گیس کمپنیاں عوام کے بجائے بروکروں کے مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں،ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

گیس کمپنیاں عوام کے بجائے بروکروں کے مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں،ڈاکٹر مرتضیٰ ...

فیصل آباد (آن لائن) بے موسمی سبزیات کی فروغ اور فی ایکٹر پیداوار بڑھانے کیلئے کاشتکار ٹنل ٹیکنالوجی اپنائیں ۔ٹنل میں ہائبرڈ بیج کاشت کر کے اور ملچنگ کے ذریعہ جڑی بوٹیوں کو کنٹرول کر کے سبزیوں کی پیداوار میں کئی گنا اضافہ کیا جا سکتا ہے ۔جس سے کاشتکار اپنی اورملک کی اقتصادی حالت بہتر کر سکتا ہے ۔ان خیالات کا اظہار رانا محمد افضل ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ڈویلمنٹ پراجیکٹ فیصل آباد نے فیصل آباد اور چنیوٹ ،نثار احمد محمود اسسٹنٹ ڈائریکٹرزراعت نے اوکاڑہ اور پاک پتن اور محمد طاہر محمود اسسٹنٹ دائریکٹر زراعت نے سائیوال کے مختلف چکوک میں سبزیوں کے نمائشی پلاٹس کا معائنہ کرتے ہوئے کاشتکاروں سے کیا کاشتکار موسم گرما کی سبزیوں کی اگیتی دستیابی اور زیادہ پیداوار کے حصول کے لیے سبزیوں کی ٹنل میں کاشت کو فروغ دیں علاوہ ازیں محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق پست ٹنل کی اونچائی تقریباً ایک میٹر ہوتی ہے اس کے اندر کھیرا، گھیا کدو، چپن کدو، کریلہ، گھیا توری، حلوہ کدو، ٹماٹر، خربوزہ اور تربوز کی کاشت کی جا سکتی ہے ۔

کھیرے کی کاشت کے لیے پودے سے پودے کا فاصلہ 30سینٹی میٹر ، گھیا کدو، چپن کدو، کریلا ،گھیا توری ،خربوزہ اور تربوز کا 45سینٹی میٹر جبکہ حلوہ کدو کا 50سینٹی میٹر رکھیں۔ قطاروں کا آپس میں فاصلہ کھیرا، چپن کدو، خربوزہ اور تربوزمیں 150سینٹی میٹر ، گھیا کدو ، کریلا ، گھیا توری اور حلوہ کدومیں 240سینٹی میٹر رکھیں۔ زرعی ماہرین کے مطابق ٹنل کے اندر کاشت کی گئی سبز یاں شدید سردی کے موسم میں سردی اور کورے کے اثر سے محفوظ رہتی ہیں کیونکہ پلاسٹک ٹنل کے اندر کا درجہ حرارت مناسب رہتا ہے۔ شدید سردی اور کورے کے باوجود ٹنل کے اندر پودوں کی بڑھوتری جاری رہتی ہے، فصل جلد تیار ہو جاتی ہے اور اچھے داموں بکتی ہے۔ ترجمان کے مطابق کاشت سے پہلے اچھی طرح ہل اور سہاگہ چلا لیں اور بلحاظ فصل مقررہ فاصلے پر نشان لگانے کے بعد پٹڑیاں بنا لیں۔ کریلہ کے لئے زمین کی تیاری کے وقت ڈیڑھ بوری ڈی اے پی اور ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ جبکہ پودوں کا قد 10سینٹی میٹر ہونے پر آدھی بوری یوریا،پھول آنے پر آدھی بوری یوریا، ایک بوری نائٹروفاس، آدھی بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ جبکہ پہلی برداشت کے ایک ماہ بعد یہی کھاد پھر ڈال دیں۔ترجمان نے مزید بتایا کہ چپن کدو کے لئے زمین کی تیاری کے وقت ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ جبکہ پودوں کا قد 10سینٹی میٹرہونے پر ایک بوری یوریا فی ایکڑڈال دیں۔اسی طرح حلوہ کدو، گھیا کدو اور گھیا توری کے لئے زمین کی تیاری کے وقت ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ اور پھول آنے پر ایک بوری یوریا فی ایکڑ ڈال دیں۔ خربوزہ اور تربوز کے لئے زمین کی تیاری کے وقت دو بوری ڈی اے پی، 4بوری سنگل سپر فاسفیٹ (18فیصد)، ایک بوری ایس او پی جبکہ پھول آنے پر 2بوری یوریا فی ایکڑ ڈال دیں۔ ترجمان نے ہدایت کی کہ کاشتکار اس فن کو سیکھیں اور بے موسمی سبزیوں کی کاشت اور بھرپور پیداوار سے زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کریں۔

مزید : کامرس


loading...