قائدؒ کے یوم ولادت پر دکھی انسانیت کے لئے تحفہ

قائدؒ کے یوم ولادت پر دکھی انسانیت کے لئے تحفہ
 قائدؒ کے یوم ولادت پر دکھی انسانیت کے لئے تحفہ

  

قائد اعظم ؒ کے ویژن کی روشنی میں زندگی کے ہر شعبے میں ترقی، پاکستانی قوم کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کی ترتیب و تکمیل کیلئے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ہر لمحہ سرگرم عمل رہتے ہیں۔

وزیراعلیٰ شہباز شریف نے قا ئد اعظم کے یوم ولادت پر پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ کے پہلے مرحلے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ آج قوم قائداعظم محمد علی جناح کا یوم ولادت منا رہی ہے،ہم یہ دن گزشتہ 70سالو ں سے منا رہے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ یہ دن اس لئے منفرد ہے کہ پنجاب حکومت نے قائد اعظم کے ویژن کے مطابق دکھی انسانیت کو ایک عظیم ہسپتال کا تحفہ دیا ہے۔

شہباز شریف نے کہاکہ 20 ارب روپے کی لاگت سے بننے والے جنوبی ایشیا کے اس سب سے بڑے اور جدید ترین ادارے میں گردے و جگر کے امراض میں مبتلا مستحق مریضوں کا علاج مفت ہوگا اور مریضوں کوتشخیص اور علاج معالجے کی جدید سہولتیں ملیں گی۔ وسائل سے محروم غریب مریضوں کا علاج بالکل مفت ہوگا جبکہ وسائل رکھنے والے مریضوں کو ادائیگی کرنا پڑے گی اور یہی قائد کا ویژن تھا۔

یہاں نہ صرف پنجاب بلکہ سندھ، بلوچستان، خیبر پی کے، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے غریب مریضوں کا علاج مفت ہوگا۔پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے یہ ادارہ قائم کر کے نئی تاریخ رقم کی ہے۔

موجودہ حکومت نے قائداعظم کے یوم ولادت پر ایک ا یسے منصوبے کا افتتاح کیاہے جو قائد کی سوچ سے مطابقت رکھتا ہے۔ اشرافیہ کی چوکھٹ پر تو زندگی کی تمام نعمتیں سلام کرتی ہیں جبکہ ملک کی بڑی آبادی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہاکہ مجھے 2003میں اپینڈکس کے مہلک کینسر کے خطرناک مرض کا سامنا کرنا پڑا۔ میں نے امریکہ سے علاج کرایا اور اللہ تعالی کا کرم تھا کہ میرا علاج کامیاب ہوا جس کی بدولت میں آج آپ کے سامنے موجود ہوں۔مجھے اس علاج پر خطیر رقم خرچ کرنا پڑی لیکن میں سوچتا ہو ں کہ اگر رحیم یا ر خان، کراچی، کوئٹہ، پشاور یا پاکستان کے کسی دور دراز علاقے کے کسی غریب خاندان کے فردکو یہ موذی مرض لاحق ہو گیا تو وہ اپنے علاج پر 50، 60لاکھ روپے کہاں سے خرچ کرے گا۔ وہ ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر دوائی اور علاج نہ ملنے سے خالق حقیقی سے جا ملے گا۔

ایسے پاکستان کو کبھی قائد و اقبال کا پاکستان نہیں کہا جا سکتا۔ امیر او رغریب کے اسی فرق کو مٹانا ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو خدا نخواستہ نرم انقلاب خونی انقلاب میں بدل جائے گا جسے کوئی روک نہیں سکے گااور ہر چیز خس و خاشاک کی طرح بہہ جائے گی۔ ابھی وقت ہے کہ ملک کو صحیح معنوں میں قائد و اقبال کے تصورات کے مطابق رفاعی مملکت بنانے کے لئے آگے بڑھیں۔

آج میں بطور پاکستانی بات کررہاہوں کہ ہم پاکستان کو صحیح معنو ں میں قائد و اقبال کا پاکستان بنانے میں ناکام ہیں کیونکہ آج بھی غریب آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں۔اسے تھانوں میں انصاف نہیں ملتا۔ علاج اور تعلیم کی معیاری سہولتوں سے بھی غریب ہی محروم ہے۔

اگر ملک کو بنانا ہے اور اسے ترقی وخوشحالی کی منزل سے ہمکنارکرنا ہے تو اجتماعی کاوشوں اور اجتماعی سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اسی طرح پاکستان بین الاقوامی برادری میں کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتا ہے۔

دھرنوں، لاک ڈاؤنوں، الزام تراشیوں، ٹانگیں کھینچنے ترقیاتی منصوبوں میں روڑے اٹکانے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا۔ تیرا اور میرا نہیں ’’ہمارا پاکستان‘‘ کی سوچ سے ہی پاکستان عظیم ملک بنے گا۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کر کے ایک ٹیم کی طرح متحد ہو کر آگے بڑھنا ہے۔سیاسی لڑائیاں الیکشن میں لڑیں۔ خدا را دکھی انسانیت کے دکھوں میں اضافہ نہ کریں اور غریب کی غربت کو نہ بڑھائیں۔

وزیراعلی نے منصوبے پر کام کرنے والے مزدوروں کے لئے ایک اضافی تنخواہ کے برابر بونس کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ منصوبے پر کام کرنے والے ا داروں کے سربراہان کو ایک تقریب منعقد کر کے ایوارڈز او رمیڈلز دیں گے۔

ادارے کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ڈاکٹر سعید اختر ایک ولی صفت اور دکھی انسانیت کا درد رکھنے والے انسان ہیں اور وہ اس ا دارے کے لئے محنت کر کے پوری دنیا سے ڈاکٹر ز اور ماہرین لے کر آئے ہیں۔

اس ادارے میں مریضوں کو جدید علاج معالجہ ملے گا۔یہاں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشنز کی طرح ہڑتالیں نہیں ہوں گی۔آؤٹ ڈور اورایمرجنسی بند نہیں ہو گی۔ مریضوں کو تکلیف میں چھوڑ کر سڑکوں پر آ کر ہڑتالیں کرنا دکھی انسانیت کے ساتھ ظلم ہے۔

وزیراعلی نے منصوبے کے پہلے مرحلے کے افتتاح کے بعد ہسپتال کا دورہ کیااور مختلف حصے دیکھے۔

مزید : رائے /کالم