بان ئ پاکستان قائداعظمؒ کا یوم ولادت پورے جوش و جذبہ سے منایاگیا

بان ئ پاکستان قائداعظمؒ کا یوم ولادت پورے جوش و جذبہ سے منایاگیا

ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی بان�ئ پاکستان حضرت قائداعظمؒ کا یوم پیدائش پوری عقیدت اور روایتی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ مزار قائد پر تقریب کا آغاز گارڈز کی تبدیلی سے ہوا،جہاں ’’کاکول اکیڈمی‘‘ کے چاق و چوبند دستے نے مزار قائد کی سیکیورٹی سنبھالی، سیاسی قائدین کے علاوہ اعلیٰ عسکری و سول حکام نے مزار قائد پر حاضری دی،فاتحہ خوانی کی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔ عام شہریوں کا دن بھر مزار پر اپنے عظیم قائد کو خراج عقیدت پیش کرنے اور فاتحہ خوانی کے لئے اژدھام رہا بلاشبہ دن بھر لاکھوں شہریوں نے مزار قائد پر حاضری دی۔ عام شہری مزار قائد پر فاتحہ خوانی کے بعد مزار قائد کے احاطے میں مدفون تحریک پاکستان کی تاریخ ساز جدوجہد میں قائداعظمؒ کے شانہ بشانہ شریک قائدین کی قبروں پر بھی فاتحہ خوانی اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے رہے۔واضح رہے کہ مزار قائد کے احاطے میں حصول پاکستان کی تاریخ ساز جدوجہد میں قائداعظمؒ کے دست راست آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل اور پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم شہید ملت خان لیاقت علی خان بھی مدفون ہیں اور قائداعظمؒ کی بہن محترمہ مادر ملت فاطمہ جناح ؒ کے علاوہ صوبہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے قائداعظمؒ کے قریبی معتمد رفیق کار سردار عبدالرب نشتر اور سابق مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے تحریک پاکستان کے رہنما اور مشرقی پاکستان کے سابق وزیراعلیٰ نور الامین بھی مدفون ہیں۔ نور الامین مرحوم1970ء کے عام انتخابات میں متحدہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں ان دوارکان میں سے ایک تھے،جنہوں نے شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کے امیدواروں کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی۔ سقوط ڈھاکہ سے کچھ دن پہلے جنرل یحییٰ خان نے نور الامین مرحوم کی سربراہی میں جو کابینہ نامزد کی تھی اس میں وزیراعظم نور الامین اور نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کو نامزد کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم، جنرل یحییٰ خان کے نامزد نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ کی حیثیت سے اقوام متحدہ میں پاکستان کا مقدمہ پیش کرنے گئے تھے، سقوط ڈھاکہ کے بعد مشرقی پاکستان سے متحدہ پاکستان کی اسمبلی میں منتخب ہونے والے دونوں ارکان قومی اسمبلی نور الامین اور غیر مسلم اقلیت کے رہنما راجہ تری دیو رائے نے بنگلہ دیش جانے کے بجائے باقی ماندہ پاکستان کے شہری رہنے کا فیصلہ کیا تو ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے نور الامین کو پاکستان کا نائب صدر اور راجہ تری دیو رائے کو وفاقی وزیر بنایا تھا، دونوں رہنما مرتے دم تک پاکستان کے شہری تھے۔ نور الامین کا 1972ء میں انتقال ہوا تو وہ پاکستان کے نائب صدرِ مملکت تھے۔ ان کی خواہش پر ان کو مزار قائداعظمؒ کے احاطے میں دفن کیا گیا تھا۔قائداعظمؒ کے یوم پیدائش کے حوالے سے سیاسی اور غیر سیاسی سطح پر مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ اخبارات نے خصوصی ایڈیشن نکالے اور ٹی وی چینلز نے خصوصی پروگرام کئے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ اپنے تمام تعلیمی اداروں میں(جس میں سرکاری اور نجی شعبہ میں قائم تمام بڑے چھوٹے تعلیمی ادارے شامل ہیں) قائداعظمؒ کے فرمودات اور تعلیمات سے نئی نسل کو روشناس کرایا جائے تاکہ نئی نسل قائداعظمؒ کے اس ویژن سے آگاہ ہو سکے، جس کے مطابق وہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی فلاحی جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے جس میں مسلمان اور غیر مسلم شہریوں کے شہری حقوق کسی امتیاز کے بغیر مساوی ہوں۔اب وقت آ گیا ہے کہ نئی نسل کو قائداعظمؒ کی 11اگست کی تقریر سمیت تمام تقاریر اور پیغامات کو جو انہوں نے قیام پاکستان سے قبل اور قیام پاکستان کے بعد گورنر جنرل کی حیثیت سے کیں۔ان کے صحیح پس منظر اور سیاق و سباق کے ساتھ نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ قائداعظم اکیڈمی کے سربراہ اور قائداعظمؒ اور تحریک پاکستان پر مستند محقق خواجہ رضی حیدر نے حال ہی میں قائداعظم اکیڈمی میں ہونے والی ایک تقریب میں اس پر سیر حاصل گفتگو کا اہتمام کیا تھا، جس میں تحقیق کے ساتھ بتایا گیا تھا کہ قائداعظمؒ کی 11اگست کی تقریر کا بنیادی تصور ’’میثاق مدینہ‘‘ سے ماخوذ ہے۔ نئی نسل کی آگاہی کے لئے اس طرح کی تقریبات کا اہتمام تواتر کے ساتھ ہونا چاہئے۔

یہ سطور شائع ہوں گی تو گڑھی خدا بخش کے قبرستان کے باہر احاطے میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی 10ویں برسی کی تقریبات شروع ہو چکی ہوں گی، حکومت سندھ نے 27دسمبر کو سرکاری تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی پوری قیادت نوڈیرو میں جمع ہو گی، پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کااجلاس بھی ہو گا۔ توقع ہے کہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زداری اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنے خطاب میں2018ء کے عام انتخاب کے لئے پارٹی کارکنوں کو اپنی حکمت عملی کی گائیڈ لائن دیں گے جس کے بعد اندازہ ہو گا کہ پیپلزپارٹی تحریک انصاف کی پیش قدمی، ایم ایم اے کی بحالی اور حروں کے روحانی پیشوا پیر پگارو کی سربراہی میں بننے والے اتحاد سے پیپلزپارٹی کے لئے کوئی خطرہ محسوس کرتی ہے یا نہیں؟ اور ان سے نمٹنے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کرے گی؟ اس کا بھی اندازہ ہو جائے گا۔

سندھ کے شہری علاقوں کی سیاست 2018ء کے انتخاب میں کیا ہو گی؟ اس حوالے سے اب یہ ’’تاثر‘‘ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ایم کیو ایم کے مختلف دھڑوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہونے کے امکانات روشن نہیں رہے۔یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں کام کرنے والی ایم کیو ایم پاکستان اور انیس قائم خانی اور سید مصطفےٰ کمال کی قیادت میں قائم پاک سرزمین پارٹی کے درمیان دشنام طرازی کی گولہ باری میں شدت آ گئی ہے۔ اتوار کے روز پاک سرزمین پارٹی نے اسی جگہ اپنا جلسہ کیا جس جگہ نومبر میں ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں قائم ایم کیو ایم ’’پاکستان‘‘ نے کیا تھا، دونوں نے اپنے اپنے جلسوں کو عوام کا سمندر قرار دے کر حاضرین کی تعداد لاکھوں میں، جبکہ دونوں نے اپنے مخالف کو جلسہ کے بجائے ’’جلسی‘‘ سے تشبیہہ دی ہے، حاضری کے دعوے اپنی جگہ، مگر امر واقعہ یہ ہے کہ دونوں نے اپنے جلسے کسی بڑے میدان میں کرنے کی بجائے لیاقت آیاد کے ’’فلائی اوور‘‘ پر کئے وہ بھی کرسیوں پر، فلائی اوور کی لمبائی اور چوڑائی کو ملا کر دیکھ لیا جائے تو اندازہ ہو جائے گا،جتنا بھی مبالغہ کر لیا جائے حاضری ہزاروں سے زیادہ نہیں ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر فاروق ستار اور پاک سرزمین پارٹی کے سید مصطفےٰ کمال کی ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ ان دونوں کے ادوار میں چائنہ کٹنگ کے ذریعے سرکاری، رفاعی پلاٹوں اور نجی املاک پر قبضوں کے حوالے سے سپریم کورٹ میں کیس زیر سماعت ہے۔ سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ کراچی میں 35ہزار پلاٹوں پر قبضے کر کے چائنہ کٹنگ ہوئی اور غیر قانونی تعمیرات کی گئی ہیں۔ اس حوالے سے ’’نیب‘‘ نے سابق سٹی ناظم سید مصطفےٰ کمال کو بھی نوٹس دیا، جس میں ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے دورِ نظامت میں محمود آباد میں واقع کراچی ٹریٹمنٹ پلاٹ کی قیمتی اراضی غیر قانونی طریقہ پر چائنہ کٹنگ کر کے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو الاٹ کی تھی، اس کیس میں ’’نیب‘‘ کی طرف سے نوٹس پر سید مصطفےٰ کمال نے ’’نیب‘‘میں پیش ہونے کے بعد شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’مجھے اس طرح ڈیل نہیں کیا جا سکتا‘‘ ، ’’نیب‘‘ نے اس وقت نوٹس بھیجا جب پاک سرزمین پارٹی عوام میں مقبول ہو گئی ہے اگر میری پارٹی عوام میں مقبول نہ ہوتی تو مجھے ’’نیب‘‘ نوٹس نہ بھیجتی۔ سید مصطفےٰ کمال نے آرمی چیف سے اپیل کر دی ہے کہ وہ کراچی آپریشن کے ساتھ ڈویلپمنٹ بھی اپنے ہاتھ میں لیں، ترقیاتی کاموں کے بغیر کراچی آپریشن کامیاب نہیں ہو سکتا، مصطفےٰ کمال نے بلوچستان کی طرح ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے سنگین جرائم میں ملوث نوجوانوں کے لئے عام معافی دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ دوسری طرف ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا ’’وہ لوگوں کو بے گھر کرنے کا آپریشن بند کرائے‘‘۔واضح رہے کہ کراچی کی ضلعی انتظامیہ اور کے ڈی اے مشترکہ طور پر سپریم کورٹ کے حکم پر چائنہ کٹنگ کے ذریعے غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کرنے کی کارروائیاں کر رہی ہے۔اگرچہ یہ کام نیم دلی سے ہو رہا ہے اور بعض جگہ سرکاری اہلکار اس کو ناکام بنانے کے لئے غلط معلومات فراہم کر رہے ہیں،مگر اس کے باوجود غیر قانونی الاٹمنٹ کے ذریعے قائم تجاوزات کی مسماری کا کام ہو رہا ہے،جن کی پشت پناہی کے لئے ڈاکٹر فاروق سرگرم ہو گئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے اس سے انصاف کے تقاضے پورے ہونے کے بجائے انصاف کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔ سپریم کورٹ سے کہتا ہوں کہ اس آپریشن کو بند کرائے، لینڈ مافیا کے بڑے مگر مچھوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہا ہے۔ قبضہ مافیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے وہ کچھ اِدھر ہو گئے اور کچھ اُدھر ہو گئے‘‘۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے غیر قانونی تجاوزات سے متاثر ہونے والے مالک مکانات کو معاوضہ ادا کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا ہے کہ جن مکانات کو گرایا جا رہا ہے۔انہوں نے اس کی قیمت ادا کر کے یہ اراضی حاصل کی تھی۔ ان کے پاس لیز کے کاغذات ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار ہوں یا مصطفےٰ کمال ہوں۔اس معاملے میں دونوں کے دامن صاف نہیں ہیں،مگر بدقسمتی یہ ہے کہ پیپلزپارٹی جو گزشتہ دس سال سے تواتر کے ساتھ سندھ میں حکومت کر رہی ہے اس کا دامن سرکاری زمینوں کی بندر بانٹ کے حوالے سے مصطفےٰ کمال اور ڈاکٹر فاروق ستار سے کہیں زیادہ داغ دار ہے۔ اس لئے سپریم کورٹ کے حکم پر چائنہ کٹنگ کے ذریعے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے شہر کا حلیہ بگاڑنے میں ایم کیوایم اور پیپلزپارٹی برابر کی حصہ دار ہیں اور جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا کردار بھی مجرمانہ رہا ہے اللہ کرے سپریم کورٹ کسی وقت اس کا بھی نوٹس لے۔ پیپلزپارٹی کی حکومت نے ’’مزار قائد ایکٹ‘‘ میں مزار قائد کے چاروں اطراف تین میل کے علاقے میں مزارِ قائد سے بلند عمارات پر جو قانونی پابندی عائد کی تھی اس کی مٹی بھی پلید کر کے دکھائی گئی۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کی مخلوط حکومت نے قانون کی صریح خلاف ورزی کر کے طارق روڈ پر مزار قائداعظم سے بلند عمارت بنانے کی اجازت دی، جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے مزار قائد سے بلند عمارتوں کی لائن لگ گئی ہے۔ کراچی میں پانی کا شدید بحران بھی قانون کی صریح ورزی کر کے ایسی ہائی رائز بلڈنگوں کی تعمیرات سے پیدا ہوا ہے، جس پر اب سپریم کورٹ نے تاحکم ثانی پابندی عائد کر دی ہے۔جب تک ہائی رائز بلڈنگ تعمیر کرنے والے پانی کی فراہمی کی ضمانت فراہم نہ کریں اور نکاسی آب کو یقینی نہ بنائیں یہ پابندی نہ ہٹائی جائے۔

مزید : ایڈیشن 2