25دسمبر کی نئی رونق

25دسمبر کی نئی رونق
 25دسمبر کی نئی رونق

  


25دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام اِس دُنیا میں تشریف لائے تھے۔ اُن کی امتیازی شان یہ تھی کہ اُن کی والدہ مریم کی شادی نہیں ہوئی تھی۔اس پر بہت سے لوگ اب بھی متعجب ہوتے ہیں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ آدم اور حوا اگر ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہو سکتے تھے، تو حضرت مسیحؑ کی تخلیق باپ کے بغیر کیوں ممکن نہیں تھی؟ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے، بقول حضرت اشفاق احمد خان مرحوم بابا جی کے اُس پر کون سا آڈٹ ابجکشن ہونا ہے وہ جو چاہے کر سکتا بلکہ کر کے دکھا سکتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہ معجزہ عطا کیا گیا کہ وہ مُردوں کو زندہ کر سکتے تھے۔ ان کے پیرو کار بہت بھاری تعداد میں دُنیا بھر میں موجود ہیں۔ اگرچہ کہ ان کی تعلیمات کو اسی طرح نظر انداز کر چکے ہیں، جس طرح دوسرے مذاہب کے بہت سے ماننے والے۔۔۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا جشن ہر سال ’’کرسمس‘‘ کے زیر عنوان منایا جاتا ہے،اس دن کو ان کی نسبت ہی سے ’’بڑا دن‘‘ کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے۔مسلمان بھی ان کی نبوت کا اقرار کرتے ہیں۔ ان کو نبی مانے بغیر ان کا کوئی شخص دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو سکتا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ان پر ایمان لانے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے کہ عیسائی اور مسلمان مل کر دُنیا کی آبادی کا کم و بیش دوتہائی بن جاتے ہیں۔

25دسمبر کا ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ 1876ء میں پاکستان کے بانی اِسی دن پیدا ہوئے۔ پورے پاکستان میں ان کا یوم ولادت پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ دُنیا بھر میں پھیلے ہوئے پاکستانی اور کشمیری باشندے اسے قومی تہوار گردانتے ہیں۔ بنگلہ دیش نے اپنا ’’فادر آف دی نیشن‘‘ شیخ مجیب الرحمن کو قرار دے دیا ہے، لیکن مَیں نے برسوں پہلے ایک ملاقات میں ’’بنگلہ دیش آبزرور‘‘ کے ایڈیٹر اقبال سبحان چودھری سے عرض کیا تھا کہ قائداعظمؒ کو ’’گرینڈ فادر‘‘ تو بہرحال ماننا پڑے گا کہ اگر وہ نہ ہوتے تو بنگلہ دیش بھارت کا حصہ ہوتا۔ چودھری صاحب اس وقت نفی میں سر نہیں ہلا سکے تھے۔ حسنِ اتفاق یہ بھی ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اس دُنیا میں25دسمبر کو وارد ہوئے تھے۔ ان کی سالگرہ چپکے چپکے منائی جاتی ہے، ان کے گھر یا مداحوں کے بعض حلقوں میں کیک کاٹ لیا جاتا ہے کہ25دسمبر کی نسبت قائداعظمؒ کے ساتھ ہو چکی، اس میں خلل ڈالنے کی جسارت نہیں کی جا سکتی۔

ان حوالوں کے ساتھ ساتھ اب25دسمبر کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورۂ پاکستان کی نسبت سے بھی یاد رکھا جائے گا۔ ان کی آمد نے اِس دن کو نئی رونق بخش دی ہے:

ہماری راہ میں کانٹے بکھیرنے والو

تمہاری راہ میں آنکھیں بچھا رہے ہیں ہم

مودی نے افغانستان سے بھارت جاتے ہوئے لاہور میں رکنے کا فیصلہ کیا۔ ساڑھے گیارہ بجے اپنے پاکستانی ہم منصب کو فون کر کے ان کی سالگرہ کی مبارک دی،ان کی نواسی مہر النساء کی شادی ایک روز بعد ہونے والی ہے، اس پر اظہارِ مسرت کیا، اور ان سے ملاقات کی خواہش بھی ظاہر کر دی۔ نواز شریف نے بانہیں پھیلا دیں۔مودی صاحب نے ساڑھے چار بجے سہ پہر پہلی بار لاہور کی سرزمین پر قدم رکھے، اور اپنے پیشرو اٹل بہاری واجپائی کی یاد ایک نئے رنگ سے تازہ کر دی۔ سولہ برس پہلے، فروری 1999ء میں واجپائی بس کے ذریعے لاہور آئے تھے۔ گورنر ہاؤس میں ایک اجتماع میں ان کی تقریر نے دِل موہ لیے تھے۔ وہ مینارِ پاکستان پر بھی گئے اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان، ان کی مہر سے نہیں چل رہا۔ ایک آزاد اور خود مختار ریاست ہے۔ شاہی قلعے میں وزیراعظم نواز شریف ہی نے ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا تھا۔ وہیں، ان سے میرا تعارف کراتے ہوئے انہوں نے کہا تھا:’’یہ پاکستان کے مالک ہیں‘‘۔۔۔ واجپائی چونک اُٹھے۔ مَیں نے فوراً وضاحت کر دی، جناب روزنامہ ’’پاکستان‘‘۔۔۔ اس پر وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ دونوں وزرائے اعظم نے ’’لاہور اعلامیے‘‘ پر دستخط کر کے تمام مسائل کو حل کرنے کا پختہ عزم ظاہر کیا تھا۔ بعد میں کارگل کی واردات نے گاڑی پٹڑی سے اتار دی اور ایک تاریخی موقع بری طرح ضائع ہو گیا۔

پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے نریندر مودی کا تاثر مثبت نہیں رہا۔ ان کے مخالف ان پر ’’مسلم دشمنی‘‘ کا الزام لگاتے اور گجرات میں ان کے دورِ اقتدار میں ہونے والے مسلم کش فسادات کی مثال دیتے ہیں۔ ان کے دہلی کے تخت پر بیٹھنے کے بعد پاکستان سے تعلقات میں تلخی آتی گئی، لیکن گزشتہ چند ہفتوں میں حالات نے ایک نئی کروٹ لی ہے۔ وجہ جو بھی ہو لگتا ہے مودی کے اندر ایک مدبر توانا ہو رہا ہے۔ وہ واجپائی کے راستے پر چل نکلے ہیں۔ لاہور کے جرأت مندانہ دورے نے ماحول کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ وہ بھارت کے پہلے وزیراعظم ہیں، جنہوں نے ایسی جست لگائی ہے۔ ایک ایسا دھماکہ کیا ہے، جس کی گونج دیر تک اور دور تک سنائی دیتی رہے گی۔نواز شریف نے خود ہوائی اڈے پر آ کر ان کا سواگت کیا، اپنی رہائش گاہ پر لے گئے۔ وہاں مہمانِ خاص نے ان کی والدہ کے پاؤں چھوئے، نواسی کی شادی پر مبارک باد دی، تحائف پیش کئے، پُرتکلف چائے پینے اور بے تکلف گفتگو کرنے کے بعد واپس روانہ ہو گئے۔ نواز شریف نے خود انہیں جہاز کے سپرد کیا اور شاداں و فرحاں واپس آ گئے۔

مختلف ٹی وی چینلز پر درجنوں تجزیہ کار اپنی اپنی ہانکتے رہے۔ براہِ راست کچھ واقفیت نہ رکھنے کے باوجود بہت سوں کا شوقِ گفتگو دیدنی تھا۔ کوئی دور کی کوڑی لایا، کوئی نزدیک کی۔ کم تھے جنہوں نے سنجیدگی کو برقرار رکھا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان معاملات ایسے ہیں کہ ایک دن میں انہیں طے نہیں کیا جا سکتا۔ پنجابی محاورے کے مطابق جو گرہیں ہاتھوں سے ڈالی جاتی ہیں، انہیں دانتوں سے کھولنا پڑتا ہے۔ تاریخ کے متعدد مقامات ایسے ہیں جہاں پاکستانیوں کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ ناانصافیاں چیختی دکھائی دیتی ہیں۔۔۔ بھارت کے رہنے والے بھی ایسی کیفیات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ان کی توضیحات و تاویلات انہیں آگ بگولہ کر دیتی ہیں۔۔۔ لیکن سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ قومیں ماضی میں زندہ نہیں رہ سکتیں۔ پرانے نقصانات کا پیغام یہی ہے کہ مستقبل کے خساروں سے بچا جائے۔ دونوں مُلک ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں، ایک دوسرے کا جینا حرام کر سکتے ہیں(کرتے رہے ہیں، اور کر رہے ہیں) لیکن ایک دوسرے کو ڈکٹیشن نہیں دے سکتے۔ ایک دوسرے پر اپنا حل مسلط نہیں کر سکتے۔ دونوں کے رہنماؤں کو ایک دوسرے کی بات سننا ہی نہیں سمجھنا بھی ہو گی۔ اجتہادی بصیرت سے کام لینا ہو گا۔کشمیر کا مسئلہ تو قائداعظمؒ اور قائد ملتؒ کی زندگیوں میں الجھ گیا تھا، فسادات بھی بربادی کر گئے تھے۔1948ء کی جنگ بھی لڑی جا چکی تھی، کشمیر(عملی طور پر) تقسیم بھی ہو گیا تھا، اس کے باوجود آمدو رفت جاری رہی۔ تجارت ہوتی رہی۔ پاکستانی علاقوں میں موجود بھارتی( بن جانے والے) شہریوں کے کارخانے اور کاروبار چلتے رہے۔ بہت کچھ ہونے کے باوجود دونوں نے ایک دوسرے کو اپنا باقاعدہ دشمن قرار نہیں دیا۔1965ء کی جنگ نے ماحول میں جو زہر بھرا، وہ پہلے دیکھنے میں نہیں آتا تھا۔ یہ جنگ کیوں، کیسے اور کس نے مسلط کی، یہ ایک الگ کہانی ہے، جو بہت ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ دونوں ملکوں کو1965ء سے پہلے کا ماحول تو(کم از کم) پیدا کرنا چاہئے۔ تعلقات اس سطح پر لائے جائیں، جو قائداعظمؒ اور لیاقت علی خانؒ کے ادوار میں تھے۔ وزیراعظم مودی کی پیش قدمی ماحول کو بہتر بنانے میں بہت مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ بشرطیکہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جائے۔ دونوں ملکوں کے انتہا پسندوں کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے جائیں۔۔۔ حیرت ہے کہ لاہور میں جماعت اسلامی کے صدر دفتر منصورہ سے اطلاع دی گئی کہ امیر محترم کی قیادت میں ’’مودی یاترا‘‘ کے دوران احتجاجی جلوس نکالا جائے گا، اس کی بھرپور کوریج کی جائے، کسی نے اس طرف کان نہیں دھرے۔ 1999ء میں واجپائی کی آمد پر بھی جماعت اسلامی نے شاہی قلعہ جانے والے راستے پر اپنے گوریلے، کھڑے کر دیے تھے، اس کے نتیجے میں بہت سی گرفتاریاں ہوئیں۔ اب پھر جماعت اسلامی کے کارکنوں کو اکسایا جا رہا تھا۔ اگر جان کی امان دی جائے تو عرض کیا جائے گا کہ جماعت اسلامی کو ’’شیو سینا‘‘ کے درجے پر گرا کر رہنمائی کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا۔

(یہ کالم روزنامہ ’’ دنیا‘‘ اور روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

مزید : کالم


loading...