وہ وقت جب وزیراعظم پاکستان کا وفد اپنی بھاری شاپنگ لے کر جہاز کے اندر آگیا اور کپتان نے پرواز اڑانے سے انکار کردیا

وہ وقت جب وزیراعظم پاکستان کا وفد اپنی بھاری شاپنگ لے کر جہاز کے اندر آگیا ...
وہ وقت جب وزیراعظم پاکستان کا وفد اپنی بھاری شاپنگ لے کر جہاز کے اندر آگیا اور کپتان نے پرواز اڑانے سے انکار کردیا

  


لاہور (نیوز ڈیسک) سرکاری وفد کی شاپنگ کے بارے میں آپ نے خبریں تو بہت سی سن رکھی ہوں گی اور یہ خبریں کوئی نئی بھی نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی پاکستانی سرکاری وفود بھاری شاپنگ کرنے کے دلدادہ رہے ہیں لیکن آج ہم آپ کو پاکستانی وفد کی اس حرکت کے بارے میں بتاتے ہیں جسے جان کر آپ ہنسنے پر مجبور ہوجائیں گے۔

معروف بیورو کریٹ قدرت اللہ شہاب مرحوم نے اپنی خود نوشت ’شہاب نامہ‘ میں صدر سکندر مرزا اور وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے بغداد کے سرکاری دورے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب سرکاری وفد بغداد سے پاکستان کے لئے واپس روانہ ہونے لگا تو بہت سے اراکین اپنی شاپنگ جہاز میں بک کروانے کی بجائے سیدھا کیبن میں لے آئے۔ جب جہاز کے پائلٹ کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے حفاظتی انتظامات کے پیش نظر جہاز اڑانے سے انکار کردیا اور جہاز میں عجیب صورتحال پیدا ہوگئی۔ صدر سکندر مرزا جو اس طرح کی صورتحال سے جان چھڑاتے تھے اخبار پکڑ کر اپنی نشست پر بیٹھ گئے جبکہ وزیراعظم سہروردی اس صورتحال کو قابو پانے کی کوشش کرنے لگے۔ عراقی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار بشمول وزیراعظم جہاز کے باہر وفد کو خیر آباد کہنے کے لئے کھڑے تھے اور یہ سمجھ رہے تھے کہ شائد جہاز میں کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہوگئی ہے جو پرواز نہیں کررہا لیکن اصل میں جہاز کے اندر بھاری شاپنگ کی وجہ سے صورتحال عجیب و غریب ہوچکی تھی۔ تاہم کافی دیر کے بعد جب شاپنگ کا سامان کارگو میں شفٹ کیا گیا تو کپتان نے جہاز اڑا دیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...