سیاست دانوں کی بصیرت کا امتحان

سیاست دانوں کی بصیرت کا امتحان
 سیاست دانوں کی بصیرت کا امتحان

  

پچھلے کئی ماہ سے سیاسی میدان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہے۔دسمبر میں جیسے جیسے سردی بڑھتی جا رہی ہے سیاسی ماحول کی حدت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔آنے والے دن مزید گرما گرمی کا سبب بنیں گے۔

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو ایک بار پھر الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے اپنی کا بینہ سمیت 31دسمبر تک استعفیٰ نہ دیا تو وہ ایک بار پھر دھرنا دیں گے اور یہ دھرنا ماضی کے دھرنوں کی طرح ’’فلاپ فلم‘‘ ثابت نہیں ہو گا،بلکہ وہ اس سے مطلوبہ مقاصد حاصل کر کے ہی اُٹھیں گے۔

اگرچہ ڈاکٹر صاحب ایسے ’’ الٹی میٹم‘‘ ماضی میں بھی دیتے رہے ہیں۔ کفن باندھنے اور قبر کھودنے کا عملی مظاہرہ بھی پیش فرما چکے ہیں۔ وہ اپنے اور ’’سیاسی کزن‘‘ عمران خان کے لئے ’’شہادت‘‘ بھی طلب فرما چکے ہیں اور پھر اس سے کہیں کم ’’تنخواہ‘‘ پر کام کرنے واپس جا چکے ہیں،لیکن’’ اب کی بار نظر آتے ہیں آثار کچھ اور‘‘ کے مصداق اس الٹی میٹم کو ایک بڑھک کہہ کر نظر انداز نہیں کر دینا چاہئے، بلکہ جس ماحول اور تناظر میں انہوں نے موجودہ الٹی میٹم دیا ہے اس کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہئے۔

یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ جس انداز میں مسلم لیگ( ن) کے سربراہ میاں محمد نواز شریف کو نا اہل قرار دے کر ان کو سیاسی منظر سے ہٹانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے یہ بھی اسی کا تسلسل ہے۔وہ ’’قوت‘‘ جس نے یہ صورت حال پیدا کی ہے وہ اس کو حتمی نتیجے تک بھی ضرور پہنچانے کی کوشش کرے گی۔

ایسے میں طاہر القادری کی طرف سے الٹی میٹم دیا جانا ’’روٹین میٹر‘‘ یا ڈاکٹر صاحب کی ’’عادت‘‘ کہہ کر نظر انداز کر دینا بصیرت کی بات نہیں ہوگی۔یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ اس بار پیپلز پارٹی نے بھی اس’’ احتجاج ‘‘ میں ’’دھمال‘‘ ڈالنے کا عندیہ دیا ہے۔

کراچی سے مصطفی کمال خصوصی طور پر یہ کہنے کے لئے منہاج القران تشریف لا چکے ہیں کہ ان کا ’’تعاون‘‘ بھی ڈاکٹر صاحب کے پلڑے میں ہو گا اور تو اور عمران خان صاحب بھی ’’ایصالِ ثواب‘‘ کی غرض سے سانحہ ماڈل ٹاون میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو ’’انصاف‘‘ دلانے اور ’’نیا پاکستان‘‘بنانے کے لئے بنفسِ نفیس ’’دھرناشریف‘‘ کی ان با برکت ’’محافل‘‘ میں جلوہ افروز ہوا کریں گے۔

چودھری برادران،شیخ رشید احمد تو پہلے سے ہی ان کے ساتھ ہیں اور ہر ’’مشکل‘‘ گھڑی میں ڈاکٹر صاحب کا ساتھ دینے کا اعلان کر چکے ہیں۔ایسے میں ڈاکٹر صاحب کے ’’سیاسی کزنز‘‘ کی تعداد میں اضافہ ہونا کوئی معمولی بات نہیں۔اس کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جانا چاہئے اور اس بات پر توجہ دینی چاہئے کہ انہوں نے کس بنا پر یہ بات کہی ہے کہ اس بار ماضی کی طرح نہیں ہو گا، یعنی اس ’’دھرنے‘‘ کے فلاپ ہونے کے چانسزنہیں ہوں گے۔

مارچ میں سینیٹ کے انتخابات ہونے والے ہیں۔پارٹی پوزیشنز کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو مسلم لیگ(ن) پنجاب کی تمام گیارہ نشستیں جیت جائیگی بلوچستان اور کے پی کے میں بھی اسے نشستیں ملیں گی اس کے بعد چےئرمین سینیٹ بھی مسلم لیگ(ن) سے ہو سکتا ہے۔ایسے میں جو بھی قوت نہیں چاہتی کہ اگلے سیاسی منظر میں میاں نواز شریف کی جماعت اہم کردار ادا کرے وہ ہرگز نہیں چاہے گی کہ سینیٹ کے انتخابات ان اسمبلیوں کی میعاد میں ہوں جن کی موجودگی میں مسلم لیگ (ن) سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت بن جائیگی۔

قبل از وقت اسمبلی کو تحلیل کرنے کے لئے جو ’’ماحول‘‘ درکار ہے،اس کے لئے ڈاکٹر صاحب اور ان کے سیاسی کزنز سے ’’ کام ‘‘ لینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔اس سارے تجزیے کے بعد ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اس بار ڈاکٹر صاحب کے الٹی میٹم کو ان کی ماضی جیسی کوئی ’’بڑھک‘‘ یا سیاسی اعلان کہہ کر نظرانداز کر دینا سیاسی بصیرت نہیں۔

ہماری سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جو’’قوتیں‘‘ اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے سیاسی جماعتوں ،اس کے قائدین اور کارکنوں کو استعمال کرتی ہیں ،بعد ازاں ان کو کوڑے دان میں پھینکنے کی بھی زحمت نہیں کرتیں۔بے رحم ہوا کے تھپیڑے ان کو کچرا دانوں تک لے جاتے ہیں

۔وقت اور حالات کی ستم ظریفی ایک بار پھر ہمیں اسی موڑ پر لے آئی ہے،جہاں ہماری سیاسی قیادت نے اپنی بصیرت کا مظاہرہ کرنا ہوتا ہے،لیکن ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ ہماری سیاسی قیادت نے کبھی سیاسی بصیرت سے کام نہیں لیا اور بعد میں گیارہ گیارہ سال اپنی ’’باری‘‘ کا انتظار کیا ہے،لیکن پھر ’’ باری‘‘ یا قسمت یا نصیب۔

آخر ہم کب یہ سیکھیں گے کہ نظام اور ادارے بچانے ہوں تو تحمل ،بردباری اور بصیرت کا مظاہرہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر جمہوریت کے خلاف سازشوں کا حصہ بن کر ہم نے بار بار اس کی بساط لپیٹنے کی کوششوں کا حصہ بننا ہے تو ہمیں اس کا راگ بھی نہیں الاپنا چاہئے۔

جہاں تک پانامہ لیکس کا تعلق ہے تو عرض یہ کرنا تھا اس میں مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نااہلی کی سزا پا چکے ہیں،حالانکہ اس میں براہِ راست ان کا نام نہیں آیا تھا، یہاں ہم عمران خان کی خدمت میں عرض کرنا چاہیں گے کہ آپ کے دستِ ر۱ست جناب جہانگیر ترین کو بھی اسی گراؤنڈ پر نااہل کیا گیا ہے جو الزام آپ نواز شریف پر لگا رہے ہیں۔

ہم نے ان ۱خلاقیات میں سے ایک جملہ بھی ۱ٓپ کے منہ میں سے نہیں سنا، جس کا اعلان آپ کنٹینر پر کیا کرتے تھے۔آپ جھوٹے منہ سے ہی سہی ایک بار تو اپنے سیکرٹری جنرل سے یہ پوچھتے کہ انہوں نے ایسا جرم کیوں کیا ہے؟

مزید : رائے /کالم