اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے والی فلسطینی بچی کا 4 روزہ ریمانڈ

اسرائیلی فوجی کو تھپڑ مارنے والی فلسطینی بچی کا 4 روزہ ریمانڈ

تل ابیب (این این آئی)اسرائیل کی عوفر فوجی عدالت نے زیرحراست فلسطینی لڑکی عہد تمیمی کی حراست میں چار روز کی توسیع کرتے ہوئے اسے تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کردیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق صہیونی فوجیوں کو تھپڑ رسید کرنے کے واقعہ سے شہرت حاصل کرنے والی 16 سالہ لڑکی عہد تمیمی کی حراست میں توسیع ملٹری پراسیکیوٹر کی درخواست پر کی گئی ہے۔عہد تمیمی کواپنے گھر کے باہر کھڑے اسرائیلی فوجیوں کو دھکے دینے اور انہیں تھپڑ مارنے کے بعد حراست میں لیا گیاتھا۔ گرفتاری کے بعد اسے کسی قسم کی تفتیش نہیں کی۔ گذشتہ روز اسے عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے عہد کو تفتیش کے لیے چار روز کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا۔ اسرائیلی فوج نے عہد کے والد، والدہ اور ایک اور قریبی عزیزہ کو بھی حراست میں لیا تھا تاہم والدین کو رہا کردیا گیا ہے۔خیال رہے کہ عہد تمیمی کی جانب سے قابض صہیونی فوجیوں کو تھپڑ مارنے اور بعد ازاں قابض فوج کے ہاتھوں اسے اذیتیں دینے کے معاملے نے عالمی توجہ حاصل کی تھی۔

عہد تمیمی نے اپنے گھر کے باہر محاصرہ کرنے والے فوجیوں کو وہاں سے نکل جانے کو کہا تاہم قابض فوجی وہیں کھڑے رہے۔ اس پر عہد نے قابض فوجیوں کو تھپڑ مارے۔ بعد ازاں منگل کی شب اسرائیلی فوج نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا اور گھر میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کے بعد عہد کو حراست میں لینے کے بعد حراستی مرکز منتقل کردیا گیا۔عہد تمیمی کی اسرائیلی فوجیوں کو تھپڑ مارنے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو اسے بڑے پیمانے پر پذیرائی ملی تھی۔

مزید : عالمی منظر