بی بی شہید۔۔۔ یادوں کے چراغ

بی بی شہید۔۔۔ یادوں کے چراغ
 بی بی شہید۔۔۔ یادوں کے چراغ

  

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو جدا ہوئے دس سال ہوگئے ہیں، لیکن وہ ہم سے جدا نہیں ہیں۔ ان کی یاد کے چراغ ہمارے دلوں میں روشن ہیں۔ ہمارے دل و دماغ ان کی یادسے معطر ہیں۔ ان کی سیاسی و شخصی بصیرت کو عالمی اداروں میں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں برطانوی وزیراعظم مسز تھریسامے نے بی بی شہید کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے آکسفورڈ کے ایام کا ذکر کیا۔ مسز تھریسامے کی شادی میں بی بی کا کلیدی کردار تھا۔ بی بی شہید انسانی اقدار اور جمہوریت کی توانا آواز تھیں اور دہشت گردی کے خلاف ان کے جرأت مندانہ موقف کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔

امریکہ کی یونیورسٹی میں بی بی شہیدکے نام سے سیمینار کا اہتمام کیا گیا ۔ یہ حقائق ہیں جن سے محترمہ بے نظیر بھٹو کی سیاسی عظمت کا نقش دُنیا کے سیاسی و تعلیمی اور سماجی اداروں پر ثبت ہوا اور انہیں عزت و احترام سے یاد کیاجاتا ہے۔ اِسی لئے دس سال بعد بھی وہ جدا ہو کر بھی جدا نہیں ہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے 2007ء کے وسط میں اپنی پاکستان واپسی کا اعلان لندن میں کیا۔ وہ اس خطرے سے آگاہ تھیں کہ پاکستان واپسی پر انہیں قتل کیا جاسکتا ہے۔ جنرل مشرف نے مفاہمتی مذاکرات کے دوران ان کی زندگی کو درپیش خطرات کے باوجود بی بی شہید کی سلامتی کی ضمانت دینے سے معذوری ظاہر کی تھی ۔

بی بی کو ان کی زندگی کو لاحق خطرات کے پیش نظر مشورے دئیے گئے کہ دشمن گھات میں ہے اور واپسی پر موت ان کی منتظر ہے تو بی بی کا ایک ہی جواب تھا ’’ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ ہیں‘‘ آج پاکستان کی سلامتی خطرے میں ہے اور میں پاکستان کو بچانے، ملک میں جمہوریت اور عوام کی حاکمیت کے لئے پاکستان واپس جارہی ہوں۔ موت کا خوف میری راہ میں حائل نہیں ہوسکتا‘‘ انہوں نے 18اکتوبر 2007ء کو واپسی کی تاریخ کا فیصلہ کرلیا۔

کراچی آمد پر 18 اکتوبر کو ان کے ٹرک پر خود کش حملے سے موت کا کھیل کھیلا گیا۔ جنرل پرویز مشرف نے واپسی پر بی بی کی سلامتی کی ضمانت دینے کی جو معذوری ظاہر کی تھی یہ حملہ اس کا شاخسانہ اورکڑی تھا۔ اس حملے سے بی بی شہید کا یہ عزم اور بھی راسخ ہوا کہ حکومت نے الیکشن میں دھاندلی کا منصوبہ بنایا ہے اور اس پر عمل درآمد کے لئے کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہے۔ ادھر بی بی نے تہیہ کرلیا کہ وہ انتخابی دھاندلی کے منصوبے کو بے نقاب کرکے جمہوریت دشمن قوتوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے اپنی جان کی بازی لگانے کو تیار ہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو شہید عظیم سیاسی رہنما تھیں۔ پاکستان کے عوام ان سے والہانہ پیار کرتے ہیں، عالمی سطح پر ان کا شماربرصغیر کے مقبول اور ہر دلعزیز لیڈروں میں ہوتا ہے۔ یہ کہنا بجا طور پر درست ہے کہ بی بی عالمگیر حیثیت ، مقام و مرتبہ کی حامل بے نظیر مسلم خاتون تھیں۔ انہوں نے پاکستانی عوام کے حقوق کی خاطر فوجی آمریت کے خلاف طویل جدوجہد کی۔ بے شمار مشکلات اور مصائب کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔

پاکستان کی تاریخ بی بی کے سیاسی کردار اور مجاہدانہ عزم و استقلال سے مزین ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں انہیں ایسی عظیم الشان رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، جس نے عوام کے بنیادی اور انسانی حقوق کے لئے شاندار تحریک کی نئی داستان رقم کی۔ انہوں نے اپنے عوام کی خاطر زندگی کے بہترین سال اسیری میں کاٹے، جلاوطنی کے دُکھ جھیلے، پاکستان کے طول و عرض میں بسنے والے محروم عوام ان کی قوت تھے طاقتور حلقے اسی قوت سے خوفزدہ تھے۔

بی بی شہید جب دوسری مرتبہ طویل جلاوطنی کے بعد واپس آئیں تو ان کی مقبولیت اسی طرح اپنے عروج پر تھی اور مخالف قوتین اسی طرح خوفزدہ۔ انہی خوفزدہ حلقوں نے اپنی شکست کا انتقام لینے کے لئے 27 دسمبر 2007ء کو انہیں لیاقت باغ میں شہید کردیا۔

اس کے باوجود بی بی کی ہردلعزیز اور عوامی طاقت کو ختم نہیں کرسکے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ایک عظیم انسان تھیں۔ ان کے دِل میں تمام انسانوں کے لئے محبت اور ہمدردی کا بے مثال جذبہ موجزن تھا۔ غریب اور مفلوک الحال طبقات ان کی دھڑکن تھے۔ بی بی شہید حقوق العباد کی تصویر تھیں۔ یہ ان کی شخصیت کا اہم ترین اور خوبصورت ترین پہلو تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب انہیں شہید کیا گیا تو ہر آنکھ آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ان کی شہادت پرسب ماتم کناں تھے اور ہر گھر میں صف ماتم بچھی تھی۔

بی بی کی شخصیت بہت متاثر کن تھی، جو لوگ ان سے ایک بار مل لیتے وہ ہمیشہ کے لئے ان کے فکری پیروکار ہوجاتے۔ مجھے لگ بھگ تیس برس ان کی رفاقت کا موقع ملا۔

ابتلاء اور آزمائش کے ان گنت واقعات میری آنکھوں نے دیکھے۔ کئی رہنماؤں کی بے وفائی دیکھی اور بہت سے کارکنوں کے بلند حوصلوں کا گواہ رہا۔ بی بی نے ہر نوع کی صورتِ حال کا مقابلہ کیا۔ انہیں جلاوطنی کے ایام میں بھی ملک کے دور دراز علاقوں اور شہروں میں رہنے والے غریب کارکنوں کا حال معلوم ہوتا ۔

بی بی اور ان کی یادیں بہت خوبصورت ہیں۔ ان کا آخری خطاب خوبصورت تھا۔ وہ پاکستان کے عوام اور پارٹی کارکنوں کی زندگی خوبصورت بنانا چاہتی تھیں۔ ان کی ساری زندگی اِسی جدوجہد میں گزری۔ انسانیت کی سربلندی اور عوام کے سیاسی حقوق کی جدوجہد کے اس سفر میں ایک سائے کی طرح میں ان کے ساتھ رہا۔

وہ پارٹی کارکنوں کی امیدوں کا محور تھیں۔ان کی شہادت پاکستان، پاکستان کے عوام اور ملک و قوم کا عظیم نقصان ہی نہیں بلکہ یہ شہادت انسانیت کا قتل ہے۔ بی بی شہید سے ذاتی اور سیاسی وابستگی میرا قیمتی اثاثہ ہے۔محترمہ بے نظیر بھٹو کے یہ یادگار الفاظ ان کی عظمت کے آئینہ دار ہیں۔

’’مَیں اپنے لوگوں اور جمہوریت سے کس قدر لگاؤ رکھتی ہوں۔ مَیں کس قدر انسانی مرتبے کی قائل ہوں ۔ تاریخ مجھے کس طرح یاد رکھے گی، یہ تو مَیں تاریخ پر چھوڑتی ہوں، البتہ یہ یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ مَیں نے جو بھی کیا ہمیشہ اپنے ملک کی بھلائی میں کیا‘‘۔

پی پی کی قیادت اب شہید بی بی کے فرزند بلاول بھٹو زرداری کے پاس ہے ۔ عوام سے وابستگی جمہوری اقدار کی پاسداری اور وطن سے محبت کی جو مشعل بی بی نے روشن کی تھی، بلاول کی صورت میں اس کا تسلسل آج بھی جاری ہے۔

مزید : رائے /کالم