قائمہ کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہ دکھانے کا نوٹس لے لیا

قائمہ کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہ دکھانے کا نوٹس لے لیا

اسلام آباد (آئی این پی) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے نقشوں میں مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ نہ دکھائے جانے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام محکموں میں پاکستان کے نقشوں واپس اپنی حالت پر لا نے کی ہدایت کی ہے اور کہاہے کہ سارا جموں کشمیر پاکستان کا حصہ ہے ، اگر کلبھوشن کو ان کے خاندان سے ملایا جا سکتا ہے تو کیا وزارت خارجہ عافیہ صدیقی کو ان کے رشتے داروں سے ملانے کے لئے کوششیں نہیں کرسکتا،کمیٹی نے چاروں صوبائی لیبر سیکرٹریز کے اجلاس میں نہ آنے پر برہمی کا اظہار کر تے ہوئے ا ن کی طلبی کا سمن جاری کردیا،چیئرمین کمیٹی بابر نواز خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ نہیں آئے ان کو سمن جاری کر کے طاقت کے ذریعے لایا جائے، گھی سیدھی انگلی سے نہیں نکل رہا، چاروں چیف سیکرٹریز کو بھی کہا جائے کہ اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا، حطار میں فیکٹری میں ہونے والے حادثے کو ، تین گھنٹے حادثے کو چھپایا گیا۔اجلاس میں مستحکم سٹیل مل حطار میں ہونے والے حادثے کے بارے میں بحث کی گئی ۔شازیہ ثوبیہ نے کہا کہ میں نے لاپتہ افراد کے کمیشن کی رپورٹ کی تفصیلات مانگی تھیں، میرے ایجنڈے کے معا ملے میں تاخیر پیدا کی جارہی ہے ، شازیہ ثوبیہ نے اجلاس سے واک آؤٹ بھی کیا تاہم دیگر ارکان کمیٹی انہیں منا کر واپس لے آئے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا جومعاملہ عدالت میں ہو ہم اس پر بحث نہیں کر سکتے ۔منزہ حسن نے کہا کہ کشمیر میں ہونے والا ظلم بین الاقوامی میڈیا نے اٹھایا، ہماری وزارت خارجہ نے نہیں اٹھایا ۔ اجلاس میں بادشاہی مسجد سے چرائے گئے نعلین پاکؐ کا معاملہ بھی زیر غور آیا، کمیٹی نے اس معاملے کو اگلے اجلاس کے ایجنڈے پر رکھ دیا جبکہ خواتین کو کام کرنے کی جگہوں پر ہراساں کئے جانے سے تحفظ سے متعلق ترمیمی بل 2017 کو بھی اگلے اجلاس کے ایجنڈے میں بھجوادیا گیا ہے۔

قائمہ کمیٹی

مزید : علاقائی