خیبر پختونخوا کے محکمہ پراسیکیوشن کی کارکردگی صفر ، کیوں نہ بند کر دیں : سپریم کورٹ

خیبر پختونخوا کے محکمہ پراسیکیوشن کی کارکردگی صفر ، کیوں نہ بند کر دیں : ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )سپریم کورٹ کے جج جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دئیے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے محکمہ پراسیکیوشن پر عو ا م کے کروڑوں روپے خرچ کر کے کارکردگی صفر ہی رہنی ہے تو کیوں نا اس محکمے کو بند کر دیں۔سپریم کورٹ کے جسٹس دوست محمد خان کی سر بر اہی میں دو رکنی بنچ نے خیبر پختونخوا کے محکمہ پراسیکیوشن پرشدید برہمی کا بھی اظہار کیا،ضمانت کے دو مختلف فوجداری مقدمات کی سماعت کے دوران جسٹس دوست محمد خان نے کہا خیبر پختونخوا حکومت کو 2013میں فرانزک لیب بنانے کا کہا گیا لیکن وہ نہ بنائی گئی۔جسٹس قاضی فا ئز عیسٰی کا کہنا تھا اگر فنگر پرنٹ اور فرانزک آگیا تو تفتیشی آفیسر کیس کا رخ نہیں موڑ سکیں گے، جسٹس دوست محمد نے کہا انصاف کرنا عدالت کا کام ہے، اگر حقائق ہی عدالت کے سامنے نہ ہوں گے تو انصاف کیسے ہوگا، پراسیکیوشن کے محکمہ کی نا اہلی کی وجہ سے ضمانت کے چھوٹے چھوٹے مقدمات بھی سپریم کورٹ میں آتے ہیں، پراسیکیوشن پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں لیکن کارکردگی صفر ہے ، یہ عوام کے ٹیکسو ں کا پیسہ ہے، اگر اس محکمے نے کار کردگی نہیں دکھانی تو اسے بند ہی کیوں نا کر دیں۔جسٹس دوست محمد کا کہنا تھا ترقی یافتہ قوموں اور ہمارے بطور قوم رویے میں زمین آسمان کا فرق ہے، بعد ازاں عدالت نے مانسہرہ میں فائرنگ کے ملزم مجیب کی ضمانت منسوخ جبکہ قتل کے ملزم جہا نز یب کی ضمانت ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض قبول کر لی۔

سپریم کورٹ

مزید : علاقائی