو کہ آئی ایل او کی نمایاں خصوصیات اور بنیادی حقوق پر مبنی ہے۔ اس پالیسی کی تشکیل سے قبل مالکان ،اجر تنظیموں ،ورکرز تنظیموں ،صوبائی حکومت کے متعلقہ اداروں ،سول سوسائٹی کے نمائندوں ،لوکل باڈیز اور ضلعی حکومتوں پر مشتمل تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کی بھر پور مشاورت عمل میں لائی گئی ہے۔ یہ پالیسی وزیر اعلی محمد شہباز شریف کے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ گھریلو ملازمین کے لئے ایسے قواعد و ضوابط ،ریگولیشنز یا خصوصی قوانین مرتب کئے جائیں جو کہ آئین کے شرط وضوابط کے مطابق ،عام معیار اور اصولوں پر پورا اترتے ہوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے مروجہ معاہدوں کے عین مطابق ہوں۔ حکومت پنجاب اس پالیسی کے ذریعے ڈومیسٹک ورکرز کے لئے خصوصی قانون سازی کا ممکنہ راستہ تلاش کرے گی ،گھریلو ملازمین کے لئے کمرشل اور صنعتی اداروں کے ملازمین کی طرح بنیادی فوائد کی فراہمی ،گھریلو ملازمین کے خلاف ہونے والے جسمانی تشدد،جبر و استحصال اور ہراساں کرنے جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے موجودہ قوانین پر موثر عملد ر آمد کے حوالے سے خصوصی مکنیزم کے تشکیل،ان ملازمین کے لئے انسانی حقوق کا موثر تحفظ و فروغ،سوشل پروٹیکشن اور اس سے متعلقہ دیگر فوائد کے فراہمی کے لئے موجودہ قوانین کا جائزہ ،گھریلو ملازمین اور ان کے مالکان کے درمیان تنازعات کا حل نکالنا ،خصوصی سماجی تحفظ کی فراہمی اور انہیں ایمپلائز اولڈ ایج بینفٹ سکیم کے دائرہ کار میں لانا پالیسی کے مقاصد میں شامل ہے۔

حکومت پنجاب ایسے اقدامات یقینی بنائے گی کہ اس ڈومیسٹک پالیسی کے متعین کردہ وسیع تردائرہ کار کے تحت قانونی اور انتظامی اقدامات کے ذریعے ڈومیسٹک ورکر ،مالکان اور پبلک و پرائیویٹ سیکٹر سے وابستہ دیگر سٹیک ہولڈر زکے رابطے کو موثر بنا کر اس اہم افرادی قوت کے درینہ مسائل حل کئے جائیں۔ ڈومسٹک ورکرز پالیسی کے بنیادی مقاصدمیں انتظامی و قانونی اقدامات کے ذریعے گھریلو ملازمین کو تحفظ یافتہ ورکرز کی حیثیت سے تسلیم اور قبول کرنا،دیگر ورکرز کی طرح بلا امتیاز ،کسی ذات پات،رنگ و نسل اور مذہب کی تفریق کے بغیر انہیں رتبہ اور حقوق دیکر مساوی درجہ دینا ،تمام سطح پر ادارہ جاتی سوچ کے تحت ان گھریلو ملازمین کی ضروریات ،مسائل اور مطالبات پر سنجیدگی سے غوروغوض کرنا ،افراط زر کے اتار چڑھاؤ کی شرح کے مطابق گھریلو ملازمین کے لئے منصفانہ اور مناسب سطح پر کم از کم اجرت اور دیگر مراعات کا تعین کرنا ،سماجی تحفظ ،کام کے لئے مناسب حفاظتی ماحول اور حالات سمیت ان گھریلو ملازمین کے لئے انفارمل سیکٹر میں کام کرنے والے دیگر ورکز کی طرح تمام مساوی حقوق اور استحقاق کے فراہمی کے لئے نظام کی تشکیل،فریڈ م آف ایسوسی ایشن کے حق کو وسعت دیتے گھریلو ملازمین کو ایساویژن اور مواقع فراہم کرنا جس کے ذریعے وہ اپنے مسائل اور مطالبات کے لئے منظم طریقے سے مل کر آواز بلند کر سکیں۔

لوکل باڈیز اور ضلعی حکومتوں کے ساتھ ملکر اس پالیسی کے اغروض و مقاصد پر عملدر آمد کے لئے شفاف اور اشترکیت پر مبنی طریقہ کار واضح کرنا ،گھریلو ملازمین ،این جی اوز ،کمیونٹی تنظیموں ،ٹریڈ یونینز کے مقامی اور قومی نیٹ ورک سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کے تعاون سے اس پالیسی کے مقاصد کے حصول کو کامیاب بنانے کیلئے حکومت پنجا ب ایسے اقدامات اور انتظامات عمل میں لا رہی ہے جن کے ذریعے گھریلو ملازمین بھی بنیاد ی لیبر قوانین اور حقوق سے استفادہ کر سکیں اور انہیں بھی دیگر تحفظ یافتہ ورکرز کی طرح سہولیات ،مراعات اور ترغیبات حاصل ہو سکیں۔ پالیسی کے تحت گھریلو ملازمین ،گھرانے ،گھریلو کام اور مالکان کی تعریف آئی ایل او کے اس بین الاقوامی کنونشن 189-Cکے تحت کی جائے گی۔گھریلو ملازمین ،ان کے رتبے ،کام کی نوعیت اور مالکان کی رجسٹریشن ایک ریگولیٹری اتھارٹی کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی۔گھریلو ملازمین کی مناسب تنخواہ، عدم ادائیگی تنخواہ،تاخیر سے ادائیگی اور غیر قانونی کٹوتی جیسے مسائل کا حل نکالا جائے گا۔ مختلف کیٹگری کے گھریلو ملازمین کے لئے کم از کم اجرات کا تعین اور اس حق پر عملدر آمد کے لئے قانونی مدد کی فراہمی یقینی بنائے جائے گی۔کسی صنفی امتیاز کے بغیر مساوی کام کے مطابق سب کے لئے مساوی تنخواہ کا اصول اپنایا جائے گا۔ جسمانی بد سلوکی ،جنسی ہراسگی ،جبرو تشدد،اور دہشت زدہ کرنے جیسے واقعات کی بھر پور تشویش ہو گی اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔کسی مالک کی طرف سے گھریلو ملازم کو ملازمت پر رکھنے کے لئے شرائط و ضوابط کو تحریری شکل میں لایا جائے گا۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے مطابق گھریلو ملازمین کو اپنی مرضی کی ایسوسی ایشن میں حصہ لینے اور یونین سازی کا حق حاصل ہو گا۔ موجودہ ایمپلائز سوشل سکیورٹی سسٹم کے مطابق گھریلو ملازمین کو بھی سوشل پروٹیکشن اور ہیلتھ کیئر کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ان کے لئے کام کے مقرر کردہ اوقات کے اصولو ں پر عملدر آمد ،ہفتہ وار ،تہوار کی چھٹیوں اور یسٹ کے وقفوں کو قانونی تحفظ دیا جائے گا اور گھریلو ملازم کے مالک کے گھر میں رہائش پذیر ہونے کی صورت میں اس کی نجی زندگی کی پرائیویسی کو مد نظر رکھ کر اسے مناسب اقامت گاہ فراہم کی جائے گی۔ حکومت پنجاب ڈومیسٹک ورکرز پالیسی 2015 پر عملدر آمد اور اس کے اغراض و مقاصد کے حصول کو یقینی بنانے کے لئے قابل عمل پروگرام تشکیل دے رہی ہے جو کہ عملدر آمد میں شریک سٹیک ہولڈرز کے کردار اور ذمہ داریوں کا تعین کرے گا اور پالیسی پر عملدر آمد کے لئے ٹائم لائن مقرر کرے گا۔ تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ گھریلو ملازمین کے حالات کو باقاعدگی سے مانیٹر اور اس کی رپوٹنگ کی جائے گی۔ پالیسی پر موثر عملدر آمد ،وسیع تر اور مربوط رابطوں کے ساتھ ساتھ دیگرتمام متعلقہ محکموں،اداروں پر مشتمل بین الاوزراء،لیبر پروٹیکشن کونسل اس صوبائی ڈومیسٹک ورکرز پالیسی کے تمام معاملات کی دیکھ بھال کرے گی۔ انتظامی اور قانون امور اس پالیسی کے اعلان کے تین ماہ کے اندر فائنل کر لئے جائیں گے۔ پالیسی کے نوٹیفکیشن کے ایک سال کے اندر گھریلو ملازمین کے لئے قانون سازی عمل میں لائی جائے گی۔ پالیسی کے نوٹیفکیشن کے چھ ماہ کے اندر گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کا نظام اور حدود طے کر لی جائے گی نیز ہر دوسال بعد تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز اس ڈومیسٹک پالیسی کا از سر نو جائزہ بھی لیا کریں گے۔

مزید : کالم


loading...