مودی کا دورہ لاہور۔ آنکھیں کھلی رکھیں

مودی کا دورہ لاہور۔ آنکھیں کھلی رکھیں
 مودی کا دورہ لاہور۔ آنکھیں کھلی رکھیں

  


مودی کابل سے لاہور آئے۔طوفان ہندوستان میں اور ماتم کابل میں ہے۔ پاکستان میں سکون ہے۔ سوال یہ ہے کہ مودی کیوں آئے؟ سیاست میں کچھ بھی بغیر وجہ کے نہیں ہوتا۔ ملکوں کے درمیان تعلقات مفاد کی بنیاد پر ہوتے ہے۔ مفاد ہو تو اچھے تعلقات۔ مفاد ختم تعلقات ختم۔ اس لئے سوال یہی ہے کہ مودی کا پاکستان میں کیا مفاد پیدا ہو گیا ہے کہ وہ لیٹے جا رہے ہیں۔

مودی کابل سے آئے۔ کابل سے پہلے وہ ماسکو گئے۔ ویسے تو پاکستان اور ماسکو کے درمیان بھی برف پگھل رہی ہے۔ اور شنید یہی ہے کہ آئندہ چند ماہ میں روس کے صدر پوٹن پاکستان کا دورہ کریں گے۔ لیکن کابل اور پاکستان کا معاملہ کچھ اور ہی ہے۔ بھارت کا کابل میں بہت اثر و رسوخ ہے۔ کابل میں بھارتی لابی بہت مضبوط ہے۔ کابل میں را کا نیٹ ورک بہت مضبوط ہے۔ گزشتہ ماہ جب افغان صدر اشرف غنی پاکستان آئے تھے توکابل میں افغان انٹیلی جنس چیف نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق بھارتی لابی سے ہے۔ اس کے ساتھ افغانستان کے چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبد اللہ کا تعلق بھی بھارتی لابی سے ہی کہا جا تا ہے۔ اس لئے مودی کا کابل سے لاہور آنا افغانستان میں موجود بھارتی لابی کے لئے بھی ایک واضح پیغام ہے۔ یقیناًوہ کابل میں اپنے دوستوں کو اعتماد میں لیکر ہی لاہور آئے ہو نگے۔

مودی کا کابل سے لاہور آنا اس لئے بھی اہم ہے کہ مودی کے دورہ کابل کے فورا بعد پاکستان فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے بھی کابل جا نا تھا۔ ان کے جانے سے قبل افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر بھی پاکستان کا دورہ کر کے گئے تھے۔ اشرف غنی کے دورہ پرطالبان سے دوبارہ امن مذاکرات بحال کرنے کا اعلان بھی ہو چکا ہے۔ اس لئے یقیناًکابل میں بھارتی لابی نے مودی سے پاکستان کے افغانستان میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر احتجاج کیا ہو گا۔ لیکن شاید مودی مجبور تھے۔ مودی کے کابل سے لاہور آنے سے افغانستان میں بھارتی لابی یقیناًکافی دلبرداشتہ ہو گی۔ اور ان کی امیدیں دم توڑ گئی ہو نگی۔ یقیناًمودی ان کی زندہ لاشوں پر قدم رکھ کر ہی لاہور پہنچے ہیں۔ ایک شنید یہ ہے کہ افغانستان میں پاکستانی سرحد کے ساتھ ساتھ موجود بھارتی قونصل خانوں سے بالخصوص بلوچستان میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے وہ اب بھارت جاری نہیں رکھ سکتا۔ اس ضمن میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان انڈر سٹینڈنگ ہو چکی ہے۔ جس میں چین نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس لئے مودی کے پاس اب کابل سے لاہور آنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ جنرل راحیل شریف کے دورہ کابل سے کوئی ایسا تاثر ابھرے جو بھارت کے لئے اچھا نہ ہو۔

لاہور سے دہلی پہنچتے ہی مودی کو شدید تنقید کا سامنا ہے ۔کوئی کہہ رہا ہے کہ مودی کیا لے کر آئے ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ کیا داؤ د ابراہیم کو لے آئے ہیں۔کوئی حافظ سعید کی بات کر رہا ہے۔ مودی پر یہ تنقید اس لئے نہیں ہے کہ بھارت میں لوگ پاکستان سے اچھے تعلقات کے خواہاں نہیں ، بلکہ یہ تنقید اس لئے ہے کہ مودی نے گزشتہ چند ماہ میں بھارت میں پاکستان مخالف ماحول کو شدید ہوا دی تھی۔ بلکہ انہوں نے پاکستان مخالف ماحول کو ہی اپنی سیاست کی بنیاد بنا یا۔ اس طرح وہ اب اپنی بنیادسے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ اسی لئے ان پر تنقید ہے۔ کیونکہ سیاست میں اپنی بنیاد سے پیچھے ہٹنا سیاسی موت ہوتی ہے۔ کیونکہ آپ کی بنیاد ہی آپ کی سیاسی بقا کی ضامن ہوتی ہے ۔ اور مودی نے لاہور آکر اپنی سیاسی بقا کو یقیناًداؤ پر لگا دیا ہے۔ وہ جس تیزی سے پاکستان کے قریب آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یقیناًوہ بھارت میں اپنی سیاست کو اتنا زیادہ داؤ پر لگا رہے ہیں۔

مودی اس وقت پاکستان سے اچھے تعلقات کے لئے کوشاں ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم تو پہلے ہی بھارت سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ لیکن وہ مودی کے پاکستان مخالف رویہ کی وجہ سے دلبرداشتہ تھے۔ لیکن شاید مودی نے لوٹنے میں بہت دیر کر دی ہے۔ جب میاں نواز شریف 2013 میں برسر اقتدار آئے تھے تو ہ پاکستان کے توانائی و دیگر مسائل کا حل بھارت و بھارتی سرمایہ کاری میں دیکھتے تھے۔ میاں نواز شریف کا خیال تھا کہ بھارت کے بڑے بڑے سرمایہ کاروں کوباآسانی پاکستان کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔ جنہوں نے بھارت میں پلانٹ لگائے ہیں وہ یہاں بھی لگا سکتے ہیں۔ لیکن پھر مودی نے میاں نواز شریف کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اور اس دوران چین کی بڑی سرمایہ کاری بھی آگئی۔ اس لئے اب شاید میاں نواز شریف کے پاس مودی اور بھارتی سرمایہ کار کو دینے کے لئے کچھ نہیں۔ اس لئے جہاں مودی کو جلدی نظر آرہی ہے وہاں میاں نواز شریف کا محتاط رویہ بھی سامنے ہے۔ وہ خود کوئی قدم نہیں اٹھا رہے ۔ بلکہ صرف مودی کے اقدمات کا مثبت جواب دے رہے ہیں۔ ورنہ عالمی ڈپلومیسی میں باری باری قدم اٹھائے جا تے ہیں۔ لیکن یہاں مودی ہی بار بار قدم اٹھا رہے ہیں ۔

مودی کے دورہ لاہور کا ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ اس خطہ میں یقیناًکچھ بڑا ہونے والا ہے۔ جس کے لئے وقت کم ہے۔ اسی لئے مودی کو جلدی ہے۔ وہ اپنی اندرونی سیاست میں کافی وقت ضائع کر چکے ہیں۔جس کی وجہ سے ان پر عالمی سطح پر دباؤ ہے۔ کہ جلدی کرو۔ جو گند ڈالا ہے۔اس کو صاف کرو۔ لیکن پھر سوال یہ ہے کہ بڑا کیا ہوسکتا ہے۔ جس میں پاک بھارت دوستی بہت ضروری ہے۔ کیا عالمی ایجنڈا ہے جس نے بھارتی وزیر اعظم کولاہورآنے پر مجبور کر دیا ہے۔ عالمی سیاست مفاد کا کھیل ہے۔ اس لئے یقیناًبھارت کا بڑا مفاد ہے کہ اس کا وزیر اعظم لاہور کیک لیکر پہنچ گیا ہے۔ اس لئے آنکھیں کھلی رکھنے کی ضرورت ہے۔

مزید : کالم


loading...