چین میں غیر ملکی صحافی نے ایک ایسا مضمون لکھ دیا کہ حکومت نے ملک سے ہی باہر نکال دیا، یہ مضمون کس کے بارے میں تھا؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہو گی

چین میں غیر ملکی صحافی نے ایک ایسا مضمون لکھ دیا کہ حکومت نے ملک سے ہی باہر ...
چین میں غیر ملکی صحافی نے ایک ایسا مضمون لکھ دیا کہ حکومت نے ملک سے ہی باہر نکال دیا، یہ مضمون کس کے بارے میں تھا؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہو گی

  


بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک) یغور مسلمانوں کی حالت زار کے حوالے سے چینی حکومت پر تنقید کرنا فرانسیسی خاتون صحافی کو مہنگا پڑ گیا کیونکہ چینی حکومت نے اسے اپنے ملک سے ہی نکالنے کا فیصلہ کر لیاہے۔ صحافی ارسلا گاؤتھیئر فرانس کے نیوز میگزین ایل اوبس(L'Obs) سے وابستہ ہے اور چین میں اپنے فرائض سرانجام دے رہی تھی۔ ارسلا نے چینی صوبے ژن جیانگ میں یغور مسلمانوں کی حالت زار پر ایک آرٹیکل لکھا تھا جس میں اسے نے ان مسلمانوں کے متعلق چینی حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کی تھی۔چینی حکومت نے ارسلا کو اس کے ویزے کی مدت ختم ہونے پر ملک بدرکرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ارسلا کے پریس کارڈکی تجدید نہیں کی جائے گی۔

مزید جانئے: امریکی صحافی نے دھماکہ کردیا، امریکی جرنیل کس طرح اوباما کے احکامات کی دھجیاں اڑا کر روس کے ساتھ مل گئے، ایسا انکشاف کہ امریکی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا

اگر ارسلا کے پریس کارڈ کی تجدید نہ کی گئی تو اس کے ویزے کی مدت میں بھی توسیع نہیں ہو سکے گی جو 31دسمبر کو ختم ہو رہی ہے اور اسے 31دسمبر کو چین چھوڑنا پڑے گا۔ ارسلا نے چین کے اس اقدام کو نامعقول قرار دیتے ہوئے کہا کہ چینی حکومت ملک میں غیرملکی صحافیوں کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین اس سے قبل الجزیرہ کے رپورٹر کو بھی اپنے ملک سے نکال چکا ہے اور یہ دوسری صحافی ہیں جنہیں چین ملک بدر کرنے جا رہا ہے۔

مزید جانئے: ٹی وی چینل کا ایسا اقدام کہ اینکروں کی نیندیں اڑگئیں

برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے خاتون صحافی ارسلاگاؤتھیئر کا کہنا تھا کہ ’’چینی حکام نے مجھے کہا ہے کہ میں ’’دہشت گردی‘‘ کی حمایت کرنے پر معافی مانگوں۔ میں نے انہیں جواب دیا کہ میں نے کبھی دہشت گردی کی حمایت نہیں کی۔ تم مجھ سے ایسے کسی کام کی معافی کیسے طلب کر سکتے ہو جو میں نے کیا ہی نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ چینی حکام غیرملکی میڈیا کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی بھی صحافی ایسی بات لکھے جو ان کے موقف کے خلاف ہو۔‘‘

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...