جوہری جنگ کی ہوائیں (2)

جوہری جنگ کی ہوائیں (2)
 جوہری جنگ کی ہوائیں (2)

  

جوہری جنگ کی جن تیز ہواؤں کا ذکر کل کے کالم میں کیا گیا تھا اس میں صاحبِ مضمون جناب منیر اکرم کی تحریر کا لب لباب یہ تھا کہ جب کوئی ملک جوہری اہلیت حاصل کر لیتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ جوہری برداشت سے بھی کام لے۔

اگر دسمبر1971ء کی پاک بھارت جنگ میں چین ہماری مدد کو آنا ہی چاہتا تھا تو ہر چند کہ سوویت یونین نے دھمکی دی تھی کہ وہ بیجنگ پر جوہری حملہ کر دے گا پھر بھی وہ مدد تو کر سکتا تھا۔۔۔۔یاد رہے کہ چین نے اس جنگ سے سات سال پہلے1964ء میں پہلا جوہری دھماکہ کیا تھا اور1964ء سے 1971ء کے درمیان بھی اس نے کئی دھماکے کئے اور ساتھ ہی ڈلیوری سسٹم، یعنی ایسے طیارے اور میزائل بھی اس کے پاس تھے کہ وہ بیجنگ پر حملے کے جواب میں ماسکو پر حملہ کر سکتا تھا۔

یہ بھی معلوم نہیں کہ دسمبر1971ء کے ان ایام میں چین، پاکستان کی کیا مدد کر سکتا تھا کہ نیفا اور لداخ کی طرف سے تو وہ درے کہ جہاں سے چین کی گراؤنڈ فورسز بھارت پر حملہ کر سکتی تھیں، برف باری کی وجہ سے بند ہو چکے تھے اور انڈین چیف آف آرمی سٹاف جنرل مانک شا نے اپنی وزیراعظم اندرا گاندھی کو اپریل1971ء میں مشرقی پاکستان پر فوج کشی کرنے سے اس لئے انکار کر دیا تھا کہ اس وقت انڈیا کے شمالی درے کھلے ہوئے تھے اور انڈیا کو خطرہ تھا کہ چین، مشرقی پاکستان میں پاکستان کی مدد کو آ سکتا ہے۔

مانک شا نے تجویز پیش کی تھی کہ6 ماہ انتظار کر لیا جائے کہ جب نومبر دسمبر میں یہ درے بند ہو جائیں گے تو انڈیا کا راستہ صاف ہو جائے گا۔ کہا جاتا ہے کہ اندرا گاندھی نے اپنے آرمی چیف کی بات مان کر اس حملے کو نومبر1971ء تک موخر کر دیا تھا۔

لیکن یہ بات کہ دسمبر1971ء میں چین، پاکستان کی فوجی مدد کسی طرح کر سکتا تھا اور اس کیSOPکیا ہو سکتی تھی اس کی تفصیل کسی بھی انٹیلی جنس رپورٹ میں نہیں ملتی۔کیا چین سنکیانگ کی راہ مغربی پاکستان میںآنا چاہتا تھا یا شمال میں لداخ (لیہ) کی راہ سری نگر کی طرف سے اپنی فورسز بھیجنا چاہتا تھا یا اپنی فضائیہ کو استعمال کرنا چاہتا تھا،اس کی کوئی تفصیل کہیں بھی موجود نہیں اور دوسری قابلِ غور بات سوویت دھمکی کے بعد چین کا رک جانا اور پاکستان کی مدد سے ہاتھ کھینچ لینا ہے۔۔۔ اگر چین 1971ء میں سوویت دھمکی کی وجہ سے پاکستان کی مدد کو نہیں آیا تھا تو وہ2017ء (یا اس کے بعد بھی کسی وقت) امریکی دھمکی کی وجہ سے پاکستان کی مدد کرنے سے باز کیوں نہیں آئے گا؟

اس حقیقت پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جب پاکستان اور بھارت دونوں نے 1998ء میں کامیاب جوہری تجربے کر لئے تھے تو اس کے بعد 1999ء میں کارگل وار سے لے کر آج تک بھارت نے بین الاقوامی سرحد عبور کر کے کوئی حملہ نہیں کیا۔انڈیا کے مقابلے میں پاکستان عسکری اعتبار سے اگرچہ ایک کمزور ملک ہے اور اگرچہ اس کمزوری کی تلافی ہم اپنی جوہری استعداد سے کرتے رہتے ہیں لیکن ہر بار یہ ہوا کہ کسی بھی بحران کی صورت میں پاکستان کا پیمانۂ صبر بہت جلد لبریز ہو گیا اور انڈیا کو Restraintکا مظاہرہ کرنا پڑا۔

1987ء میں انڈیا کی براس ٹاکس ایکسر سائز تھی یا 1999ء کی کارگل وار یا 2002ء کا ملٹری سٹینڈ آف، ان سب مواقع پر پاکستان کو بہت جلد جوہری دہلیز کی طرف آنا پڑا۔ میرا خیال ہے کہ اب بھی انڈیا ہمارا مشرقی بارڈر عبور کر کے پاکستان پر حملہ نہیں کرے گا، جہاں تک سرجیکل سٹرائیک اور کولڈ سٹارٹ ڈاکٹرین کا تعلق ہے تو اول الذکر ڈاکٹرین تو انڈیا آزما چکا ہے اور ناکام ہو چکا ہے اور کولڈ سٹارٹ کا علاج پاکستان نے کر لیا ہوا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انڈیا کو پانچویں جنریشن وار کا سہارا لینا پڑا، یعنی افغانستان میں آ کر امریکہ کے تلوے چاٹنے پڑے اور پاکستان کو عسکری محاذ پر نہیں، اقتصادی محاذ پر کمزور کرنا پڑا۔

آج پاکستان کا مسئلہ بھارت نہیں، امریکہ ہے اور مودی نہیں ٹرمپ ہے۔میں اس سوال پر سوچتا رہا ہوں کہ اگر امریکہ پاکستان پر حملہ کرنے کا ارادہ کر رہا ہے تو اس کا طریقۂ کار کیا ہو گا۔۔۔۔ کیا وہ بلوچستان سے آغاز کرے گا؟۔۔۔ کیا فاٹا میں آئے گا؟۔۔۔ کیا فضائیہ سے شروع کرے گا؟۔۔۔ کیا بھارت اور امریکہ دونوں بیک وقت پاکستان پر حملہ آور ہوں گے؟۔۔۔ کیا چین پاکستان کی مدد کو آئے گا اور اگر آئے گا تو کس راستے اور کس طریقے سے آئے گا؟۔۔۔ کیا ناٹو فورسز بھی امریکہ اور بھارت کے ساتھ حملہ آور ہوں گی؟۔۔۔ وغیرہ وغیرہ

یہ بھی سوچتا ہوں کہ درج بالا تمام منظر ناموں میں پاکستان کا رسپانس کیا ہو گا؟۔۔۔ کیا چیئرمین سینیٹ نے جو کچھ کہا ہے وہ محض عوامی تسلی ہے یا اس کا تعلق کسی حقیقت سے بھی ہے؟۔۔۔کیا ہمارے ائر چیف نے امریکی ڈرونوں کو مار گرانے کا جو حکم دے رکھا ہے کیا اس پر عمل کرنے کے بعد امریکہ کا اگلا اقدام خاموش ہو جانا ہو گا یا وہی کچھ کرنا ہو گا جو وہ عراق اور لیبیا میں کر چکا ہے؟۔۔۔ کیا امریکہ، پاکستانی جوہری اہلیت(جوہری وار ہیڈز اور میزائل فورسز) کو بے اثر(نیو ٹرلائز) کرنے کے لئے کسی بھرپور ناگہانی جوہری یلغار (Massive Nuclear Attack) کی طرف جائے گا؟۔۔۔ ہمارے ڈی جی آئی ایس پی آر نے جو یہ بیان دیا ہے کہ اگر امریکہ کی طرف سے جارحانہ بیانات اور دھمکیوں کا سلسلہ بند نہ ہوا اور پاکستان کو ’’نوٹس‘‘ ملتے رہے تو کیا واقعی ان کا نتیجہ طالبان کے ساتھ معاونت کی صورت میں نکلے گا؟۔۔۔

یہ تمام سنریوز گہرے غور و خوض کے طلب گار ہیں۔آج پاکستان سفارتی محاذ پر اپنے کن کن دوستوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور ان کے وعدے وعید کیا ہیں ان کے بارے میں صرف قیاس آرائیاں ہی کی جا سکتی ہیں۔ملک کی داخلی سیاسی صورتِ حال 100فیصددشمن کے حق میں ہے۔ کیا قوم کسی بڑی یا چھوٹی یا روایتی یا غیر روایتی جنگ کے لئے تیار ہے تو اس سوال کا جواب بھی نفی میں ہے۔

2003ء کے بعد امریکی اور ناٹو فورسز نے مشرقِ وسطیٰ کے عرب ممالک پر جو حملے کئے اُن پر نگاہ ڈالیں تو کل کلاں وہی مناظر پاکستان میں بھی دیکھنے کو ملیں گے جو بغداد پر ٹام ہاک میزائلوں کی بارش کی صورت میں دیکھے گئے تھے۔آپ کو یاد ہو گا کئی روز تک بغداد کے نواحی علاقے شعلہ بداماں رہے تھے۔ اور جہاں تک لیبیا کا تعلق ہے تو وہ تو امریکی اور ناٹو کے صرف چند بمبار طیاروں کی چند اڑانوں (Sorties) کے بعد گھٹنے ٹیک گیا تھا۔

یہ درست ہے کہ پاکستان کی جوہری اور میزائلی فورسز اور نیز روایتی فورسز، عراق اور لیبیا کے مقابلے میں زیادہ جنگ آزمودہ اور بہتر تربیت یافتہ ہیں،لیکن عصر حاضر کی جنگوں پر نظر ڈالیں تو دو حقائق بڑے واضح ہو کر سامنے آتے ہیں۔۔۔۔ ایک کمزور ملک کے ہزاروں لاکھوں انسانوں کی ہلاکت/ مہاجرت اور دوسرے انفراسٹرکچر اور شہری تعمیراتی علاقوں کے اَن گنت کھنڈرات۔۔۔ چنانچہ پاکستان کو سوچنا ہو گا کہ اسے ایک کمزور ملک ہوتے ہوئے امریکہ کے خلاف کہاں تک جانا چاہئے اور کہاں جا کر رک جانا چاہئے۔

مجھے یقین نہیں کہ امریکی حملے کی صورت میں چین یا روس ہماری مدد کو آئیں گے۔ ان کا ٹریک ریکارڈ ہمارے سامنے ہے۔ شام میں اگر روس آیا بھی تو اُس وقت جب شام کی 75فیصد آبادی یا تو ہلاک ہو چکی تھی یا ملک سے فرار ہو کر یورپی شہروں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئی تھی اور جب دمشق کے آس پاس کے چند علاقوں کو چھوڑ کر سارا شمالی، وسطی اور جنوبی شام کھنڈرات کا ڈھیر بن چکا تھا۔

ہمیں اس بات کا شعور ہونا چاہئے کہ امریکہ، افغانستان سے نہ جانے کا فیصلہ کر چکا ہے۔اوباما نے اگر 11000فوجی کابل و قندھار اور بگرام میں چھوڑے تھے اور ان کی بھی جلد واپسی کی نوید سنائی تھی تو وہ صورتِ حال اب ری پبلکن صدر نے آ کر تبدیل کر دی ہے۔

اس سارے خطے پر نگاہ ڈالیں تو افغانستان سے بہتر کوئی اور ملک ایسا نہیں، جہاں امریکن فورسز آنے والے ’’عشروں‘‘ میں قیام کر سکتی ہیں اور چین کے ون روڈ، ون بیلٹ اور CPEC منصوبوں کی تعمیر و تسلسل کے خلاف کوئی ردعمل کر سکتی ہیں۔ اور مستقبل قریب میں بحر ہند کا ملٹرائز ہونا نوشتۂ دیوار ہے؟ ایسے میں امریکہ، افغانستان سے کیسے واپس جا سکتا ہے؟ پاکستانی افواج اور پاکستان کے سیاست دانوں کو اس ’’امریکی مجبوری‘‘ کا ادراک ہونا چاہئے۔ان کو چاہئے کہ وہ عوام کو جھوٹی تسلیاں نہ دیں۔

پاکستانی اپنی فوج کو ناقابلِ تسخیر مت سمجھیں اور اپنے جوہری بموں اور میزائلوں پر اِترانے سے گریز کریں۔ پاکستان اور بھارت کا ملٹری سٹینڈ آف تو سمجھ میں آتا ہے لیکن پاکستان اور امریکہ کا سٹینڈ آف ناقابل فہم بھی ہے اور ناقابلِ عمل بھی۔

اس کی طرف جانا پاکستان کے لئے بہت گھاٹے کا سودا ہو گا۔

یہ خیال نہ کیجئے کہ اگر امریکہ، نیو کلیئر شمالی کوریا پر حملہ نہیں کر رہا تو نیوکلیئر پاکستان پر کیسے کرے گا۔۔۔ شمالی کوریا تو دراصل چین ہے بلکہ چین اور روس ہے جبکہ پاکستان اکیلا ہے۔

ہمارے سارے ہمسائے ہمارے دوست نہیں، اس لئے پاکستان کو موجودہ بھنور سے نکالنے کی سب سے زیادہ ذمہ داری اگر کسی ادارے پر عائد ہوتی ہے تو وہ ملٹری فورسز ہیں۔ ان کو سویلین حکومت کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے اور حکمرانوں کو اپنی مجبوریوں، معذوریوں اور محدود دیتیوں کی تفصیل بتانی چاہئے اور کوئی ایسا سفارتی میکانزم ڈھونڈنا چاہئے جس کی طرف منیر اکرم صاحب نے اپنے کالم کے آخر میں اشارہ کیا ہے۔

یہ طرفہ تماشا بھی دیکھئے کہ جوہری صلاحیت کے حامل ممالک کو اپنی بقا کو جتنا خطرہ آج درپیش ہے، وہ غیر جوہری ممالک کو نہیں۔ پاکستانی عوام کے جذبات کو سلام لیکن ہمارے عوام نے تو ہنوز کسی طویل جنگ کا کوئی تجربہ ہی نہیں کیا۔

اس لئے وہ پہلے کم از کم20 ویں صدی کی جنگوں کا ’’سر سری سا‘‘ مطالعہ ضرور کریں۔۔۔۔ 1965ء کی جنگ 17روزہ تھی، 1971ء کی تیرہ روزہ، 1999ء کی 45روزہ اور فاٹا کی جنگ پراکسی تھی اور پراکسی ہے۔ہماری جذبات سے مغلوب قوم کو کم از کم اپنے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی آخری عشرہ کی جنگوں ہی کا مطالعہ کر لینا چاہئے! (ختم شد)

مزید : رائے /کالم