محکمہ سکول ایجوکیشن کی سالانہ کارکردگی ملی جلی رہی

محکمہ سکول ایجوکیشن کی سالانہ کارکردگی ملی جلی رہی

لاہور (حافظ عمران انور)محکمہ تعلیم سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی 17۔2016 کی کارکردگی ملی جلی رہی ۔سال کے اختتام تک تعلیمی نظام میں اصلاحات لانے کے پنجاب حکومت کے دعوے صرف نعروں تک ہی محدود رہے ۔ محکمہ تعلیم کی طرف سے جاری اعداداوشمار کے مطابق پنجاب کے سکولوں میں اس وقت بچوں کی انرولمنٹ ایک کروڑ 22لاکھ کے لگ بھگ بتائی جا رہی ہے جبکہ آزاد ذرائع کے مطابق اس وقت سکولوں میں بچوں کی انرولمنٹ ایک کروڑ 5لاکھ کے قریب ہے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کے 44ہزار سکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی ہے ،600سے زائد سکولوں میں ہیڈ ماسٹرز ہی تعینات نہیں ہیں جبکہ اب تک صرف 2805 سکولوں کوہی اپ گریڈ کیا جا سکا ہے ۔تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم پنجاب کی گزشتہ دو برسوں کی کارکردگی جہاں ناقص رہی وہاں سکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی کو دور کرنے اور اکیڈیمیک سسٹم میں نئے اساتذہ کی بھرتی جیسے اچھے کام بھی ہوئے ۔محکمہ سکول ایجوکیشن کی جائزہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق 17۔2016 میں 70,142اساتذہ کو بھرتی کیا گیا جبکہ 2008سے لے کر 2017تک 2لاکھ 57ہزار اساتذہ کو بھرتی کیا گیا ہے۔ پچھلے تین برسوں میں طلبہ کو کوالٹی ایجوکیشن دینے کے لئے 4لاکھ سے زائد اساتذہ کو تربیت دی گئی ۔پنجاب بھر کے سکولوں میں طلبہ کی طرف سے میٹرک امتحانات میں کامیابی کی شرح 81.3فیصد رہی۔2015میں آٹھویں جماعت کے بچوں کے پاس ہونے کی شرح 68فیصد تھی جبکہ 2017میں یہ تعداد 82.63فیصد رہی ۔اس طرح 15۔2014 میں نویں جماعت میں پاس طلبہ کی شرح 38فیصد تھی جبکہ موجودہ سال 2017میں یہ تعداد 52.28فیصد رہی اسی طرح 2014 میں پانچویں کلاس کے طلبہ کی پاس ہونے کی شرح 59.97تھی جبکہ 2017میں یہ شرح 82.69فیصد رہی ۔سپیشل سیکرٹری سکول ایجوکیشن رانا حسن اختر نے روزنامہ پاکستان سے17 ۔2016 میں محکمہ کی کارکردگی کے حوالے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ8۔ 2007 میں سکولوں کو صرف 63ملین روپے فراہم کئے گئے تھے جبکہ 17۔2016 میں سکولو ں میں اب تک 345.6ملین روپے دئیے گئے ہیں ۔اس طرح 44ہزار سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے گزشتہ پانچ برسوں میں 26بلین روپے خرچ کئے گئے ہیں ۔ سکولوں کی موثر مانیٹرگ کے باعث نکمے اور غیر حاضر اساتذہ کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا ہے اور ان کے خلاف بلا تفریق کارروائی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ امتحانات میں ناقص کارکرگی اور مسلسل غیر حاضر رہنے والے 9ہزار ٹیچرز کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے اور انہیں سزائیں بھی دی گئی ہیں ۔جس کی وجہ سے اس سال سکولوں میں اساتذہ کی حاضری 90فیصد سے زائد رہی ہے ۔اور اساتذہ کے سکولوں میں حاضر رہنے کی وجہ سے بچوں کے امتحانی نتائج بھی بہتر ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ سکولوں میں بچوں کی حاضری بھی 91فیصد سے تجاوز کر گئی ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے ۔سکولوں میں ترقیاتی کاموں کی غرض سے اس سال 37بلین کے قریب نان سیلری بجٹ دیا گیا ہے۔جس سے سکولوں کے انفراسٹرکچر میں بہتری آئی ہے۔رانا حسن اختر نے کہا کہ تجرباتی طور پر پنجاب کے 16اضلاع میں زیور تعلیم پروگرام شروع کیا گیا ہے جس کے بہت مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔زیور تعلیم پروگرام کے تحت پنجاب کے 16اضلاع میں زیر تعلیم 6سے 10سال تک کی 4لاکھ 48ہزار بچیوں میں خدمت کارڈ کے ذریعے ایک ہزار روپے ماہانہ فراہم کئے جا رہے ہیں تا کہ بچے اپنے والدین پر بوجھ نہ بنیں۔

مزید : علاقائی