ایک سدا بہار سیاسی شخصیت

ایک سدا بہار سیاسی شخصیت
 ایک سدا بہار سیاسی شخصیت

  



27 دسمبر 2007ء ملک کی سیاسی تاریخ کا ایک الم ناک اور غمگین ترین دن تھا، اس روز ملک کی سب سے زیادہ مقبول سیاسی شخصیت، سابق وزیر اعظم پاکستان پیپلزپارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹو (شہید) کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کو ملک میں جمہوریت کے فروغ اور بحالی کے لئے طویل جدوجہد کرنے کے جرم میں لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کے بعد واپس اپنی رہائش گاہ اسلام آباد جانے کے لئے سڑک پر نکلتے ہی ہزاروں کھلی آنکھوں اور چلتی ٹریفک میں انسانیت دشمن درندہ صفت قوتوں نے گولیاں چلا کر اور خود کش دھماکہ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ تھی کہ فائرنگ کی آواز سننے اور محترمہ کی کار کے قریب ہونے والے خود کش حملہ آور کو خود کو دھماکے سے اُڑاتے دیکھنے والوں کو وقوعہ کے اردگرد پھیلے دہشت گردوں کو گھیرنے اور قابو کرنے کی جرأت نہ ہو سکی اور دن کے اجالے میں ملک کا قیمتی سیاسی سرمایہ، پاکستان کی بین الاقوامی شناخت، ملک و قوم کے لئے مثبت اور روشن سوچ رکھنے والی ہردلعزیز عوامی، جمہوری اور اخلاقی اقدار کی حامل پاکستان کی پہلی خاتون سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو شہید ہو گئیں۔ اس روز ملک کی ہر آنکھ اشک بار اور دل سوگوار تھا۔ اس روزہر غریب اور مزدور کے گھر میں سوگ کا عالم تھا اور گھروں میں کسی فرد نے کھانا نہیں کھایا۔ ملک کے غریب عوام کا یہی شہید بے نظیر بھٹو کو خراج عقیدت تھا،اظہار تعزیت تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو 21 جون 1953ء کو پیدا ہوئیں اور انہوں نے پچاس سال سے زائد جدوجہد سے بھرپور زندگی گزاری، وہ نو برس کی طویل جلا وطنی کے بعد ایک نئے عزم کے ساتھ 18 اکتوبر 2007ء کو کراچی ایئرپورٹ پر اتریں تو ان کے استقبال کے لئے عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا ایک سمندر کراچی کی سڑکوں پر اُمڈ آیا تھا، پوری پاکستانی قوم میں بیداری پیدا ہو گئی تھی ۔

عوام کو پختہ یقین ہو گیا تھا کہ ملک میں مسلط آمریت سے چھٹکارے کے لئے محترمہ بے نظیر بھٹو سیاسی مسیحا کے روپ میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئی ہیں جو بندوق کے زور پر اقتدار پر قابض حکمرانوں اور دہشت گرد گروہوں کے لئے ایک کھلا چیلنج تھا، حکومت وقت کی ذمہ داری تھی کہ وہ ملک کی اس سیاسی شخصیت کی حفاظت کے لئے فول پروف سخت حفاظتی انتظامات کرتی، مگر وہ ایسا کرنے میں جان بوجھ کر ناکام رہی، حقیقت میں اس وقت کے حکمران محترمہ بے نظیر بھٹو کی مقبولیت کا اندازہ کراچی کی سڑکوں پر استقبال کے لئے آنے والے عوام کو دیکھ کر حیران و پریشان ہونے کے ساتھ ساتھ گھبرا گئے تھے، انہیں اپنا اقتدار جاتا صاف دکھائی دے رہا تھا جس کے باعث انہوں نے حفاظتی انتظامات میں ذمہ داری سے کام نہ لیا اور جمہوریت دشمن قوتوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے اس استقبالیہ جلوس میں بم دھماکہ کیا جس میں 2 سو کے قریب پارٹی کارکن شہید ہو گئے، لیکن محترمہ کی زندگی محفوظ رہی۔ دانشوروں کا خیال ہے کہ یہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو خوف زدہ کر کے دوبارہ جلا وطن کرنے کی ایک سازش تھی، مگر عوام کی قائد زندگی ہتھیلی پر رکھ کر ملک آئی تھیں، انہوں نے اپنی جان کی پروا کئے بغیر ملک میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں جان ڈالنے کے لئے پورے ملک میں انتخابی مہم چلانے کا اعلان کیا اور ملک کے طول و عرض میں طوفانی دورے کر کے حکمرانوں کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی، دن کا چین اور رات کی نیند حرام ہوگئی اور آخر کار 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے پرانے کمیٹی باغ میں، جسے 1951ء میں سابق وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد لیاقت باغ کا نام دیا گیاتھا، میں اپنی زندگی کے کامیاب ترین جلسہ عام سے خطاب کے بعد پھولوں اور خوبصورت ہاروں سے لدی گھر واپس لوٹتے ہوئے اپنی گاڑی کے سن روف سے باہر نکل کر پارٹی کارکنوں کے خیر مقدمی نعروں کا جواب ہاتھ ہلا ہلا کر دے رہی تھیں، گولیاں چلا کر اور ان کی گاڑی کے قریب خود کش دھماکہ کر کے شہید کر دیا گیا اور ملک ایک بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں کی مالک سیاسی رہنماء، دانشور، مفکر اور مدبر سے محروم ہو گیا۔

بے نظیر بھٹو بہت بلند اور اعلیٰ پائے کی سیاسی اور طلسماتی شخصیت تھیں۔ وہ سیاسی جلسوں سے گھنٹوں خطاب کرتیں، لوگ ہمہ تن گوش ان کی تقریر سنتے، وہ عوام اور کارکنوں کے جذبہ شوق کو بڑھانے کے لئے جلسوں میں اپنی تقریر کے دوران نعرے بازی شروع کر دیا کرتی تھیں اور عوام کی جانب سے نعروں کے جواب میں جوش و خروش دیکھ کر خوش ہو جایا کرتی تھیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا سیاسی سفر 1977ء میں ان کے والد محترم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد شروع ہوا اور 27 دسمبر 2007ء کا سورج ڈھلنے سے پہلے ختم ہو گیا۔ ان 31 برسوں میں محترمہ بے نظیر بھٹو نے مشکل ترین حالات اور ملک میں جمہوریت کے فروغ اور بحالی کے لئے جدوجہد سے بھرپور زندگی گزاری۔ وہ ایک بہادر باپ کی بہادر اور باہمت بیٹی تھیں، انہوں نے اپنے والد گرامی ذوالفقار علی بھٹو کی موت، بھائی شاہ نواز بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کادکھ برداشت کیا، جیلوں کی صعوبتیں برداشت کیں اور جلا وطنی کاٹی، ریاستی جبر برداشت کیا۔ لیکن عوام سے رشتہ ٹوٹنے نہ دیا۔ وہ ملک کی دوبار وزیر اعظم اور دو بار قائد حزب اختلاف رہیں، انہوں نے عوام کے دلوں میں جگہ بنالی تھی، عوام ان کے لئے اپنے دلوں میں بڑا نرم گوشہ رکھتے تھے اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے پہروں جلسہ گاہ میں بیٹھے ان کی آمد کا انتظار کرتے تھے، پارٹی کارکن اپنی پارٹی کی موجودہ قیادت سے ناراض ہیں کہ پیپلزپارٹی نے اپنے دور اقتدار میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے ملزموں کو سزا دلانے میں مصلحت سے کام لیا، جس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کی مقبولیت کا گراف گر گیا ہے، اس کے باوجود محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے لئے آج بھی عوام کے دلوں میں وہی جگہ اور مقام ہے اور ہر دل ان کی مغفرت کے لئے دعا گو ہے۔

مزید : کالم