دور دور جاندے اسی نیڑے نیڑے آ گئے ،مودی کی اچانک لاہور آمد نے جنوبی ایشیا کا ماحول بد ل ڈالا

دور دور جاندے اسی نیڑے نیڑے آ گئے ،مودی کی اچانک لاہور آمد نے جنوبی ایشیا کا ...

لاہور(جنرل رپورٹر)بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی جمعہ کے روز اچانک پاکستان کے مختصر دورہ پر لاہور پہنچ گئے ۔روس سے واپسی پر افغانستان کے جنگ زدہ علاقوں کا دورہ اور بھارتی سفارت خانے کا افتتاح کیا۔افغانستان سے دہلی روانگی سے قبل انہوں نے اچانک جمعہ کی صبح وزیر اعظم نوا زشریف کو ٹیلیفون کرکے پاکستان آنے کی خواہش کا ظہار کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق جمعہ کی صبح ساڑھے گیارہ بجے وزیراعظم نوازشریف کو ان کے بھارتی ہم منصب نے ٹیلی فون کرکے پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کیا جس پر وزیراعظم نوازشریف نے انہیں لاہور میں اپنی موجودگی سے آگاہ کیا اور اپنی رہائش گاہ پرآنے کی دعوت دی۔جس کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندرمودی 120 رکنی وفد کے ہمراہ لاہورکے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچے تو وزیراعظم نوازشریف نے ریڈ کارپٹ پران کا پرتپاک استقبال کیا اورنریندرمودی کوگلے لگا لیا جس کے بعد دونوں رہنما ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر جاتی امراء پہنچے ۔جہاں وزیراعظم نوازشریف کے صاحبزادے حسن نواز اور دیگر مہمانوں نے ان کا استقبال کیا۔ جاتی امرا میں دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے تک ملاقات جاری رہی جس میں باہمی دلچسپی سمیت دو طرفہ امورپرتبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پرنریندرمودی نے وزیراعظم نواز شریف کو نواسی کی شادی پر مبارکباد دیتے ہوئے اپنی جانب سے بھارتی ملبوسات کا تحفہ پیش کیا جسے انہوں نے قبول کرلیا۔جاتی امرا میں ہونے والی انتہائی اہم ملاقات کے بعد نریندرمودی جب بھارت واپسی کیلئے ایئرپورٹ روانہ ہونے لگے تو وزیراعظم نوازشریف بھی ایئرپورٹ روانگی کیلئے اپنے بھارتی ہم منصب کے ہمراہ ایک ہی گاڑی میں روانہ ہوئے جس کے بعد انتہائی سخت سکیورٹی میں نریندرمودی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایئرپورٹ پہنچایا گیا جہاں وزیراعظم نوازشریف نے انہیں الوداع کہا۔

اسلام آباد،لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک ،جنرل رپورٹر )وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ لاہور کو پیرس میں ہونے والی ملاقات کا تسلسل قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ پاک بھارت تعلقات میں پیش رفت امریکہ اور عالمی دباؤ کا نتیجہ ہے،پاکستان میں بھارتی مداخلت کے اقوام متحدہ میں پیش کئے گئے شواہد اور نواز شریف کے چار نکاتی ایجنڈے کا بھی اثر ہوا ہے ،کنٹرول لائن پر کشیدگی پوری دنیا کیلئے باعث تشویش تھی ،اب دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت بتدریج آگے بڑھ رہی ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور تعلقات میں فروغ کا باعث بنے گی،ماحول بہتر ہوگا تو پھر بنیادی مسائل پر بھی بات چیت ہوسکے گی۔ وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں سرتاج عزیز نے کہا کہ پیرس ملاقات میں دونوں قائدین نے طے کیا تھا کہ باہمی تعلقات بہتر ہونے چاہئیں اور مذاکرات کا عمل بحال ہونا چاہئے۔ انہی طے شدہ معاملات کے مطابق پہلے بنکاک میں قومی سلامتی کے مشیران کی ملاقات ہوئی، جس کے بعد بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج پاکستان کے دورے پر آئیں۔ یہ سب کچھ دس دن کے اندر ہوا۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت بتدریج آگے بڑھ رہی ہے، اسی لئے مربوط مذاکرات کا نام تبدیل کرکے اسے جامع مذاکرات کا نام دیا گیا۔ اب دونوں ممالک کے سیکریٹری خارجہ جنوری کے وسط میں ملیں گے اور جامع مذکرات کے شیڈول کو حتمی شکل دیں گے۔دوسری طرف ترجمان دفتر خارجہ نے لاہور ایئر پورٹ پر مودی کی روانگی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی ملاقات میں دو طرفہ روابط بڑھانے، تعلقات کی بہتری اور امن کے عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے‘ میاں نوازشریف اور نریندر مودی کا کہنا تھا کہ امن عمل کا مقصد دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی ہے اس لیے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ روابط بڑھانے پر بھی سیرحاصل گفتگو کی گئی، نوازشریف نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کیا ہے۔اعزاز چودھری کے مطابق وزیراعظم نوازشریف اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندری مودی کی ملاقات میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔دفتر خارجہ کے اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے بھارتی وزیراعظم نریندری مودی کے دورہ پاکستان کا خیر مقدم کیا اور دونوں وزرائے اعظم کی جانب سے امن عمل جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات میں عوام کے مفاد میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے اور باہمی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق دونوں وزرائے اعظم نے کہا کہ امن عمل کا مقصد دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی ہے اس لیے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ روابط بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ نوازمودی ملاقات انتہائی مختصر وقت کے نوٹس پر ہوئی اس لیے مشیر خارجہ سرتاج عزیز، طارق فاطمی اور قومی سلامتی کے مشیر ناصر جنجوعہ کی اسلام آباد میں موجودگی کے باعث وہ اس میں شریک نہیں ہوسکے۔ اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ملکوں کے لیے یہ بات اہم ہے کہ ان کی قیادت ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے دونوں ملکوں کے لیے خوشحالی کے دروازے کھلیں اور تعاون کی نئی راہیںآگے بڑھائی جائیں۔اعزاز چوہدری نے بتایا کہ دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات میں اظہار کیا گیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جو بات چیت کا سلسلہ شروع ہونے جارہا ہے اسے مثبت انداز میںآگے بڑھایا جائے تاکہ باہمی اعتماد کی ایک فضا قائم ہوسکے جس کے نتیجے میں دونوں کے درمیان جو حل طلب معاملات ہیں انہیں حل کیا جاسکے اور تعاون کو بھیآگے بڑھایا جاسکے تاکہ جنوبی ایشیا کے لوگوں کے غربت جیسے بڑے مسائل کے لیے باہمی طور پر تعاون کرکے قابو پاسکیں۔سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ نریندرا مودی کا دورہ مکمل طور پر خیرسگالی کے جذبے کے تحت تھا اور اس دوران دونوں وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی جس میں خیرسگالی کے انداز میں گفتگو کی گئی جب کہ وزیراعظم نوازشریف نے نریندر مودی کے جذبے کو خوش آئند قرار دیا۔

مزید : صفحہ اول


loading...