نواز مودی ملاقات اقوام متحدہ ،امریکہ اور چین کا خیر مقدم ،دورہ طے شدہ تھا :بھارتی میڈیا کا دعویٰ

نواز مودی ملاقات اقوام متحدہ ،امریکہ اور چین کا خیر مقدم ،دورہ طے شدہ تھا ...

واشنگٹن ،بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ ،امریکہ اور چین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ پاکستان اور وزیراعظم نوازشریف کے درمیان ملاقات کے اقدام کا خیر مقدم کیاہے اوردونوں ممالک کے درمیان جامع مذاکرات جاری رکھنے کی حمایت کا اعلان کیاہے۔تفصیلات کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہاہے کہ چین پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتاہے ،چین پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات جاری رہنے کی حمایت کر تاہے۔چینی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاہے کہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری خطے میں امن و استحکام انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی طرف سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دورے سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات بہتر ہوں گے بلکہ خطے میں بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات پورے خطے کے لئے فائدہ مند ہیں جب کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان لاہور میں ہونے والی ملاقات سے مذاکرات کا عمل نہ صرف جاری رہے گا بلکہ مزید مضبوط بھی ہوگا۔

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی میڈیا نے کہناہے کہ مودی کاپاکستان کے دورے کا پروگرام پہلے سے طے تھا،بھارتی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ انکے پاس پہلے سے یہ معلومات تھی کہ مودی پاکستان جا رہے ہیں، انہوں نے کہاکہ مودی کا دورہ پاکستان پہلے سے طے شدہ تھا اورایک کاروباری شخصیت جواس وقت بھی پاکستان میں موجود ہیں وہ ان کی یہ ملاقات کرا رہے ہیں ,بھارتی ٹی وی نے کاروباری شخصیت کا اشارہ ساجن جندل کی طرف کیاجو اس وقت لاہور میں ہیں۔مودی نواز کے درمیان ہونے والی پہلی دو ملاقاتوں میں بھی جندل کااہم کردار رہا ہے۔مودی کے ٹوئٹر پیغام ’’وہ دوپہر کو لاہور میں وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کرکے وہاں سے دہلی جائیں گے ‘‘کے ٹھیک ایک گھنٹے بعد ہندوستان میں سٹیل کی تجارت سے وابستہ ٹائیکون ساجن جندل نے بھی اپنی اہلیہ کے ساتھ تصویر ٹوئٹر پر شیئر کی اور لکھا کہ ’’وہ نواز شریف کو سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لیے لاہور میں ہیں‘‘۔ساجن جندل کے ٹوئٹر پیغام کے چند منٹ بعد ہی ہندوستان کی صحافی برکھا دت نے بھی ٹویٹ کی اور لکھا کہ ’’بتایئے کون ہے لاہور میں نریندر مودی اور ساجن جندل کے علاوہ! اب میری باری ہے کہنے کی، میں نے تو بتایا تھا، نیپال میں دونوں وزرائے اعظم کی خفیہ ملاقات کے بارے میں۔"ہندوستانی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ساجن جندل کی پاکستان میں موجودگی ہی اس ملاقات کے ممکنہ پس پردہ محرکات میں شامل ہوسکتی ہے.اخبار کا دعویٰ ہے کہ سٹیل ٹائیکون ساجن جندل کے پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف سے گہرے مراسم ہیں، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب نواز شریف ہندوستان کے دورے پر آئے تھے تو انہوں نے جندل کے گھر میں ایک ٹی پارٹی میں شرکت کی تھی۔خیال رہے کہ ہندوستانی صحافی برکھا دت نے اپنی کتاب 'دِز یونیک لینڈ' میں انکشاف کیا تھا کہ 2014 میں نیپال میں سارک کانفرنس میں نواز شریف اور نریندر مودی نے ایک گھنٹہ طویل خفیہ ملاقات کی تھی۔اس خفیہ اور غیر مصدقہ ملاقات کے حوالے سے یہ کہا گیا کہ اس کا انتظام ہندوستان اسٹیل کے ٹائیکون ساجن جندل نے کیا تھا، جو کانگریس کے سابق رکن اسمبلی نوید جندل کے بھائی ہیں۔اس کتاب میں ساجن جندل کو ایک غیر سرکاری رابطہ کار بتایا گیا ہے جو دونوں سربراہاں کے درمیان ’خفیہ پل‘ کے طور پر کام کررہا ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...