سیاسی جماعتیں پرانے راگ نئے انداز میں الاپنے لگیں،مذہبی جماعتوں کو اسلامی نظام اور سیاسی پارٹیوں کو غریبوں کے حقوق کی یاد ستانے لگی

سیاسی جماعتیں پرانے راگ نئے انداز میں الاپنے لگیں،مذہبی جماعتوں کو اسلامی ...

خیبر پختونخوا میں پرانے سیاسی راگ نئے انداز میں الاپے کئے جارہے ہیں قبل از وقت اسمبلیوں کے تحلیل ہو نے کے خد شے کے پیش نظر ساڑھے چار برسوں تک غائب رھنے والے سیاسی رہنما میدان میں اتر آئے ہیں پختون کے حقوق اور غریبوں کے طرز زندگی کا غم ان لیڈروں کو ایک مر تبہ پھر کھا ئے جا رہا ہے اسلام آباد اقتدار کی رنگنیوں میں گم مذہبی جماعتوں کو ایک مرتبہ پھر اسلامی نظام کے نفاز کا خیال آ گیا مذہبی جماعتیں اس بات پر زور دئے رہی ہیں کہ عوام خصوصاً غریب لوگوں کے مسائل کا حل اسلامی نظام کے نفاذ میں ہے اور یہ مقدس فر یضہ صرف مذہبی جماعتیں ہی انجام دئے سکتی ہیں اس مقصد کے لئے مذہبی جماعتیں ایک مر تبہ پھر متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے پلیٹ فارم پر متحدہ ہو چکی ہیں تاہم اس مر تبہ جے یو آئی س کے سر براہ مولانا سمیع الحق نے ایم ایم اے کی بجائے تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی اتحاد کر لیا مولانہ سمیع الحق جے یو آئی ف اور جماعت اسلامی کی قیادت سے ناراض ہیں اس ناراضی کا عملی اظہار انہوں نے ایم ایم اے میں شمولیت سے انکار کی صورت میں کیا ایم ایم اے کے فعال ہو نے کے بعد ایک ماہ کے اندر جے یو آئی ف اور جماعت اسلامی کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے علیحدگی کا اعلان کر نا ہے یہ مدت اب اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے مگر حالات واقعات بتارہے ہیں دونوں جماعتیں اقتدار کی کر سی چھوڑنے پر بظاہر آمادہ نہیں ہیں دونوں جماعتیں تا خیری حر بے استعمال کر کے وقت کو طول دینے کے چکر میں پڑی ہو ئی ہیں لیکن آخر کب تک بالآخر دونوں جماعتوں کو اپنی اپنی مخلوط حکومتوں سے الگ ہو نا پڑئے گا جس کا سب سے بڑ ا نقصان خیبر پختونخوا کی حکومت کو ہو گا جماعت اسلامی کے الگ ہو نے کی صورت تحریک انصاف کی حکومت کو اسمبلی میں سادہ عددی اکثریت کے ساتھ حالات کا سامنا کرنا پڑئے گا وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اپنی تقاریر میں یہ دعوئے کر رہے ہیں کہ جماعت اسلامی کے الگ ہو نے کے باوجود وہ اپنی اکثریت قائم رکھنے کی پوزیشن میں ہیں ان کی حکو مت کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا مگر واقفان حال کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اس ممکنہ صورتحال سے پریشان نظر آتے ہیں اور ان کی بھی یہ کوشیش ہے کہ جماعت اسلامی حکومت سے علیحدگی کے معاملے کو زیادہ سے زیادہ طول دئے بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ جنوری کے آخر میں جماعت اسلامی صوبائی حکومت سے الگ ہو سکتی ہے جس کے بعد صوبائی حکومت کی بھاگ پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کے ہاتھ آجائے گی اور خیبر پختونخوا میڈ کوئی چھوٹا یا بڑا سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے ۔

اس وقت تمام سیاسی جماعتیں فاٹا انضمام کے ایشوکو اپنے جلسوں اور ریلیوں کا عنوان بنا رہے ہیں تحریک انصاف نے تو باقائدہ تحریک شروع کر نے کا بھی اعلان کر دیا ہے جبکہ قومی وطن پارٹی عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر تمام جماعتیں فاٹا کو خیبر پختونخوا میں جلد از جلد ضم کر نے کے مطالبات کر رہی ہیں وفاق کی طر ف سے باربار اعلان کے باوجود فاٹا اصلاحات کا بل قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جا سکا اس بل کے منظور ہونے سے لاکھوں قبائیلی عوام کو انصاف کے حصول کے لئے اعلٰی عدالتوں تک رسائی کا حق مل جائیگا فاٹا کے انضمام میں ان لاکھوں گاڑیوں کے مستقبل کا بھی فیصلہ کیا جانا ضروری ہے جو نان کسٹم حیثیت میں مختلف قبائیلی علاقوں میں موجود ہیں ان گاڑیوں کی لاگت ایک کھرب روپے سے زائد بتائی جاتی ہے یقیناًحکومت ان گاڑیوں کو قانونی شکل دینے کے لئے کو ئی سکیم معتارف کر ائے گی اسی خیال کے پیش نظر قبائیلی علاقوں میں نان کسٹم گاڑیوں کی قیمتوں میں 50سے 100فیصد اضافہ ہو چکا ہے اس کے ساتھ ہی اس کے خریداروں کی تعداد بھی آئے روز بڑھتی جارہی ہے اب دیکھنا یہ ہو گا کہ وفاقی حکومت لاکھوں کی تعداد میں ان گاڑیوں کے مستقبل کا کیا فیصلہ کر تی ہے فی الحال قبائیلی علاقے ایک مر تبہ پھر دھشتگردی کی نئی لہر کا سامنا کر رہے ہیں دھشتگردی کی اس نئی لہر میں مسلسل سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنایاجارہا ہے تازہ ترین واقعات میں باجوڑ میں افغان دھشتگردوں کے حملے میں ایف سی کے تین اھلکار شہید ہو ئے یہ اھلکار پاک افغان سرحدی علاقے میں چیک پوسٹ بنانے میں مصروف تھے کہ اچانک سرحد پار سے دھشتگردوں نے حملہ کر دیا دوسری کاروائی میں شمالی وزیر ستان کے علاقہ غلام خان میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ میں ایف سی کے مزید تین اھلکار شہید ہو ئے غلام خان کا علاقہ بھی پاک افغان سرحد پر واقع ہے مذکورہ دونوں واقعات سمیت دھشتگردوں کے حالیہ حملے سرحد پار سے کئے گئے سرحد پا رسے سیکورٹی فورسز پر حملوں میں تشویشناک حد تک اصافہ ہو چکا ہے امسال کرسمس کے موقعے پر دھشتگردحملوں کے خدشات کا اظہار کیا گیا جس کے پیش نظر صوبے پھر سے خصوصاً افغانستان سے آنے والے تمام راستوں کی سیکورٹی انتہائی سخت کردی گئی القدس کے بارئے امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ مذموم فیصلے نے خطے میں حالات کو کشیدہ کر رکھا ہے افغانستان میں پنپنے والے داعش اور پاکستان طالبان کو عیسائی برادری پر حملے کرنے کا جواز مل گیا ہے جسے روکنے کے لئے سیکورٹی ادارئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارئے سیکورٹی اداروں کو ان کے نیک مقاصد میں کامیاب کرئے آمین ......

مزید : ایڈیشن 2