”کہتے ہیں غالب کا ہے اندازِبیاں اور “مرزا غالب کا آج 218 واں یومِ پیدائش ہے, انکی زندگی کے نشیب و فراز بارے جانئے

”کہتے ہیں غالب کا ہے اندازِبیاں اور “مرزا غالب کا آج 218 واں یومِ پیدائش ہے, ...
”کہتے ہیں غالب کا ہے اندازِبیاں اور “مرزا غالب کا آج 218 واں یومِ پیدائش ہے, انکی زندگی کے نشیب و فراز بارے جانئے

  


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) مرزا غالب کا آج 218 واں یومِ پیدائش منایا جارہاہے۔مرزا غالب اردو اور فارسی شاعری میں یدِ طولیٰ کا درجہ رکھتے ہیں ان کا دیوانِ غالب (اردو)، کلیاتِ غالب( فارسی) بے پناہ مشہورہیں۔ نظم کے ساتھ مرزا کی نثربھی پڑھنے کی شے ہے حالانکہ مرزا کے نثری مجموعے محض خطوط پرمشتمل ہیں تاہم انہیں اردو ادب میں بلند مقام حاصل ہے۔

غالب بچپن ہی میں یتیم ہو گئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن آٹھ سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہو گئے۔1810ءمیں تیرہ سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہی بخش خاں معروف کی بیٹی امراءبیگم سے ہوگئی شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیرباد کہہ کردہلی میں مستقل سکونت اختیار کرلی۔کم عمری میں شادی پر انہوں نے ایک خط میںبڑے ہی خوبصورت پیرائے میں بیوی کو قید اور بچوں کو بیڑیوں سے تشبیہہ دی تھی جبکہ دہلی کو اپنی نئی جیل قرار دے تھا۔

ہوا جب غم سے یوں بے حِس تو غم کیا سر کے کٹنے کا

نہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا

ہوئی مدت کہ غالب مرگیا، پر یاد آتا ہے

وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

1850ءمیں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کردیا اور 50 روپے ماہور مرزا کا وظیفہ مقرر ہوا۔1857ءکی جنگ آزادی جسے مسلمانوں اور ہندﺅوں نے انگریزوں کیخلاف اکٹھے لڑا تھا جو انگریزوں کی جانب سے بعد ازاں غدر کے نام سے مشہور ہوئی ۔ انگریزوں نے خاص طور پر مسلمانوں کو اپنے عتاب کا نشانہ بنایااورغدر کے بعد مرزا غالب کی بھی سرکاری پنشن بند ہو گئی۔

رنج سے خوگر ہو ا انسان تو مٹ جانا ہے رنج

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آسان ہو گئیں

چنانچہ1857ءکی جنگ آزادی کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے لکھا انہوں نے سو روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو غالب کو تادم حیات ملتا رہا۔مرزاغالب کی شاعری میں جدت، بانکپن اور جدید تشبیہات و تراکیب نے ان کے طرزِ سخن کو دائمی تازگی بخشی،انکی شاعری میں روایتی موضوعات یعنی عشق، محبوب، رقیب، آسمان، آشنا، مہ، جنون اور ایسے ہی دیگر کا انتہائی عمدہ اور منفرد انداز میں بیان ملتا ہے۔چند اشعار ملاحظہ کیجئے ۔

مجھ سے تم کہتے ہو کہ تُوں کیا ہے

تمہی کہو کہ یہ انداز ِ گفتگو کیا ہے

عشق پہ زور نہیں ہے یہ وہ آتش غالب

جو لگائے نہ لگے جو بجھائے نہ بنے

آہ ! کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک

کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

ہیں دنیا میں اور بھی سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں غالب کا ہے اندازِبیاں اور

مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ خاں تھااوروالدکا نام عبداللہ بیگ تھا، آپ 27 دسمبر1797ءمیں آگرہ میں پیدا ہوئے۔مرزا غالب نے 1857کی جنگ ، دہلی میں غارت گری ، مسلمانوں سے بدترین سلوک سمیت کئی سانحے دیکھے یہاں تک ان کی اپنی زندگی بھی مصائب سے بھری پڑی تھی مرزا صاحب نے انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزاری آخری دنوں میں تو ایام بدتر ہو گئے تھے ۔مرزا غالب نے 15فروری 1869ءکو دہلی میں انتقال فرمایا۔

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا

اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

مزید : قومی


loading...