ملکی قرضوں کی تفصیلات منظر عام پر لانے کیلئے حکومت کو خط

ملکی قرضوں کی تفصیلات منظر عام پر لانے کیلئے حکومت کو خط

لاہور(نامہ نگارخصوصی )ملک کے بڑھتے ہوئے قرضہ جات کی تفصیلات منظر عام پر لانے کے لئے حکومت پاکستان کو خط لکھ دیا گیا ہے،خط میں ملکی معاشی صورتحال کا موجود معیار اور 5 سال میں لئے جانے والے قرضہ جات کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں ۔یہ خط جوڈیشل ایکٹو ازم پینل کے سربراہ ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی جانب سے لکھا گیاہے ۔خط کی کاپی وزیراعظم پاکستان صدر مملکت وزیرقانون ،چیئرمین سینیٹ سمیت دیگر حکومتی اداروں کو بھجوائی گئی ہے ،خط میں 2005 ء کے متعلقہ قانون کے تحت 5 سالوں میں لئے جانے والے قرضہ جات کی تفصیلات مانگی گئی ہیں ۔خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فنانس بل ایکٹ 2017 ء کے تحت قرضہ جات کی شرح جی ڈی پی کے 60 فیصد سے زیادہ نہیں ہو سکتی جبکہ اس وقت بیرون ممالک سے لئے جانے والے قرضہ جات کی شرح جی ڈی پی کے 65 فیصد سے بھی تجاوز کر چکی ہے ۔خط میں سوال کیا گیا ہے کہ بتایا جائے فنانس بل ایکٹ 2017 ء کی خلاف ورزی پر حکومت پاکستان نے ذمہ داران کے خلاف کیا کارروائی کی ،خط میں چائینہ سمیت دیگر ممالک سے لئے جانے والے قرضہ جات ادائیگی سود اور دیگر شرائط اور معاہدوں سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیاہے ۔خط میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ حکومت نے شفافیت کے لئے ملک بھر میں ڈیٹا کوآرڈنیشن دفاتر بنانے تھے جو نہیں بنائے گئے اوراگر ملک بھر میں ڈیٹاکوآرڈنیشن دفاتر بنائے گئے تو ان پر آنے والے اخراجات اور افسران کی تعیناتیوں سے متعلق تمام تر تفصیلات فراہم کی جائیں ،خط میں حکومت سے موجودہ حکومت سے 5 سالوں میں چھاپے گئے روپوں کی تفصیلات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

قرضے؍ خط

مزید : علاقائی