قائد اعظم کی سالگرہ پر اقبال کے شہر کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی سلامی

قائد اعظم کی سالگرہ پر اقبال کے شہر کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی سلامی

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی روس کے دورے پر گئے وہاں کئی معاہدے گئے، پھر افغانستان گئے جہاں انہوں نے پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح کیا جو بھارت نے تعمیر کر کے تحفتاً افغانستان کو دی ہے، افغانستان سے انہوں نے پاکستان کی فضاؤں میں پرواز کر کے اپنے وطن جانا تھا، ممکن ہے ان کو خیال آیا ہو کہ پاکستان سے گذرنا تو ہے لاہور کو بھی سلام کرتے چلیں جو اقبال کا شہر ہے، جنہوں نے کہا تھا ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ سو انہوں نے فون پر وزیر اعظم نواز شریف سے رابطہ کیا اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی، یہ قائد اعظمؒ کی سالگرہ کا دن تھا، جس دن کی ہم پاکستان والوں کے دل میں خصوصی اہمیت ہے، اس دن نریندر مودی لاہور میں اترے تو بالواسطہ طور پر انہوں نے بھی بانی پاکستان کی عظمت کو تسلیم کیا، یہ بھی ممکن ہے کہ جس طرح چھ ماہ قبل اوفا میں روسی اور چینی رہنماؤں کی کوششوں سے مودی اور نواز شریف کی ملاقات ہوئی تھی اسی طرح اب کی بار بھی روسی رہنماؤں نے مودی کو سمجھایا ہو کہ بدلتی ہوئی دنیا میں ہمسایوں سے تعلقات بہتر بنانا ضروری ہے، خود روس بھی اب اس پالیسی پر گامزن ہے اور پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات میں بہت بہتری آ رہی ہے، فوجی ساز و سامان کے علاوہ روس کراچی سے لاہور تک گیس پائپ لائن بھی تعمیر کرنے میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، وجہ کچھ بھی ہو، لاہور میں رکنے کا خیال ان کا اپنا ہو، یا روسی دوستوں کا مشورہ، ان کا فیصلہ بہرحال بروقت تھا، خیال تھا اگلے سال وہ سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کے لئے آئیں گے تو پاکستانی رہنماؤں سے بھی ملاقات ہو جائے گی، لیکن یہ چھ ماہ پہلے ہی ممکن ہو گیا، ہر بات کا اک وقت معین ہے ازل سے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نریندر مودی کو احساس ہو گیا ہو کہ مذاکرات کے بغیر آگے بڑھنے کا راستہ نہیں اس لئے انہوں نے لاہور آمد کا فیصلہ کیا اور اس راستے میں پندار کے کسی صنم کدے کو حائل نہیں ہونے دیا۔

قوموں اور ملکوں کے درمیان دشمنی مستقل نہیں رہ سکتی، اس وقت جو یورپی ملک ایک یونین میں اکٹھے ہیں پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے زمانے تک وہ باہم دست و گریباں تھے، ان دونوں جنگوں میں کروڑوں انسان لقمہ اجل بن گئے، جو تباہی و بربادی پھیلی وہ تو بے حد و حساب ہے لیکن اس کے باوجود یورپ کی یہ ساری اقوام اپنے ماضی کو فراموش کرنے پر رضا مند ہو گئیں اور ایک نئے عہد کا آغاز کرنے کے لئے یورپی یونین بنائی، جہاں اب سنگل کرنسی رائج ہے اس فیصلے تک پہنچنے میں ان ملکوں نے کیا کیا پاپڑے بیلے، اس کی تفصیل میں جائے بغیر یہ کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ماضی کو بہرحال دفن کیا اور آگے بڑھ گئے، ایک اور مثال امریکہ اور کیوبا کی دی جا سکتی ہے جو ایک دوسرے کے رہنماؤں کو قتل کرنے کی سازشیں بھی کرتے لیکن اب دونوں نے نصف صدی سے زائد کی دشمنی ختم کر کے دوبارہ سفارتی تعلقات قائم کر لئے ہیں اور ماضی کی روش کے برعکس آگے بڑھ رہے ہیں خود امریکہ کی خانہ جنگی اس بات کی گواہ ہے کہ ریاستیں آپس میں کس طرح لڑائی مار کٹائی میں مصروف تھیں اور مسلسل لڑتے جھگڑتے رہنے کے بعد ان کے اندر احساسِ زیاں کس طرح جاگا اور وہ سب کچھ فراموش کرنے پر رضامند ہو گئیں۔

اور یہ تو ابھی کل کی بات ہے شہنشاہِ ایران کے دور کو سامنے رکھئے، اُس وقت محمد رضا شاہ پہلوی ’’خلیج کے پولیس مین‘‘ تھے، امریکہ اُن کا سرپرست تھا۔ امریکی ایران میں یوں دندناتے تھے کہ ان پر ایرانی قوانین کا اطلاق تک نہ ہوتا تھا، وہ کسی ایرانی کو قتل بھی کردیتے تو ان پر ایران میں مقدمہ نہ چل سکتا تھا، بس اُن پر امریکی قانون کا اطلاق ہوتا تھا، وہ چاہتا تو قاتل کو سزا دیتا، ورنہ چھوڑ دیتا، پھر شاہ ایران کا دور لد گیا اور ایران کی سرزمین امریکہ کیلئے اجنبی ہوگئی۔ خمینی کے نئے ایران میں امریکہ ’’شیطان بزرگ‘‘ ہوگیا، یہ 79ء کی بات ہے۔ اب وقت نے ایک اور کروٹ لی ہے اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کی ایک نئی کھڑکی ایران کی موجودہ قیادت نے کھول دی ہے، قوموں کے تعلقات جامد و ساکت نہیں ہوتے، نہ وقت یکساں رہتا ہے

ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں

بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کی ایک تاریخ ہے اس کے باوجود65ء تک دونوں ملکوں کے تعلقات بڑی حد تک معمول کے مطابق تھے، لاہور کے شہری تو طویل عرصے تک پاسپورٹ کے بغیر محض ڈی سی کے پرمٹ پر سرحد پار جا سکتے تھے۔ اس عرصے میں اقلیتوں کے تحفظ کا لیاقت نہرو معاہدہ اور پانی کی تقسیم کا سندھ طاس معاہدہ ہوا تھا، اگرچہ موخر الذکر معاہدے کو منفی انداز میں دیکھنے والوں کی کمی نہیں اور ایسے لوگ بھی ہیں جو جنرل ایوب پر پانی بیچنے کا الزام لگاتے ہیں لیکن مثبت انداز میں دیکھنے والے بھی بہت ہیں، دنیا کی بدلتی ہوئی فضا میں اگر دو ہمسایہ ملک تعلقات کی بہتری کی کوشش کر رہے ہیں اور مذاکرات کے بعد کسی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں تو ان کوششوں پر خواہ مخواہ شکوک و شبہات کے سائے نہیں پھیلانے چاہیں اور انہیں مثبت انداز میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ درست ہے کہ بھارت نے انتہا پسندی کی لہر کو یکطرفہ طور پر انگیز کیا۔ پہلے ممبئی میں خورشید محمود قصوری کی کتاب کی رونمائی کرانے والے میزبان کلکرنی کے منہ پر سیاہی ملی گئی، پاکستانی فن کاروں کے شو منسوخ کرائے گئے، شہر یار خان کی آمد پر مظاہرہ کرایا گیا، غلام علی کا میوزک کنسرٹ منسوخ کیا گیا، لیکن پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی نہیں لگائی گئی، آج بھی سینماؤں میں بھارتی فلمیں دکھائی جا رہی ہیں، کرکٹ کے مسئلے پر بھی پاکستان نے آخری حد تک کوشش کی کہ سری لنکا میں سیریز کھیلی جائے، یہ بھارت ہی تھا جس نے ہٹ دھرمی دکھائی اور غیر جانبدار مقام پر بھی کھیل کو ناممکن بنا دیا۔

اب اگر یہ احساس جاگا ہے کہ تعلقات کو معمول پر لانا ہی وقت کا تقاضا ہے تو ان لمحات کو گرفت میں لانا چاہئے۔ مسائل کا حل میز پر بیٹھ کر دریافت کیا جاسکتا ہے، امن کا مقصد اگر دونوں ملکوں کے عوام کی خوشحالی ہے تو اس سے کسی کو کیا اختلاف ہے، لیکن ابھی اس راہ میں بہت سے سنگِ گراں حائل ہیں۔ ابھی محبت کے گیت چھیڑنے کیلئے ساحر لدھیانوی کے بقول ’’حیات کا ماحول سازگار نہیں‘‘ مودی کے ساتھیوں میں ’’شیو سینا‘‘ نے ان کے اچانک دورے کو ہدف تنقید بنایا اور کہا یہ دورہ بہت ہی قابل اعتراض ہے اور مودی کو اس دورے پر معافی مانگنی چاہئے۔ ’’شیو سینا‘‘ کے رہنماؤں سنجیو غنولی، راجیو ٹنڈن اور راجیش پلٹا نے کہا ہے کہ لاہور میں مودی کے اچانک قیام سے پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوئی اور دنیا کو غلط پیغام جائے گا کہ بھارت اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات کے ضمن میں کسی دباؤ کا شکار ہے، اس سے ملک کا تصور مجروح ہوا، ان رہنماؤں نے کہا کہ مودی نے پاکستان کے معاملے میں ’’یو ٹرن‘‘ لے لیا ہے۔ ’’ہمارے ملک میں پاکستان کے خلاف غم و غصہ ہے اور ہمارا وزیراعظم پاکستان میں رک کر نوازشریف کو سالگرہ کی مبارکیں دیتا پھرتا ہے‘‘۔ ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انتخابی مہم کے دوران مودی کہتے تھے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اس زبان میں بات کریں گے جو وہ سمجھتا ہے، لیکن اب حکومت میں آنے کے بعد وہ اس ملک کی سرزمین پر اتر گئے جسے انہوں نے سبق سکھانے کی بات کی۔ ان رہنماؤں نے ہم وطنوں کو دھوکے میں رکھنے پر مودی سے معذرت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ شیو سینا نے اگر دورے کی مذمت کی تو سماج وادی پارٹی نے مودی کی بھرپور حمایت کردی۔ سماج وادی پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور لوک سبھا کے رکن رام گوپال یادیو نے مودی کی اس پہل کاری کو قابل تعریف قرار دیا ہے ’’پاکستان بھارت کا قریبی ہمسایہ ہے اور پرامن مستقبل کیلئے کھلا مکالمہ ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔ مودی نے اس دورے میں مستقبل میں بامعنی مذاکرات کا اشارہ دیدیا ہے‘‘۔

مزید : تجزیہ


loading...