شہری حلقوں کا ٹراما سینٹر کو بسمہ کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ

شہری حلقوں کا ٹراما سینٹر کو بسمہ کے نام سے منسوب کرنے کا مطالبہ

تجزیہ :نعیم الدین

ملک میں سیکورٹی کے نام پر پروٹوکول لینے اور دینے کافیشن انتہا کو پہنچ گیا ہے۔ جس کے باعث ہر دوسرا تیسرا شخص پولیس وین کے ساتھ جاتا ہوا نظر آتا ہے اور ہوٹرسائرن بجاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اکثر اوقات موبائل میں بیٹھے ہوئے سیکورٹی اہلکار آس پاس سے گزرنے والی گاڑیاں چلانے والوں یا پیدل چلنے والوں کو انتہائی توہین آمیز رویے کے ساتھ ایک طرف چلنے کا کہہ رہے ہوتے ہیں۔ جبکہ سگنل پر موجود پولیس اہلکار انہیں پہلے تو نکلنے کااشارہ کرتے ہیں اور اکثر وہی وی آئی پی شخصیت کیلئے ٹریفک کو روک لیا جاتا ہے اور کئی کئی گھنٹوں تک کھڑے رہنے کا کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک واقعہ کچھ دنوں قبل سول ہسپتال میں دیکھنے کو ملا جہاں ٹراما سینٹر کے افتتاح کے لیے بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ کی آمد کے موقع پر آمدورفت روکنے سے ایک انتہائی افسوسناک واقعہ رونما ہوا جس میں 10 ماہ کی بچی بسمہ طبی امداد میں تاخیر کے باعث اﷲ کو پیاری ہوگئی ۔ یہ واقعہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے کیونکہ انسانی جان سے بڑی کوئی چیز نہیں ہے۔ اس موقع پر ایک سینئر صوبائی وزیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیڈر کی زندگی ہمارے لیے سب سے زیادہ اہم ہے ۔ حالانکہ اس بیان پر سیاسی حلقوں نے افسوس کاا ظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ووٹر ہی مرجائے تو اکیلا لیڈر کیا کرے گا۔ جمہوری ملکوں میں انسانی جان یا ووٹرز کی سب سے بڑی اہمیت ہے۔ بہرحال اس صوبائی وزیر کے اس بیان پر عوام میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوات ہے کہ ہمارے پورے ملک میں پروٹوکول فیشن کا درجہ اختیار کررہا ہے۔ ہرآدمی پروٹوکول کو اپنی شان سمجھ رہا ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف نے اپنے گذشتہ دور میں وی آئی پی کلچر کے خاتمے کے لیے جو کوششیں کی تھیں وہ آج بھی عوام کو یاد ہیں۔ جب ایئرپورٹس پر وی آئی پی روز بند کردیے گئے تھے۔ وی آئی پیز کیلئے ہوٹرز پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ یہاں تک کہ سوائے صدر ، وزیراعظم ، وزیر اعلیٰ، گورنرہی صرف اپنی گاڑی پر قومی پرچم لہرا سکتا ہے۔ جبکہ صوبائی وزراء اور وفاقی وزراء قومی پرچم اپنی گاڑیوں پر نہیں لگاسکتے ہیں۔ لیکن ان کی حکومت جانے کے بعد پرویز مشرف کے دور حکومت میں اس کلچر کو دوبارہ پنپنے کا موقع دیا گیا ۔ اور اسی دوران دہشتگردوں کی وارداتوں کے باعث اس کلچر کو ہمارے سیاستدانوں نے مزید فروغ دیا۔ ہماری پولیس جو کہ سیاستدانوں کے لیے زیادہ اور عوام کے لیے کم خدمات انجام دے رہی ہے۔ حالانکہ اصول طور پر پولیس کو صرف اور صرف عوام کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ دس اہلکاروں کے بجائے صرف ایک اہلکار سے بھی کام لیا جاسکتا ہے۔ سڑکوں کو بند کرنے کے بجائے عوام کو زیادہ سہولتیں فراہم کرناچاہیے کیونکہ حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی بہتر ہے ، پھر ایسی صورت میں اتنی زیادہ سیکورٹی کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ کیا ہم وی آئی پی پروٹوکول کے عادی ہوگئے ہیں۔ یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کا جواب حکومت دے سکتی ہے۔ کیونکہ گذشتہ دنوں ہماری صوبائی حکومت نے رینجرز کی ضرورت کو انتہائی گہرائی سے دیکھا گیا۔ جبکہ اس وقت عوام رینجرز کی موجودگی میں ماضی کے مقابلے میں امن محسوس کررہے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے حالات کو بھانپتے ہوئے فوری طور پر کے پی کے میں VIP کلچر کے خاتمے کااعلان کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کو بھی پروٹوکول اس طرح سے نہیں دے سکیں گے جیسے ماضی میں دیا جاتا رہا ہے۔ جبکہ وزیراعلیٰ سرحد بھی پروٹوکول کے بغیر چلیں گے اور ان کے لیے بھی ٹریفک کو ڈسٹرب نہیں کیا جائے گا۔ کاش تمام صوبے اس پر عمل کریں۔

مزید : تجزیہ


loading...