پیپلزپارٹی کا احتجاج، رویہ محتاط ، محاذ آرائی سے گریز نوٹیفیکیشن میں جلدی کیوں؟

پیپلزپارٹی کا احتجاج، رویہ محتاط ، محاذ آرائی سے گریز نوٹیفیکیشن میں جلدی ...

تجزیہ:چودھری خادم حسین:

مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے محتاط رویئے کے باوجود کراچی میں رینجرز کی تعیناتی اور اختیارات میں توسیع کا معاملہ شدت اختیار کر گیا اور وفاق کی طرف سے سندھ حکومت کے تحفظات نظر انداز کرتے ہوئے توسیع کے ساتھ ہی سابقہ اختیارات کی بحالی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ اس پر پیپلزپارٹی کے راہنماؤں نے پھر احتجاج کیا۔ پہلے ہی صوبے پر وفاق کا حملہ کیا جا رہا تھا اور اب اسی کی توثیق کی جا رہی ہے۔ ان حالات میں کہ وفاق نے سندھ اسمبلی کی قرارداد مسترد کی اور اب باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا پیپلزپارٹی کے ذمہ داران بار بار یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ آئین کا مسئلہ ہے صوبائی خود مختاری کا معاملہ ہے۔ سندھ کابینہ نے تو واضح طور پر کہا کہ نہ تو رینجرز کی تعیناتی اور اس کے کام اور کارکردگی پر اعتراض ہے اور نہ ہی وفاق سے تنازعہ ہے۔ مسئلہ صوبے کے حقوق اور تحفظات کا ہے جو دور ہونا ضروری ہیں۔ اس سلسلے میں اگر وفاقی حکومت نے توجہ نہ دی تو عدالت سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے یہی کچھ سابق صدر آصف زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر (سینیٹر) نے بھی کہا ہے بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ یہ سب پیپلزپارٹی کو وفاق سے لڑانے کی سازش ہے۔ ان کا اشارہ بہت واضح ہے لیکن انہوں نے نام نہیں لیا۔ اب یہ باقاعدہ ایک تنازعہ بن گیا۔

اس لڑائی میں کس کا نقصان اور کس کا فائدہ ہوگا یہ تو بعد کی بات ہے لیکن جو بات اچھی نہیں ہوئی وہ یہ ہے کہ جب وزیر اعظم نے فیصلہ کیا کہ وہ خود کراچی جا کر بات کریں گے اور معاملے کو سلجھائیں گے تو نوٹیفیکیشن کے جاری کرنے میں دو چار دن کی تاخیر کرلی جاتی اب تو یہی صورت ہے کہ وزیر اعظم یا تو جائیں گے نہیں۔ یا پھر وزیر اعلیٰ سندھ سے بات نہیں کریں گے اور اگر ان سے الگ ملاقات ہوئی تو وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ ہی کو اسی تنخواہ پر کام کرنے کے لئے آمادہ کریں گے کہ ریلیف دینے کے لئے نوٹیفیکیشن میں ترمیم کے لئے نیا نوٹیفیکیشن جاری کرنا ہوگا لہٰذا ان حالات میں ملاقات اور مذاکرات گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے کے مترادف ہوگا اور معاملہ بالآخر عدالت تک ہی جائے گا۔ ایسا ہوا تو بہت سی آئینی پیچیدگیوں کے حوالے سے پنڈورا بکس کھلے گا۔ پوری 18 ویں ترمیم زیر بحث آ جائے گی حالانکہ اسے پہلے ہی چیلنج کیا گیا تھا۔ بہتر عمل سیاسی فیصلہ اور سیاسی سمجھوتہ ہی تھا۔ اب تاثر مختلف بنے گا جو بہر حال ملکی حالات میں بہتری نہیں لا سکے گا۔

یہ تنازعہ اپنی جگہ، یہاں دوسری بڑی خبر جو دھماکہ خیز ثابت ہوئی وہ بھارتی وزیر اعظم مودی کا لاہور آ کر وزیر اعظم محمد نوازشریف سے ملنا ہے۔ اسے اچانک ملاقات بنایا گیا۔ سیکریٹری خارجہ کے مطابق وزیر اعظم مودی نے گیارہ بجے فون کر کے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو وزیر اعظم محمد نوازشریف نے خوش آمدید کہتے ہوئے لاہور بلایا کہ وہ لاہور میں تھے یہاں ان کی نواسی کی شادی اور اس روز رسم حنا تھی چنانچہ بھارتی وزیر اعظم لاہور چلے آئے یہاں وزیر اعظم محمد نوازشریف سے ملاقات کی اور مذاکرات کئے جن کو مفید اور مثبت قرار دیا گیا کہ دونوں وزرا اعظم نے مذاکرات امن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اس سلسلے میں دلچسپ امر یہ ہے کہ قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کی طرح اس آمد کو بھی میڈیا اور اپنے پرائے سے چھپا لیا گیا ورنہ کانگرس کا یہ کہنا کہ یہ ملاقات طے تھی کچھ غلط نہیں۔ یہاں میڈیا بری طرح مارکھا گیا۔ ہمارے جاننے والے چندی گڑھ کے صحافی دوست یہ پوچھ رہے تھے کہ ٹی وی پر لائیو چل رہا تھا اور بہت ہنگامہ خیزی تھی یہاں پھر وہی ہوا۔ ابتدا میں زور دے کر کہا گیا کہ بھارتی وزیر اعظم اور وفد کو لاہور ایئرپورٹ پر ظہرانہ دیا جائے گا اور مذاکرات ہوں گے۔ ہمارے بھائیوں کو ایئرپورٹ پر کھڑے دو ہیلی کاپٹروں سے بھی کچھ اندازہ نہ ہوا جب تک کہ وزیر اعظم مودی آئے نہیں اور یہاں بتایا گیا کہ وہ ہیلی کاپٹر سے جاتی امراء جائیں گے۔ پھر افراتفری اور جاتی عمرہ کی طرف تو جہ ہوئی۔ آخر تک اسے اچانک اور اتفاقیہ ملاقات کہا گیا۔

یہ سوچا ہی نہیں گیا کہ وزیر اعظم مودی کے لئے خصوصی پکوان تیار کئے گئے اور وزیر اعظم مودی نے وزیر اعظم محمد نوازشریف کی نواسی کے لئے بھارتی کپڑوں کے تحائف دیئے اگر تو دلی سے کوئی دوسرا طیارہ اسی دوران لاہور ایئر پورٹ پر اترا تو یہ سمجھ آ جاتی کہ تحائف منگوائے گئے ہیں۔ اگر ایسا نہیں تو یہ تحائف پہلے ہی سے ساتھ تھے اور واضح ہوا کہ پروگرام پہلے ہی سے تھا لیکن میڈیا اور لوگوں سے چھپا لیا گیا یہ ڈپلومیسی کی کامیابی ہے اس کا ایک ثبوت پروٹوکول کی وہ بلٹ پروف گاڑیاں بھی ہیں جو خاصی تعداد میں اسلام آباد سے لاہور منگوائی گئی تھیں۔

خیر چھوڑیئے جو ہواوہ ہوا۔ ملاقات اچھے ماحول میں ہوئی اور بہتر نتائج کی توقع رکھنا چاہئے کہ مختلف ٹی وی چینل اس مرتبہ بھارت اور پاکستان کے تجزیہ کاروں اور صحافیوں کے درمیان ’’مرغ لڑائی‘‘ کا نہیں کرا سکے۔ سب کو نیک تمناؤں کا اظہار کرنا پڑا اگرچہ تحفظات بھی ساتھ تھے۔ سوال تو یہ ہے کہ یہ ملاقات کتنی زیادہ مفید ثابت ہوتی ہے۔ اس کا علم تو سیکریٹریوں کی سطح پر تبادلہ پروگرام اور اگلی سرکاری ملاقات کے اوقات سے ہوگا۔

مزید : تجزیہ


loading...