کچھ لوگ افغانستان میں ہماری موجودگی کو اچھا نہین سمجھتے نریندر مودی

کچھ لوگ افغانستان میں ہماری موجودگی کو اچھا نہین سمجھتے نریندر مودی

 کابل( اے این این )بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے کہاہے کہ دہشت گردی اور تشدد کے ذریعے افغانستان کے مستقبل کی تعمیر ممکن نہیں، افغانستان کے اندر کامیابی کی واحد کنجی سرحدوں کے آرپار دہشت گردی کا خاتمہ ہے،دہشت گردی کی آماجگاہ اور محفوظ ٹھکانے ختم اوردہشت گردوں کے سرپرستوں کو خاموش کرنا ہوگا۔ کابل میں افغان پارلیمنٹ کی نئی عمارت کے افتتاح کے موقعے پر اراکین سے خطاب میں بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ اراکین پارلمنٹ سے خطاب میں نریندر مودی نے کہا کہ دہشت اور تشدد کے ماحول میں افغانستان کے مستقبل کی تعمیر ممکن نہیں۔ انھوں نے کہا کہ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم یہاں موجود نہ رہیں اور ہماری یہاں موجودگی کو اچھا نہیں سمجھتے۔ کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کے لئے ہماری شراکت داری اچھی نہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس شراکت داری کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی کامیابی کے لئے اس کے ہر ایک پڑوسی کا تعاون ضروری ہے اور اس مشترکہ مقصد کے لئے خطے کے تمام ممالک پاکستان ،بھارت، ایران اور دیگر کو لازمی طور پر اعتماد اور تعاون کے ساتھ متحد ہونا پڑیگا۔انھوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ پاکستان جنوبی ایشیا اور افغانستان کے درمیان پل کا کردار ادا کرے گا۔ اس موقع پر دہشت گردی سے نمٹنے میں جان گنوانے والے افغان فوجیوں کے بچوں کے لئے بھارتی وزیر اعظم نے 500 اسکالرشپ دینے کا بھی اعلان کیا۔بعد میں صدر اشرف غنی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ امن کے لئے دہشت گردی، منشیات اور انتہا پسندی سنگین چیلنج ہیں۔ نریندر مودی نے اس موقع پر افغان حکومت کو اس کی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کے لئے اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور بھارت کی جانب سے ایم آئی 25 ہیلی کاپٹر دئے جانے کا بھی ذکر کیا۔ دونوں جانب سے افغان فوجیوں کو دی جانے والی تربیت میں توسیع پر بھی اتفاق کیا گیا۔ پارلیمنٹ سے خطاب کے بعد مودی افغان چیف ایگزیکٹو افسر عبداللہ عبداللہ اور سابق صدر حامد کرزئی سے بھی ملے۔

نریندرمودی

مزید : علاقائی


loading...