کلورٹالیڈون پہلے لی گئی ادویات کوچھپانے میں استعمال ہوتی ہے، ڈاکٹر پرویز رضوی، دوا کا اثر ایک ہفتہ خون میں رہتا ہے: ڈاکٹر خالد جمیل

کلورٹالیڈون پہلے لی گئی ادویات کوچھپانے میں استعمال ہوتی ہے، ڈاکٹر پرویز ...
کلورٹالیڈون پہلے لی گئی ادویات کوچھپانے میں استعمال ہوتی ہے، ڈاکٹر پرویز رضوی، دوا کا اثر ایک ہفتہ خون میں رہتا ہے: ڈاکٹر خالد جمیل

  


لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)سپورٹس میڈیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر پرویز رضوی نے کہا ہے کہ جس دواکے شواہدیاسرشاہ کے ٹیسٹ میں ملے وہ پہلے لی گئی ادویات کوچھپانے میں استعمال ہوتی ہے۔

یاسر شاہ کے ڈوپ ٹیسٹ مثبت آنے پر اپنے رد عمل میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر پرویز رضوی کا کہنا تھا کہ دیکھنا یہ ہوگا کہ یاسر شاہ نے دوائیں ڈاکٹرکے مشورے سے لی تھیں یانہیں کیونکہ کھلاڑی اکثراس دوا کو کڈنی کو فلٹر کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلورٹالیڈون کا استعمال سپورٹس میڈیسن میں نہیں ہوتا اور اس حوالے سے ٹیم ڈاکٹر سے پوچھنا پڑے گا کہ یہ دوا یاسر شاہ کو کیوں استعمال کروائی گئی۔کلور ٹالیڈون کے استعمال سے کھیل میں کوئی مدد نہیں ملتی۔

پاکستان کے معروف فزیو تھراپسٹ ڈاکٹر خالد جمیل نے یاسر شاہ کے ڈوپ ٹیسٹ اور ممنوعہ ادویات کے حوالے سے کہا ہے کہ کلور ٹالیڈون کا اثر خون میں چھ سے سات روز رہتا ہے،بعض اوقات ڈاکٹر کو بھی پتا نہیں ہوتا کہ خون میں کس دوا کے اجزا موجود ہیں۔ ڈوپ ٹیسٹ کے اندر کافی دوائیوں کا اثر دیکھا جاتا ہے، زیادہ تر فاسٹ بولرز کے ڈوپ ٹیسٹ مثبت آتے ہیں لیکن بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ سپنرز کے ڈوپ ٹیسٹ بھی مثبت آئیں۔

انہوں نے بتایا کہ اکثر اوقات کھلاڑی گھر پر موجود ہوں اور انہیں کوئی بیماری لاحق ہوجائے تو گھر والے یا دوست احباب کسی حکیم سے بھی دوائی دلاسکتے ہیں جس میں ہوسکتا ہے کہ اس قسم کی ادویات شامل ہوں۔ ڈاکٹر خالد جمیل نے کھلاڑیوں کو ناصحانہ طور پر کہا کہ کرکٹرز کسی کے گھر جا کر کھانا نہ کھائیں اور اس معاملے میں احتیاط برتیں کیونکہ کوئی بھی بد خواہ ان کے کھانے میں کوئی ممنوعہ دوا ملاسکتا ہے۔

مزید : کھیل


loading...