ملتان جوڈیشل کمپلیکس منتقلی تنازعہ، چیف جسٹس کی مداخلت پر مسئلہ حل!

ملتان جوڈیشل کمپلیکس منتقلی تنازعہ، چیف جسٹس کی مداخلت پر مسئلہ حل!

انصاف کی جلد اور بروقت فراہمی کے لئے گذشتہ کئی دھائیوں سے کام ہو رہا تھا کیونکہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے نظام میں ایسے اذیت ناک ستم ہیں کہ فوجداری مقدمات تو اک طرف دیوانی کے مقدمات کا فیصلہ دادا کی طرف سے دائر کردہ درخواست کو پوتا بھگتتا پھر رہا ہوتا ہے فوجداری کا حال بھی اس سے کم نہیں یہی وجہ تھی کہ گذشتہ حکومتوں نے بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر عدالتی نظام کی بہتری اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کے لئے مختلف پلان مرتب کئے تھے جن میں جج صاحبان کے لئے مراعات کے ساتھ عملے کی تربیت اور ان کے لئے بھی مراعات ججوں کی تعداد میں اضافہ اور نئے جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر شامل تھی۔ خصوصاً ایسے شہروں میں جہاں آبادی کے ساتھ ساتھ مقدمات میں بھی اضافہ ہوا جس کے لئے ایشیائی ترقیاتی بنک نے حکومت پنجاب کے ساتھ مل کر نئے اور جدید جوڈیشنل کمپلیکس تعمیر کرنے کا معاہدہ کیا اور گذشتہ کافی عرصہ سے اس پر کام جاری تھا ملتان بھی ان شہروں میں شامل تھا جہاں گذشتہ پانچ سال سے زیادہ عرصہ سے متی تل روڈ پر زمین حاصل کر کے جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر شروع کی گئی جس پر مقامی وکلاء تنظیموں کو بھی اعتماد میں لیا گیا اور انہیں یقین دلایا گیا کہ وکلاء کے لئے بار رومز کے ساتھ چیمبرز کے لئے جگہ کی فراہمی اور سائلین کے لئے باعزت انتظار گاہوں کی تعمیر کا انتظام بھی کیا جائے گا مگر بوجوہ جیسے تیسے جوڈیشنل کمپلیکس تو مکمل کر لیا گیا مگر باقی تمام سہولتیں ناپید تھیں جس پر وکلاء برادری نے اپنے اپنے پلیٹ فارمز سے اس پر شدید احتجاج کیا اور وہاں کچہری کی منتقلی کو مسترد کر دیا اور تحریک شروع کر دی اس دوران حکومتی اور عدلیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے وکلاء تنظیموں کو یقین دھانی بھی کرائی لیکن وکلاء نہ مانے اور ہڑتالوں اور جلسے جلسوں کا سلسلہ شروع کردیا جبکہ اس دوران اچانک ایک دن ضلع کچہری کو نئے کمپلیکس میں منتقل اور عدالتی کام شروع کر دیا گیا جس پر وکلاء نے شدید رد عمل ظاہر کیا اور نئے کمپلیکس میں نہ صرف توڑ پھوڑ کی بلکہ وہاں عدالتوں میں پیش ہونے سے انکار کر دیا جس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عظمت سعید خود ملتان تشریف لائے اور حالات کا جائزہ لے کر کچہری کو دوبارہ پرانی جگہ منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا اور ساتھ ہی حکم جاری کیا کہ تین ماہ کے اندر تمام وہ سہولتیں فراہم کی جائیں جو نہ صرف وکلاء برادری بلکہ سائلین کے لئے بھی ضروری ہیں اب صورت حال یہ ہے کہ نئے جوڈیشنل کمپلیکس سے کچہری واپس آچکی ہے ایک بات اہم ہے کہ اس معاملے کو اگر دونوں فریق کسی مثبت پس منظر میں دیکھ کر پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیتے توعوام میں عدلیہ اور وکلاء برادری کے لئے احترام کا جذبہ بڑھ سکتا تھا۔

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر و سینٹر سراج الحق نے اپنی سیاسی لڑائی کو ظالموں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور حکمرانوں کے خلاف قرار دیا اور کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو کہتا ہوں کہ آپ کو اللہ نے پکڑا ہے آپ کو اسلامی نظریہ کے لئے عملی اقدامات نہ کرنے ملک میں سیکیولر ازم کا نعرہ لگانے اور توہین رسالت کے قانون کو تبدیل کرنے والوں کو چھپانے پر نکالا گیا سپریم کورٹ شعر و شاعری نہ کرے بلکہ پانامہ پیپر میں شامل تمام افراد کو قرار واقعی سزا دے امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ترقیاتی فنڈز لاہور پر خرچ کئے جا رہے ہیں مسلم لیگ ن پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عوام کو دھوکہ دیا کرپٹ حکمرانوں سے ملکی سلامتی کو خطرہ ہے ہمیں اسلامی نظام رائج کرنا ہو گا ۔

ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے قائم مقام سربراہ عمران نور نے مبینہ طور پر 92 کروڑ سے زائد کی رقم ہڑپ کر لی ڈپٹی کمشنر ملتان، ایم ڈبلیو ایم سی کے سیکرٹری تھے ان بے ضابطگیوں پر چشم پوشتی اختیار کئے رکھی اور کوئی نوٹس نہ لیا لیکن آڈٹ ٹیم نے بھانڈا پھوڑ دیا آڈٹ ٹیم نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ بورڈ آف ڈائریکٹر کی میٹنگ کے منٹس کی جو کاپی آڈٹ ٹیم کو فراہم کی گئی مشکوک ہے اور اس پر موجود چیئر مین کے دستخط جعلی ہیں چیئر مین کے زیادہ تر دستخط ایک دوسرے سے میچ نہیں کرتے اور منٹس آف میٹنگ کی کاپیاں تبدیل شدہ ہیں آڈٹ ٹیم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، حقائق چھپائے گئے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں جو فیصلے کئے گئے ان کے تمام حقائق کو بھی تبدیل کیا گیا۔ ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اس کے پہلے سربراہ شہر یار کے جانے کے بعد کمپنی کے معاملات چلانے کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے اپنے چیئر مین کی سربراہی میں یہ فیصلہ کیا کہ عمران نور کو کمپنی کا عارضی چارج دیا جائے، جب تک کوئی کمپنی کا نیا ایم ڈی تعینات نہیں ہوتااور اس میٹنگ میں یہ بھی طے ہوا کہ عمران نور صرف ایک لاکھ کی رقم سے زیادہ استعمال نہیں کر سکتے۔قائم مقام ایم ڈی ملتان ویسٹ مینجمنٹ عمران نور نے کروڑوں روپے کی رقم نکلوا کر خورد برد کر لی۔ ایم ڈی ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی عمران نور نے موقف اختیار کیا ہے کہ میں ایک لاکھ کی رقم سے زائد رقم نہیں نکلوا سکتا تھا تو کیسے 92 کروڑ روپے ہڑپ کر سکتا ہوں جبکہ تمام مالی معاملات کی رپورٹ ڈپٹی کمشنر ملتان کو بھی دی جاتی تھی اور ان کو بھی تمام معاملات سے آگاہ رکھا جاتا تھا آڈٹ پر تمام معاملات کھل کر سامنے آگئے اب دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کیا کرتی ہے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ارکان ایم پی اے محمد علی کھوکھر اور ایم پی اے شہزاد بھٹہ کا کہنا ہے کہ ہم ارکان برائے نام ہوتے ہیں اور صرف تجویز دے سکتے ہیں اصل کام چیئر مین اور سیکرٹری کا ہوتا ہے اب اگر چیئر مین غیر حاضر تھے تو تمام معاملات سیکرٹری کے سپرد ہوتے ہیں جو کہ ڈپٹی کمشنر ملتان تھے۔

ایشیاء کے ممتاز صوفی بزرگ ہفت زبان صوفی شاعر اور سرائیکی زبان تہذیب و ثقافت کو جلا بخشنے والی عظیم شخصیت حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے 120 ویں عرس مبارک کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز دربار فریدؒ پر غسل اور چادر پوشی کی تقریبات سے بعد ہو گیا افتتاحی تقریب میں پیر آف کوٹ مٹھن شریف خواجہ محمد عامر کوریجہ، سجادہ نشین دربار فرید خواجہ معین الدین مجبوب کوریجہ کے علاوہ مشائخ اکابرین نے کثیر تعداد میں شرکت کی اس موقع پر پیر آف کوٹ مٹھن خواجہ محمد عامر فرید کوریجہ نے پاکستان کی سلامتی استحکام اور عالم اسلام کی اتحاد بارے خصوصی دعا کرائی۔ مزار فریدؒ پر خواجہ فرید فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام عظمت فریدؒ کانفرنس کے پہلے سیشن کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت سجادہ نشین خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ نے کی اس موقع پر انہوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ برصغیر پاک و ہند میں دین اسلام کی ترویج میں صوفیا کرام کا کردار اہم رہا ہے اور خواجہ فریدؒ ان میں اہم نام ہے پہلی مجلس میں صوبائی ناظم اعلیٰ جماعت اہلسنت علامہ حافظ فاروق خان سعیدی و زکریا اکیڈمی کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد صدیق خان قادری نے حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے درس پر روشنی ڈالی۔

مزید : ایڈیشن 2